یہ سچ ہے کہ اس وقت پاکستان محض ایک قدرتی آفت نہیں، بل کہ موسمیاتی تبدیلی کے عہد میں داخل ایک پیچیدہ آبی و زمینی بحران سے گزر رہا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں خیبر پختونخوا بالخصوص بونیر، سوات، باجوڑ اور شانگلہ میں اچانک موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی۔ صرف بونیر میں تین سو سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں اور مجموعی ہلاکتیں پانچ سو سے اوپر جا پہنچیں…… جب کہ متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی نے امدادی کاموں کو اور مشکل بنا دیا ہے۔
اس تباہی کا محرک وہی ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ (Cloudburst) تھا، جس میں انتہائی مختصر وقت میں محدود علاقے پر 100150 ملی میٹر سے زیادہ بارش برستی ہے۔ بونیر میں ایک گھنٹے میں 150 ملی میٹر سے اوپر بارش ریکارڈ ہونا اسی نوعیت کی علامت ہے۔ یہ سانحہ کسی اتفاقی حادثے سے بڑھ کر بدلتے مون سون کے پیٹرن، گرم ہوتی فضا اور کم زور مقامی حفاظتی نظام کا ملا جلا نتیجہ ہے۔
کلاؤڈ برسٹ سائنسی طور پر اس وقت جنم لیتا ہے، جب نمی سے بھرپور ہوا، پہاڑی خطے کی ڈھلوانوں اور درّوں میں پھنس کر عمودی طور پر تیزی سے اوپر اٹھتی ہے۔ فضا میں عدم استحکام بڑھتا ہے اور مختصر وقفے میں بادل اپنی پوری نمی گرا دیتے ہیں۔ گرم فضا زیادہ بھاپ سنبھال سکتی ہے، اس لیے عالمی حدت (Warming) ایسے واقعات کو مزید شدید بناتی ہے، یعنی کم وقت میں زیادہ بارش۔ یہی رجحان حالیہ دنوں بھارت کے ہمالیائی علاقوں میں بھی دیکھا گیا، جو بتاتا ہے کہ یہ خطرہ پورے خطے کے لیے مشترک ہے۔
بڑی تصویر یہ ہے کہ ہمالیہ ہندوکش قراقرم (HKH) کو تیسرا قطب کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ قطبین کے سوا دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر یہیں ہیں، جو بارہ بڑی ندیاں جِیسی آبی ذخائر کو سیراب کرتے اور بہ راہِ راست دو ارب انسانوں کی زندگی سے جڑے ہیں۔ ان میں سندھ طاس نظام بھی شامل ہے، جس کی زرعی و برقی معیشت پاکستان کے لیے شہ رگ ہے۔ معتبر علاقائی ادارے "ICIMOD” کی تحقیقات کے مطابق، موجودہ عالمی حالات برقرار رہے، تو اس صدی کے آخر تک "HKH” کے گلیشیر اپنے موجودہ حجم کا 70، 80 فی صد تک کھوسکتے ہیں؛ برف پوش رقبہ واضح طور پر گھٹے گا اور دریائی نظاموں بہ شمول دریائے سندھ کی موسم بہ موسم فراہمی میں بڑی ہچکولے آئیں گے (انڈس میں بہاو کا قابلِ ذکر حصہ برف و برفابی پانی سے جڑتا ہے )۔
اسی لیے ماہرین برس ہا برس سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ پہلے مرحلے میں پگھلاو سے زیادہ پانی ملے گا۔شدید بارشوں کے ساتھ مل کر یہی اضافی ’’رَن آف‘‘ اچانک سیلابوں، مٹی کے تودوں اور دریاؤں کے طغیان کو بڑھائے گااور اگلے مرحلے میں جب برفانی ذخائر سکڑیں گے، تو خشک سالی اور پانی کی کمی کا خطرہ بڑھے گا۔ اقوامِ متحدہ کی بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کے تازہ ترین جائزوں میں جنوبی ایشیا کے لیے شدید اور طوفانی بارشوں کی شدت و تکرار میں اضافے پر اعلا درجے کے اعتماد کے ساتھ اتفاق موجود ہے؛ 1.52. 0C گرم دنیا میں مون سون کے انتہائی واقعات نمایاں طور پر بڑھتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ تمام گلیشیر یک ساں نہیں؛ قراقرم کے کچھ حصوں میں ماضیِ قریب میں نسبتاً توازن یا معمولی اضافہ دیکھا گیا، جسے قرا قرم اینوملی کہا جاتا ہے، مگر خطے کی مجموعی تصویر صاف ہے: برف اور گلیشیر کم ہو رہے ہیں، برفانی حد (Snowline) اونچی جا رہی ہے، اور 21ویں صدی میں گلیشیائی حجم میں گراوٹ اعلا یقین کے ساتھ متوقع ہے۔
دوسری طرف، پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں حصہ ایک فی صد سے بھی کم ہے، مگر آب و ہوا کی حساسیت کے اعتبار سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے؛ اسی لیے قومی سطح پر مطابقت (Adaptation) ہماری اولین مجبوری ہے اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی و تکنیکی معاونت ہمارا حق۔ پاکستان کی اپڈیٹیڈ "NDC” اور اقوامِ متحدہ کے بیانات یہی حقیقت واضح کرتے ہیں۔
عملی سمت کیا ہو؟
٭ سب سے پہلے، ابتدائی انتباہی نظاموں کو زمینی حقیقت سے جوڑنا:۔ ریڈار اور سیٹیلائٹ ناؤ کاسٹنگ سے نکلتے الرٹس کو ضلع اور تحصیل سطح پر سیل بروڈکاسٹ ایس ایم ایس، کمیونٹی واٹس ایپ گروپس، مقامی ریڈیو اور مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے فوری نشر کیا جائے۔ اس ہفتے بونیر میں لوگوں کا یہ شکوہ کہ ’’بروقت انتباہ عام نہ ہوا‘‘، ہمیں بتاتا ہے کہ تکنیکی صلاحیت تب ہی جان بچاتی ہے، جب مواصلاتی زنجیر مکمل ہو۔ صوبائی PDMA/ ضلع انتظامیہ کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز میں آخری میل الرٹس(Last-mile Alerts) کی مشق لازمی بنانی ہوگی۔
٭ دوسرا، خطرات کی نقشہ بندی اور زمین کے استعمال کے قواعد سخت کرنا:۔ دریا کے قدرتی سیلابی میدانوں (Flood Plains) پر مستقل یا کثیرالمنزلہ تعمیرات کی مرحلہ وار منتقلی، نالوں/ کھالوں کی از سرِ نو صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ، اور پہاڑی وادیوں میں ڈھلوانوں کی پائیدار انجینئرنگ (Retaining Structures)، مزاحم نکاسی کو بلدیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ جہاں آبادی اور سڑکیں سیلابی ریلوں کی زد میں ہیں، وہاں چیک ڈیمز، مائیکرو واٹر شیڈ مینجمنٹ اور قدرتی اسپل ویز بناکر ریلوں کی توانائی توڑی جائے، تاکہ بستیوں پر یک مشت ضرب نہ پڑے۔ یہ وہی منطق ہے جو عمومی طور پرچھوٹے ڈیمز کی صورت میں بیان کی جاتی ہے، لیکن اس کے لیے ’’ہائیڈرولوجی‘‘ پر مبنی سائٹ سلیکشن، باقاعدہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور کمیونٹی اُونرشپ ضروری ہیں۔
