"All Government Employees Grand Alliance” (اگیگا) کی قیادت محض ایک عہدہ نہیں، بل کہ ایک قومی، عوامی اور فکری ذمے داری ہے۔
جب اس منصب پر ایک باصلاحیت، مخلص اور فہم و تدبر رکھنے والی شخصیت جلوہ گر ہوتی ہے، تو وہ نہ صرف تنظیم کو بلندیوں تک لے جاتی ہے، بل کہ سرکاری ملازمین کے دلوں میں ایک اُمید، حوصلہ اور یقین پیدا کرتی ہے۔
’’اگیگا‘‘ کے چیئرمین کی حیثیت سے ایسی ہی ایک تاریخ ساز قیادت ڈاکٹر ناصرالدین صاحب نے اپنی مدت کے دوران میں کئی کام یابیاں حاصل کیں، جو آنے والے وقتوں میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
ڈاکٹر ناصرالدین صاحب کی سب سے نمایاں کام یابیوں میں سے ایک تن خواہوں میں بے مثال اضافہ ہے۔ 2023ء میں 35 فی صد اور 2024ء میں 25 فی صد کا اضافہ حاصل کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں، بل کہ یہ برسوں کی محنت، مذاکرات، دھرنوں، پریس کانفرنسز اور پُرامن احتجاج کا نتیجہ تھا۔
ایسے حالات میں جب ملکی معیشت دباو کا شکار ہو، بجٹ محدود ہو اور حکومت مالی مشکلات سے دوچار ہو…… وہاں سرکاری ملازمین کے لیے اس سطح کا اضافہ حاصل کرنا ایک جرات مندانہ قیادت کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔
ڈاکٹر ناصرالدین صاحب کی سوچ صرف تن خواہوں اور الاؤنسوں تک محدود نہ تھی، بل کہ وہ پے اسکیل میں از سرِ نو جائزہ، مہنگائی کے تناسب سے مراعات کی بہ حالی اور سروس اسٹرکچر میں اصلاحات کے لیے بھی پوری قوت سے سرگرم رہے۔
حکومت کے متعلقہ اداروں اور اعلا حکام کے ساتھ درجنوں ملاقاتیں، مشترکہ کمیٹیاں اور مختلف فورموں پر مؤثر نمایندگی کے ذریعے ڈاکٹر ناصرالدین صاحب ہر جگہ ملازمین کی آواز بنے ۔
ڈاکٹر صاحب کی قیادت میں ’’اگیگا‘‘ نے تنظیمی سطح پر بھی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ مختلف محکموں، اداروں اور ملازم یونینوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، اُن کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا اور اُن کے اعتماد کو بہ حال کرنا وہ کام تھا، جس کی بہ دولت ’’اگیگا‘‘ ایک مضبوط، مربوط اور متحد قوت کے طور پر سامنے آئی۔
اس اتحاد نے نہ صرف تنظیم کو طاقت دی، بل کہ حکومت کو بھی باور کروایا کہ ملازمین کے حقوق پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
ڈاکٹر ناصرالدین صاحب نے ’’اگیگا‘‘ کے تنظیمی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر بھی بھرپور توجہ دی۔ نوجوان ملازمین کو قیادت میں شامل کرنا، اُن کی تربیت، ورکشاپوں اور سیمیناروں کے انعقاد کے ذریعے نئی قیادت کی تیاری کو عملی شکل دی گئی۔ یوں تنظیم صرف موجودہ قیادت پر نہیں، بل کہ آنے والے کل کے معماروں پر بھی انحصار کرنے کے قابل ہو گئی۔
ڈاکٹر ناصرالدین صاحب کا وژن یہ تھا کہ صرف موجودہ ملازمین نہیں، بل کہ ریٹائرڈ افراد بھی ’’اگیگا‘‘ کا سرمایہ ہیں۔ اس وژن کے تحت پنشنروں کے مسائل، وقت پر واجبات کی ادائی اور پوسٹ ریٹائرمنٹ مراعات کی بہ حالی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے گئے۔ اس طبقے کو وہ عزت دی گئی جس کے وہ واقعی مستحق تھے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے تنظیم کی سرگرمیوں، بیانیے اور موقف کو ملک بھر کے ملازمین تک پہنچایا گیا۔
مختلف پلیٹ فارموں پر ’’اگیگا‘‘ کی موجودگی کو منظم کیا گیا اور شفاف رابطے کا نظام قائم ہوا۔
اس عمل سے تنظیم کے اندر اور باہر اعتماد کی فضا پیدا ہوئی اور کارکنان میں ایک نئی توانائی آئی۔
چیئرمین (ڈاکٹر ناصرالدین صاحب) کی یہ قیادت صرف وقتی نوعیت کی کام یابیوں پر مشتمل نہیں تھی، بل کہ ایک طویل المیعاد نظریہ، وژن اور پالیسی کا حصہ تھی۔
ڈاکٹر ناصرالدین صاحب کی جد و جہد، اُصول پسندی اور مستقل مزاجی نے ثابت کیا کہ اگر قیادت اخلاص، حکمت اور جرات سے مزین ہو، تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی منزل کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔
ان کی خدمات تاریخ کا ایک حصہ بن چکی ہیں، اور یہ دور ’’اگیگا‘‘ کی تاریخ میں سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کام یابی نہیں، بل کہ ہزاروں سرکاری ملازمین کی امیدوں کی تکمیل ہے، ایک سوچ کی فتح ہے…… اور ایک نئے دور کی بنیاد ہے۔ ایسی قیادتیں مدتوں بعد آتی ہیں، جو صرف دعوے نہیں کرتیں، بل کہ عمل اور نتیجے سے اپنا مقام منواتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










