پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کے کئی خواب ٹوٹ گئے۔ تیسری دنیا میں نو آبادکاری، ولیم قیصر دوم کا جرمن کو دنیا کی برتر نسل ثابت کرنا اور یورپ کی قیادت جیسے خواب چکنا چور ہوگئے۔ 1919ء کی ’’ٹریٹی آف ورسائلز‘‘ (The Treaty of Versailles) کے بعد جرمنی کو حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھاری جرمانے، قابض زمینوں کی واپسی اور معاہدے کی متعدد شقیں جرمن قوم کی تحقیر کے لیے کافی تھیں۔ اس سے پہلے نپولین نے بھی یورپ پر فوج کشی کی تھی، لیکن فرانس کے ہارنے کے بعد نپولین کو صرف ملک بدر کیا گیا تھا۔ نپولین اور فرانس کے ساتھ یورپی طاقتوں نے سختی نہیں برتی تھی، جس کا اچھا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ بالخصوص فرانس کچھ عرصے تک جنگ سے دور رہا…… لیکن معاہدہ ورسائلز کی سخت شقوں نے ایڈولف ہٹلر کے آنے کی راہ ہم وار کردی تھی۔
ہٹلر نے آتے ہی پہلی جنگ عظیم کی شکست کا بدلہ، جرمن قوم (آریائی نسل کی شاخ) کو بر تر نسل ثابت کرنا، اینٹی کمیونزم، جپسیز کی تحقیر اور یہود دشمنی جیسے جذبات کو بڑھاوا دیا۔ یوں تو دوسری جنگ عظیم میں 2 کروڑ سے زائد روسی شہری مارے گئے تھے، لیکن خاص توجہ یہودیوں کی نسل کشی (Holocaust) کو ملی۔
ہٹلر نے اُن یہودیوں کے لیے پولینڈ اور جرمنی کے کچھ علاقوں میں 400 سے زائد "Concentration Camps” قائم کیے تھے۔ یہود دشمنی یورپ میں صدیوں سے موجود تھی۔ یہاں تک کہ ہٹلر کا پروپیگنڈا منسٹر جوزف گوئبلز یہودیوں کو ’’شیطان کا اوتار‘‘ کہتا تھا۔ یورپ میں یہود دشمنی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عیسائی حضرت عیسیٰ کے سولی چڑھانے کے لیے یہودیوں کو قصوروار سمجھتے تھے۔ یہودیوں کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق نسبتاً اچھا تھا، جس کا اعتراف اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ بِن گوریان نے اپنی کتاب میں بھی کیا کہ مسلم سپین کا دور ہمارا سنہرا دور تھا۔
لیکن بِن گوریان یہودیوں کے ساتھ اچھے برتاو کی اپنی بات بھول گئے اور ہٹلر کی راہ اپنالی۔ فلسطینی زمین پر اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے صیہونیت نظریہ بنا۔ صیہونیت فکری طور پر سب سے زیادہ نازی ازم کے قریب ہے۔ وہ نظریہ جس کی وجہ سے لاکھوں یہودی درد ناک موت مرے۔ ہٹلر کی ایک پالیسی "Lebansraum” تھی، یعنی آریائی نسل کے لیے ایک "Living Space”۔ یہ نظریہ جرمن جغرافیہ دان "Friedrich Ratzel”نے دیا تھا، جو نازی ازم سے لے کے صیہونیت تک آ پہنچا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نازی اس کا کھلم کھلا اظہار کرتے تھے، جب کہ صیہونی اس جغرافیہ کو پانے کے لیے عملی ظلم اور بربریت کا سہارا لے رہے ہیں۔ صہیونیوں کا "Eretz Isral” یعنی گریٹر اسرائیل بھی نازی جرمنی کے جغرافیہ کے پھیلاو سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔
اسرائیلی ریاست کا نظریاتی بانی "Theodore Herzl” یہودیوں کو کم زور مانتا تھا اور اس کی جگہ ایک نئے مضبوط یہودی کے پرچار کرتا تھا۔ ہٹلر دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے جرمن کو تحقیر اور ذلت آمیز دیکھتا تھا اور اس کی جگہ ایک پُروقار اور مضبوط جرمن دیکھنے کا خواہاں تھا۔ صیہونیت اپنا نظریہ تورات سے نہیں، بل کہ ’’تھیوڈر ہرزل‘‘ سے لیتا ہے، جب کہ نازی ازم بھی عیسائیت کی اخلاقیات کو کم زور سمجھتا تھا۔ دونوں نظریوں میں صرف اپنی ہی اقوام کو بر تر سمجھا جاتا ہے اور اس عمل کی تشکیل کے لیے نیشنل ازم بہ طور ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔
