سوات ایک خوبصورت وادی ہے جو ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی قدرتی حسن کی جانب کھینچ لاتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے جب قدرتی آفات آتی ہیں، تو یہی وادی بے بسی، تباہی اور آزمائش کی تصویر بن جاتی ہے ۔ حالیہ سیلاب نے جہاں گھروں کو ملیامیٹ کیا، وہیں سینکڑوں خاندانوں کو کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔
ایسے وقت میں بحیثیت قوم ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان متاثرین کی مدد کریں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض مقامات پر امداد کی تقسیم کا طریقہ کار انسانی وقار اور عزت نفس کو مجروح کرتا ہے۔ متاثرین کو قطاروں میں کھڑا کرنا، دھوپ میں گھنٹوں انتظار کروانا، اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے ان کی بے بسی کی نمائش کرنا ایک ظلم سے کم نہیں۔
جب انسان مصیبت میں گِھرا ہو، تو اس کا دل پہلے ہی غم، بے بسی اور اضطراب سے بھرا ہوتا ہے ۔ ایسے میں اگر مدد کا انداز تحقیر یا نمائش پر مبنی ہو، تو یہ زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف بن جاتا ہے ۔
متاثرینِ سیلاب کی مدد کرتے وقت اس امر کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے کہ اُن کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ امداد ایسی ہو جو خاموشی سے ، خلوص کے ساتھ، اور احترام کے دائرے میں رہ کر دی جائے ۔ کسی کی محتاجی کو نمائش کا ذریعہ بنانا نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے بھی متصادم ہے ۔
اصل نیکی وہ ہے جو دل کو سکون دے ، اور دوسرے کے دل کو بھی زخم نہ دے ۔
مدد کا مطلب صرف راشن یا مالی امداد نہیں، بلکہ عزت کے ساتھ سہولت پہنچانا بھی اصل تعاون ہے ۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم خود کسی مصیبت کا شکار ہوں تو کیا ہم اس طرح کی مدد کو قبول کریں گے؟ یقینا نہیں!
ترقی یافتہ اقوام میں آفات کی صورت میں متاثرین کو ان کے گھروں یا کیمپس تک امداد پہنچائی جاتی ہے ، ان کے وقار کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امدادی سرگرمیوں کو منظم، باوقار اور مؤثر بنائیں۔
حکومتی اداروں، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ سوات کے سیلاب متاثرین کی مدد تو کریں، مگر عزت نفس کو مجروح کیے بغیر۔ ان کے دکھوں کا مداوا صرف راشن سے نہیں، بلکہ عزت، محبت اور احترام سے بھی کیا جا سکتا ہے ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت کل کسی اور کی تھی، آج ان کی ہے ، اور کل ہماری بھی ہو سکتی ہے ۔ اگر آج ہم کسی کا بھرم رکھیں گے ، تو کل ہمارا بھرم بھی رکھا جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