٭ تیسرا، برفانی جھیلوں اور گلیشیائی سرحدوں کی مانیٹرنگ کو جدید بنانا:۔ پاکستان میں GLOF- I/II جیسے پروگراموں نے منتخب اضلاع میں جھیلوں کی نگرانی، مقامی الرٹ سائرنز اور محفوظ انخلا کے راستوں کی پلاننگ شروع کی۔ اس اسکیم کو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی مزید وادیوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے، تاکہ پگھلتی جھیل کا خطرہ پہلے سے پہچانا جاسکے۔ یونیورسٹیوں اور سروے آف پاکستان کے ساتھ مل کر ڈرون/ سیٹیلائٹ میپنگ کی مقامی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔
٭ چوتھا، شہروں اور قصبوں کے لیے بارش جذب کرنے والا بنیادی ڈھانچا :۔ برساتی پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب (Retention/ Detention Basins)، برساتی باغات، قابلِ نفوذ فرش اور نکاسی آب کی نالیوں کی ’’ری گریڈنگ‘‘۔ اسی کے ساتھ کھیتوں اور دیہات میں آب گیر تالاب، گراؤنڈ واٹر ری چارج وَیلز، لیزر لینڈ لیولنگ اور مائیکرو آب پاشی (Drip/ Sprinkler) سے پانی بچائیں۔ توانائی کے لیے پن بجلی اور سولرونڈ کا تناسب بڑھا کر ڈیزل پمپنگ پر انحصار گھٹائیں۔ یہ سب نہ صرف لچک بڑھاتے ہیں، بل کہ طویل مدت میں لاگت بھی کم کرتے ہیں۔
٭ پانچواں، صحت و معاش کا پہلو:۔ سیلابی علاقوں میں صاف پانی، موبائل ہیلتھ کیمپس، پانی کی ٹیسٹنگ، کلورینیشن اور وبائی نگرانی (Surveillance) کو معیاری ابتدائی کِٹ کا حصہ سمجھیں۔ کسانوں کے لیے موسمی انشورنس، فصلوں کی متبادل اقسام اور آبی دباو برداشت کرنے والی بیج اسکیمیں فوری متعارف کرائیں۔ تباہ شدہ آب پاشی کھالوں کی مرمت اور بیج/ کھاد کی سبسڈی، بہ حالی کے رفتار گیر پہیے ہیں، تعیش نہیں۔
٭ چھٹا، علاقائی تعاون اور سفارت کاری:۔ ہمالیہ ہندوکش ایک مشترک آبی برفانی نظام ہے۔ اس لیے سرحد پار ہائیڈرومیٹ ڈیٹا شیئرنگ، مشترکہ گلیشیائی مانیٹرنگ، مون سون ماڈلنگ اور ڈیزاسٹر رسپانس کی ہم آہنگی پاکستان، بھارت، نیپال اور چین سب کے مفاد میں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی دلیل واضح ہونی چاہیے، ہمارا اخراج 1فی صد سے کم ہے، مگر نقصان غیر متناسب ہے۔ اس لیے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ، ایڈاپٹیشن فنانس اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر تک فوری، آسان اور پیشگی رسائی دی جائے۔ یہ خیرات نہیں، آب و ہوا کے انصاف (Climate Justice) کا تقاضا ہے۔
٭ آخرِ کلام:۔ آپ کا مرکزی مقدمہ سائنسی طور پر مضبوط ہے۔ ہمالیہ کے پگھلتے ذخائر پہلے سیلاب اور پھر کم یابی کی شکل میں پورے طاس کو جھنجھوڑیں گے اور پاکستان جیسے کم اخراج مگر زیادہ خطرے والے ملک کے لیے واحد راستہ علم پر مبنی مطابقت، مضبوط ابتدائی انتباہ، دانش مندانہ زمین استعمال اور علاقائی تعاون ہے۔ آج کے سانحات ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ قدرتی آفات دراصل سماجی و حکومتی فیصلوں کے نتائج بھی ہوتی ہیں؛ جہاں ہم نے بستی بسائی، جیسے ہم نے وادی کی ڈھلوان کاٹی، جس طرح ہم نے دریا کے راستے پر کنکریٹ بچھائیانہی انتخابوں نے خطرے کو آفت بنایا۔
اگر ہم علم، نظم اور ہمدردی کے ساتھ یہ انتخاب بدلیں تو تباہی کی رفتار سست بھی ہو سکتی ہے اور نقصان کم بھی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










