کہتے ہیں قلم میں وہ کاٹ ہے، جو تلوار کے فولاد میں نہیں اور وہ اثر جو بارود کے دھویں میں نہیں…… مگر یہ جادو ہر ہاتھ کے نصیب میں نہیں اُترتا۔
کچھ لوگ لفظ لکھتے ہیں، تو بس کاغذ پر سیاہی کا بوجھ بڑھاتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ چراغ کی لو کی طرح دل کے اندھیروں کو چیر دیتے ہیں۔ اُنھی میں ایک نام ہے ’’عزیز بن عزیز!‘‘
وہ شخص جو لفظوں کو محض برتتا نہیں، اُن میں روح پھونک دیتا ہے، جیسے مٹی کے بے جان پیکر کو جان دے دی ہو۔
عزیز بن عزیز کا کمال یہ ہے کہ وہ کہانی سناتے نہیں، قاری کو کہانی میں بسا دیتے ہیں۔ اُن کے جملے کبھی ریشم کی طرح نرم، کبھی تلوار کی طرح تیز اور کبھی ساون کے بادل کی طرح بھرپور برستے ہیں۔
منظر نگاری کرتے ہیں، تو کاغذ آئینہ بن جاتا ہے اور قاری اپنا عکس اس میں دیکھنے لگتا ہے۔ ایک ہی تحریر میں محبت کا رس، جدائی کی کسک، خوابوں کی چمک اور زندگی کی تلخی ایسے یک جا ہوتی ہے، جیسے بہار کے باغ میں کانٹوں اور پھولوں کا ایک ساتھ کھل جانا۔
مَیں نے عزیز بن عزیز کو کبھی دیکھا نہ تھا۔ نہ تصویر، نہ کوئی خاکہ…… بس جب بھی اُن کی تحاریر پڑھتا، ذہن میں ایک ’’چاکلیٹی ہیرو‘‘ سا چہرہ بنتا، جیسے کوئی فلمی کردار…… جو لفظوں کے ساز پر دنیا کو مسحور کر رہا ہو۔
مگر پہلی ملاقات میں جو چہرہ سامنے آیا، وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا ایک ملنگ شاعر تھا۔ لباس سادہ، آنکھوں میں دریا کی گہرائی اور باتوں میں وہ خوش بو جو بارش کے بعد مٹی سے اُٹھتی ہے۔
اُن کے قلم میں سیاست کا طنزیہ نشتر بھی ہے، ایسا نشتر جو زخم دیتا ہے…… مگر مسکراہٹ کے ساتھ۔
پی ٹی آئی کے بارے میں عزیز بن عزیز کا مشہور جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے: ’’جب سسٹم بجانے پہ آتا ہے، تو بجاتا ہی رہتا ہے!‘‘
یہ ایک ایسا جملہ ہے، جو حقیقت کا آئینہ بھی ہے اور طنز کا خنجر بھی……!
بانیِ پی ٹی آئی پر اُن کا بے لاگ تبصرہ ’’وہ جیل ہی میں سڑتا رہے گا!‘‘ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ سیاست کو لفظوں کے تخت پر بٹھا کر احتساب کا تاج پہناتے ہیں۔
مگر زندگی کے سفر میں کبھی کبھی ایسے موڑ بھی آتے ہیں، جہاں لفظ بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ عزیز بن عزیز مارچ 2024ء سے جگر کی بیماری کے باعث سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہیں اور تقریباً لکھنا چھوڑ چکے ہیں۔ اُن کا قلم جیسے ایک ادھورا جملہ بن کر رُکا ہوا ہے، اور قاری اُن کی اگلی تحریر کا منتظر ہے۔
ہم سب دعاگو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں اور دوبارہ اپنے لفظوں کا چراغ روشن کریں۔ کیوں کہ اُن کے جملے اس دھرتی کی روشنی ہیں اور روشنی کو بجھنے نہیں دینا چاہیے۔
عزیز بن عزیز کی نثر میں ایک عجب توازن ہے…… نہ لفاظی کی چادر میں اُلجھے الفاظ، نہ اختصار کی قینچی سے کٹی ہوئی سوچ…… ہر لفظ اپنی جگہ اس طرح جما ہوتا ہے، جیسے کسی ماہر خطاط نے حرف حرف کو دعا کی طرح لکھا ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، اُن کی تحریروں میں ’’پوسٹ کی دُم‘‘ ہوتی ہے۔ ایسا آخری جملہ جو کہانی کو بند نہیں کرتا، بل کہ ایک نیا دروازہ کھول دیتا ہے، جیسے شام ڈھلے کھڑکی سے جھانکتی روشنی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب قاری محسوس کرتا ہے کہ تحریر ختم ہوگئی، مگر اس کا اثر اب بھی دل کی گلیوں میں چل رہا ہے۔
پوسٹ کی دُم:۔ زندگی ہمیں روز سبق دیتی ہے، لیکن ہم کتاب تب کھولتے ہیں، جب صفحہ پھٹ چکا ہوتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