صیہونیت (Zionism) ایک مسلح اور ریاست وفادار یہودی کی تشکیل چاہتا ہے، جس کو وہ "New Sabra” کا نام دیتے ہیں، جب کہ "Diaspora Jews” ان کے نزدیک اس کیٹیگری میں نہیں آتے۔ نازی ازم بالکل اسی طرح ایک نئے جرمن جو مضبوط اور قوم پرست جرمن ہے، جو کہ نطشے کا "Bermensch” ہوگا۔ نازی پرانے جرمن کو کرپٹ، لاچار اور بددیانت قرار دیتے تھے۔ دونوں نظریوں میں ایک نئے انسان کی تشکیل ہو رہی ہے، جو پرانے انسان جیسا بالکل نہیں ہوگا…… اور جس کی طاقت باقی انسانوں کو کچل کے بڑھے گی۔
صیہونیت صدیوں پرانے استحصال کا بہانہ کرکے اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ جب کہ نازی ازم پہلی جنگِ عظیم اور معاہدہ ورسائلز کی تحقیر کا بدلہ لینے کا بہانہ بناتے ہیں۔ دونوں نظریوں میں ریاست مرکز ہے۔
صیہونیوں کے نزدیک اسرائیل صرف ریاست نہیں، بل کہ یہ ان کی یہودی شناخت کا جوہر ہے۔ جب کہ اس سے پہلے جرمن بھی ریاست کو اعلا مقام پہ رکھتی تھی۔
صیہونیت اور نازی ازم میں یہ مماثلتیں اتفاقاً نہیں، بل کہ دونوں نظریوں کی آپسی ہم آہنگی ہے، جو طاقت، روایات کا انکار اور اپنے سیاسی عزائم کے لیے ماضی کے حادثات کو جواز کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
صیہونیت فکری طور پر اپنے آپ کو نازی ازم کا متضاد سمجھتی ہے، لیکن اصل میں یہ اس کے بہت قریب ہے۔
اب بات کرتے ہیں "Holocaust”کی۔ کیا وجہ تھی کہ 2 کروڑ روسی شہری جنگ کا ایندھن بننے کے باوجود بھی یاد نہیں رکھے جاتے، بل کہ صرف یہودی ہی اس تاریخ کا حصہ رہ گئے؟ اس بات کا جواب فلسطینی صدر محمود عباس اپنی کتاب "The Secret Relationship Between Nazism and Zionism” میں دیتے ہیں۔ محمود عباس کہتے ہیں کہ صیہونی تحریک نے یہودی نسل کشی روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، بل کہ اس کو روکنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
عباس کے مطابق صیہونی، یہودی قتلِ عام کے خواہاں تھے، تاکہ بعد میں ہم دردی وصول کرسکیں اور اسرائیلی ریاست کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ لے۔
محمود عباس کے مطابق ’’ہالوکاسٹ‘‘ کے منصوبہ ساز "Adolf Eichmann” نے جب امریکی جریدے "Life” کو اس منصوبے کا بتایا، تو اُن کو موساد نے ارجنٹینا سے اِغوا کیا۔
عباس کے مطابق ہالوکاسٹ میں مرنے والو کی تعداد 9 لاکھ سے زیادہ نہیں اور 60 لاکھ یہودیوں کی مرنے کی بات من گھڑت ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کتنے بندے مرے؟ ایک ہزار بندہ بھی مرتا، تو بھی انسانیت کا قتل عام تھا۔ ساحر نے کیا خوب کہا ہے
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
سوال تو یہ ہے کہ نازی ازم اور صیہونیت کی وجہ سے لاکھوں لوگ مرے اور مر رہے ہیں،لیکن صیہونیوں نے بربریت میں چنگیز، ہلاکو، پول پاٹ اور ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ محمود عباس آج انکار کرسکتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم تھی، لیکن جو آج ہم اپنے ٹیلی وِژن سکرین پر بہ راہِ راست قتل عام دیکھ رہے ہیں، کیا کل کوئی انکار کرسکے گا کہ یہ قتلِ عام نہیں تھا، صدیوں سے خوش حال فلسطینی آج ایک تھیلے آٹا ملنے پر ایسا شکر ادا کر رہے ہیں، جیسے ان کو نئی زندگی ملی ہو۔ غزہ میں انسان کا مرنا انسانیت کی موت نہیں۔ انسانیت کی موت ظلم دیکھ کے چپ رہنے کا نام ہے۔
ستم ظریفی اور ظلم تو یہ ہے کہ امریکی صدر کہتا ہے کہ غزہ کی لوکیشن موناکو سے خوب صورت ہے، لیکن اس کو غزہ کے معصوم بچے نظر نہیں آتے۔ شاید "Erich Fried” نے کسی مظلوم فلسطینی کی فریاد سن کر یہ لکھا تھا کہ
’’جب ہم مظلوم تھے
میں تمھارے ساتھ تھا
لیکن ہم ایک کیسے رہ سکتے ہیں
اب جب تم ظالم بن گئے ہو!‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










