ڈی ای اُو محمد ریاض خان

Blogger Engineer Miraj Ahmad

سوات کی وادی میں آج ایک عجیب سا سکوت ہے۔ تعلیمی ادارے توبہ دستور کھلے ہیں، اساتذہ اپنی ڈیوٹی پر موجود ہیں، بچے قہقہے لگا رہے ہیں، مگر اس ماحول میں ایک کمی ہے، جو محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ کمی کسی عمارت کے گرنے، کسی امتحان کے ملتوی ہونے یا کسی پالیسی کی تبدیلی کی نہیں، بل کہ ایک ایسے شخص کے جانے کی ہے، جس نے اپنے عہدے کو خدمت کا ذریعہ بنایا…… اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ دیانت، نیک نیتی اور عوام دوستی آج بھی سرکاری نظام میں زندہ ہو سکتی ہے۔
جی ہاں، میں بات کر رہا ہوں محترم محمد ریاض خان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای اُو) سوات کی، جن کا حالیہ تبادلہ بہ ظاہر ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک عہد کے اختتام کی علامت ہے۔ وہ عہد جس میں دفتر عوام کے لیے بند نہیں، بل کہ کھلے دروازوں والا تھا۔ وہ عہد جس میں والدین، اساتذہ اور طلبہ اپنی شکایات یا مسائل کے ساتھ آتے، تو ایک ایسا شخص ملتا، جو سنجیدگی سے سنتا، سمجھتا اور حل نکالتا۔
محمد ریاض خان صاحب کی پہچان صرف اُن کا عہدہ نہیں تھا، بل کہ اُن کا نرم لہجہ، شفاف مزاج اور انسان دوست رویہ تھا۔
محترم محمد ریاض خان نے سوات کے اسکولوں کو محض عمارتیں نہیں سمجھا، بل کہ اُنھیں علم و روشنی کا مرکز بنانے کی کوشش کی۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی ذہنی و تخلیقی نشو و نما اور تعلیمی معیار کی بہتری…… یہ سب اُن کے ایجنڈے کا حصہ رہا۔
محترم محمد ریاض خان کے دور میں کئی اسکولوں میں بجلی، پانی اور فرنیچر جیسی بنیادی سہولیات فراہم ہوئیں۔ ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کی مرمت ہوئی، دیہی علاقوں کے اسکولوں تک وسائل پہنچے اور دور دراز کے اساتذہ کو وہ عزت ملی، جس کے وہ حق دار تھے۔ اساتذہ کی تن خواہوں اور تبادلوں کے معاملات میں شفافیت آئی، جس سے نظام میں اعتماد پیدا ہوا۔
اساتذہ کے مطابق،جناب ریاض خان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ فیلڈ میں موجود رہتے۔ اسکولوں کا دورہ محض رسمی کارروائی نہیں ہوتا تھا، بل کہ وہ ہر کلاس میں جاتے، طلبہ سے بات کرتے، اساتذہ سے تجاویز لیتے اور موقع پر فیصلے کرتے۔
محترم محمد ریاض خان کا ماننا تھا کہ کاغذوں پر فیصلے نہیں، میدان میں موجودگی سے فرق پڑتا ہے۔
محترم محمد ریاض خان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا صرف انتظامی نہیں، بل کہ اخلاقی اور انسانی حوالوں سے بھی ہے۔ وہ نہ صرف افسر تھے، بل کہ ایک راہ نما، ایک سرپرست اور ایک دوست تھے۔ اُن کے جانے کے بعد شاید اسکول چلتے رہیں گے، کلاسز جاری رہیں گی، لیکن وہ خلوص اور قربت جو اُنھوں نے اپنے رویے سے پیدا کی تھی، اُس کی کمی ضرور محسوس ہوگی۔
محترم محمد ریاض خان اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ سرکاری افسر چاہے، تو عوام کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ اُن کے جانے کے بعد سوات کی تعلیمی فضا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ آسانی سے پُر نہیں ہوگا۔
محترم محمد ریاض خان……! آپ کی خدمات کو یہ خطہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ آپ کا نام سوات کی تعلیمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جہاں بھی رکھے، سلامت، عزت مند اور کام یاب رکھے ، اور آپ کا سفرِ خدمت اسی خلوص اور لگن کے ساتھ جاری رہے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے