انسانی جسم کی ساخت میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمتیں چھپائی ہیں، وہ سائنس کی ہر نئی دریافت کے ساتھ کھلتی جا رہی ہیں۔
آج کل سائنس دان یہ کَہ رہے ہیں کہ انسان کے پاس ایک نہیں، بل کہ دو دل ہیں۔ پہلا تو وہی جو سینے میں دھڑک رہا ہے اور رات دن خون پمپ کرنے میں لگا رہتا ہے، جب کہ دوسرا دل پنڈلی میں چھپا بیٹھا ہے، جسے طبی اصطلاح میں "Soleus Muscle” کہتے ہیں۔ یہ وہ عضلہ ہے جو پنڈلی کے پچھلے حصے میں موجود ہے اور خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے، بالکل اُن وفادار دوستوں کی طرح جو کبھی کریڈٹ نہیں لیتے، لیکن ہمیشہ کام آتے ہیں۔
یہ "Soleus Muscle” اصل میں ایک قدرتی پمپ کا کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہم چلتے ہیں، یا ایڑیاں اُٹھاتے ہیں، تو یہ عضلہ سکڑتا ہے اور ٹانگوں کی نسوں میں موجود خون کو واپس دل کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ یہ عمل "Venous Return” کہلاتا ہے اور کششِ ثقل کے خلاف خون کو اوپر بھیجنا واقعی کوئی معمولی کام نہیں۔ اسی وجہ سے طبی ماہرین اسے "Peripheral Heart” یا "Second Heart” کا نام دے چکے ہیں۔ مطلب یہ کہ جب آپ صبح اُٹھ کر ٹہلنے جاتے ہیں، تو صرف ایک دل نہیں، بل کہ دو دل مل کر آپ کو زندہ رکھنے میں لگے ہوتے ہیں۔
’’امریکن فزیولوجیکل سوسائٹی‘‘ کی تحقیق کے مطابق یہ "Soleus Muscle” نچلے جسم کے خون کی گردش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ "Marc Hamilton” اور اُن کی ٹیم نے 2022ء میں "iScience” (جرنل) میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا کہ صرف "Soleus Pushups” یعنی ایڑیاں اُٹھانے جیسی چھوٹی حرکتیں بھی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
مطلب یہ کہ جب آپ بیٹھے بیٹھے پنجوں پر اُٹھ جاتے ہیں، تو آپ کا دوسرا دل مہربانی کرکے اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔
لیکن جناب……! جب یہ دوسرا دل غیر فعال ہو جائے، تو مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ "Deep Vein Thrombosis” (DVT) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، یعنی خون جم کر خطرناک جلطے (Blood Clots) بن سکتا ہے۔ پاؤں اور ٹانگوں میں سوجن آسکتی ہے اور اصل دل پر دباو بڑھ جاتا ہے۔ کیوں کہ اسے اکیلے ہی پوری "Circulatory System” کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بالکل اُس صورتِ حال جیسا ہے، جب آفس میں صرف ایک شخص کام کر رہا ہو اور باقی سب چائے پینے گئے ہوں۔
دوسرے دل کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن مجھے تو یہ لگتا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں، سول اور ملٹری بیوروکریسی اور کاروباری افراد کا پہلا دل بھی گھٹنوں ہی میں ہے۔ اسی لیے تو اُنھیں بلوچستان سے لے کر باجوڑ تک عوام کا بہتا ہوا خون نظر نہیں آرہا۔ جب دل ہی نیچے بیٹھا ہو، تو اوپر کی آواز کیسے سنائی دے گی؟
جب کسی وزیر صاحب سے کسی بھی حادثے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، تو وہ کہتے ہیں: ’’معلومات طلب کی گئی ہیں!‘‘ اصل میں اُن کا دل گھٹنوں میں ہے، اور گھٹنے کمرے کی میز کے نیچے ہیں، تو خبر اوپر تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ ان کا پہلا دل گھٹنوں میں نہ ہوتا، تو یہ ڈرون حملے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کو دہشت گرد کہتے؟
سول سروس کے افسران کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اُن کا دل فائل کے نیچے والے صفحے میں دبا پڑا ہوتاہے، جہاں ’’حکمِ امتناع‘‘ لکھا ہوتا ہے۔ اس طرح کاروباری حضرات کا دل تو بینک اکاؤنٹ کے نیچے والے خانے میں چھپا ہے، جہاں ’’کم سے کم بیلنس‘‘ کی شرط لکھی ہوتی ہے۔ملٹری کے معاملے میں تو خاص طور پر یہ مسئلہ ہے کہ اُن کا دل ان کے اپنے وضح کردہ ’’پبلک انٹرسٹ ‘‘کے نیچے دب کر رہ گیا ہے۔
دوسرے دل کی دریافت سے ایک اور معمہ بھی حل ہوگیا۔ اب پتا چل گیا ہے کہ عاشق پروپوز کرنے کے لیے ایک گھٹنا زمین پر کیوں رکھتے ہیں؟ دراصل یہ ایک قدرتی حکمت ہے۔ ایک دل خاک میں ملا کر دوسرا دل قبول کرایا جاتا ہے۔ جب عاشق گھٹنے ٹیکتا ہے، تو اس کا "Soleus Muscle” دبتا ہے، خون کا بہاؤ بدلتا ہے اور اوپر والا دل زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یہ اضافی محنت ہی محبوبہ کو یقین دلاتی ہے کہ یہ شخص واقعی دل سے پیار کر رہا ہے…… اور جب محبوبہ ہاں کہتی ہے، تو دونوں دل خوشی سے نارمل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر انکار ہوجائے، تو "Soleus Muscle” کا "Cramping” شروع ہوجاتا ہے، اور بے چارہ اپاہج ہو کر واپس اُٹھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسرے دل کو فعال رکھنے کے لیے ہر گھنٹے میں کم از کم ایک بار چلنا یا ٹانگوں کو حرکت دینا ضروری ہے۔ "Calf Raise” جیسی ورزشیں کرنا، یعنی ایڑیاں اُٹھانا اور گرانا، تاکہ "Soleus Muscle” سرگرم رہے۔ بیٹھے بیٹھے ایڑیاں ہلانا یا پنجوں پر وزن دینا بھی مفید ہے…… مگر ہمارے حکم رانوں کو تو دونوں دلوں کی فزیوتھراپی کروانی چاہیے…… اوپر والے کو ’’شفقت‘‘ کی اور نیچے والے کو ’’حرکت‘‘ کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو دل عطا کیے ہیں، لیکن دونوں کو فعال رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔ اوپر والا دل محبت، رحم اور خدمتِ خلق کے لیے…… اور نیچے والا دل حرکت، عمل اور خون کی گردش کے لیے۔ جو شخص دونوں دلوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے، وہ نہ صرف جسمانی طور پر صحت مند رہتا ہے، بل کہ روحانی طور پر بھی بلندی حاصل کرتا ہے۔ حرکت میں برکت ہے، اور سکون میں موت……! اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ ’’تحریک زندگی کا نام ہے!‘‘
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے دونوں دل جگائیں۔ سیاست میں شرافت کا دل، بیوروکریسی میں خدمت کا دل، کاروبار میں ایمان داری کا دل، اور جسم میں حرکت کا دل…… جب چاروں طرف دل دھڑکنے لگیں، تب جا کر یہ وطنِ عزیز واقعی دل سے زندہ ہوگا۔ حرکت کریں، محبت کریں اور زندگی کو زندہ رکھیں۔ کیوں کہ ٹھہرا ہوا پانی کبھی زندگی نہیں دیتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










