(یہ تحریر 04 اگست 2024 کی شب کو لکھی گئی تھی، جسے اس وقت سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی شکل میں دیا گیا تھا۔ اب اس کی نوک پلک سنوار کر اور ضروری ترامیم کے ساتھ اسے باقاعدہ ایک بلاگ کی شکل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
یار عمران، تم جن کو ہنساتے آئے تھے، اُن کو رُلاؤ تو مت……!
عمران داؤد…… مسکراتے مسکراتے یہ دنیا چھوڑ گیا۔ مَیں ابھی جنازہ پڑھ کر آیا ہوں۔ ابھی ’’آخری دیدار‘‘ کرکے آیا ہوں۔
پچھلے مہینے وہ لاہور جا رہا تھا، ہفتے کا دن تھا۔ رات 10 بجے کی گاڑی تھی۔ رات کو ہم نے ساتھ کھانا کھایا۔ مَیں نے کہا: ’’ظالم! لاہور نہ جاؤ، گرمی بڑی شدید ہے، مر جاؤ گے گرمی سے ۔‘‘
وہ کھل کر ہنسا، کہنے لگا: ’’سر! ہاں، گرمی تو خطرناک ہے، مگر جانا ضروری ہے۔ ویسے مَیں جہاں رہتا ہوں، وہاں بندوبست ٹھیک ہے اور مَیں اپنے ’ریڈیس‘ کے اندر رہتا ہوں۔‘‘
وہ گاڑی نکلنے سے چند منٹ پہلے ہماری محفل سے اُٹھا، موٹر سائیکل پر اڈے پہنچا۔ ہنس مکھ تھا، آسان تھا، حد درجہ بے پروا۔ ایسا بے پروا کہ مرتے وقت بھی بے پروائی ہی سے مرگیا۔
پچھلے سے پچھلے بدھ کو معدے کا آپریشن کروایا تھا۔ وزن کم کرانا تھا۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھا، جن پر وزنی جسم جچتا تھا۔ مَیں ذاتی طور پر اُس کے وزن کم کرانے کے حق میں نہیں تھا۔ ویسے بھی، بھاری وزن والے اکثر خوش اخلاق ہوتے ہیں۔
اُس بھلے مانس نے آپریشن کے بعد مڑ کر ڈاکٹر کو نہ دیکھا۔ اندرونی انفیکشن ہوا، جو بعد میں خطرناک شکل اختیار کرگیا۔ صبر و استحکام اُس کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ ’’سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘ اُس کا تکیہ کلام تھا۔ ’’آج کا دن گزر جائے ، کل کی کل دیکھی جائے گی‘‘ یہ جملہ اکثر اُس کی زبان پر رہتا۔ وہ دراصل بہت خراب منصوبہ ساز تھا۔ دُور اندیشی بالکل نہیں تھی، لیکن بے پروائی لاجواب تھی۔ لاہور میں خوش تھا۔ ڈگری اپنی جگہ، تنخواہ مفت کی اور من کی دنیا مکمل اپنی مرضی کی۔
اُس کا جنازے سے پہلے چہرہ ویسا ہی تھا، ہاں، کچھ زردی تھی، کچھ سنجیدگی تھی۔ وہ وہی تھا…… مگر مختلف تھا۔ یوں ایک مانوس اجنبی کو آخری سلام کر کے لوٹا۔
بے شمار دوست جنازے میں شریک تھے، ہر ایک کے پاس اُس کی خوب صورت یادیں تھیں۔ وہ اُن خوش نصیبوں میں سے تھا، جو چہرے پر خوشی سجائے رکھتے ہیں اور دل کے دُکھ بڑی مہارت سے چھپا لیتے ہیں۔
آج بہت سے لوگ اُس کی نجی زندگی کے واقعات سن کر حیران تھے۔ ہر زبان پر ایک ہی بات تھی: وہ فیاض تھا، دوستانہ مزاج تھا اور حد درجہ بے پرو۔
جس دل میں اُس نے دکھ چھپائے تھے، وہ دل دراصل زندہ دلی کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ شاید وہ لمبی زندگی کا ارادہ رکھتا تھا، مگر بے پروائی اُسے لے ڈوبی۔ سب کو اُس کے ارادے پر اعتبار تھا، یہ بھول کر کہ وہ اپنی مرضی کرنے والا، لاابالی انسان تھا۔ اُس نے اپنی ہی مرضی کی۔ مشورہ نہیں کیا، کسی کو کچھ بتایا نہیں۔ زندگی کے ہر کام کی طرح، موت بھی اپنی مرضی سے چنی اور خاموشی سے پردہ کرگیا۔
وہ شخص جو ہمیشہ کہتا: ’’سر، بات سنیں……، دراصل یہ ہوا……، آپ ٹھیک کَہ رہے ہیں……، مجھ سے غلطی ہوئی!‘‘ وہ شخص اَب بول نہیں رہا تھا، بالکل خاموش تھا اور سننے والے کَہ رہے تھے: ’’وہ ہمیشہ چہکنے والا آج خاموش ہے!‘‘
وہ ایک پھیکی اور کھوکھلی دنیا کا چاکلیٹی ہیرو تھا۔ بھلے ہی وہ ایک ادھوری زندگی کا نامکمل انسان تھا۔ اُس کی قاتل مسکراہٹ میں ایک طنز چھپا تھا، جو زندگی میں شاید کوئی نہ سمجھ سکا۔ زندگی نے اُس سے انصاف نہیں کیا…… مگر اُس نے زندگی سے ہمیشہ انصاف کی کوشش کی۔ کتنی بار اُس نے چاہا کہ زندگی کا رُخ ’’زندگی‘‘ کی طرف موڑ دے، مگر زندگی ایک بدمست ہاتھی کی طرح تھی، اُسے روند کر ہی آگے بڑھ گئی۔
وہ جو ہر جگہ مسکراہٹیں بکھیرتا تھا، آج سنجیدہ روپ دھارے محوِ خواب تھا ۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










