کیا ہر داڑھی والا ظالم اور گناہ گار ہے؟

Blogger Shafiq ul Islam

سوات کے علاقے چالیار میں ایک مدرسے کے برائے نام قاری، جس کی بڑی بڑی داڑھی اور سفید ٹوپی کی وجہ سے وہ بہ ظاہر ایک دین دار شخص معلوم ہوتا تھا، نے ایک معصوم طالب علم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، یہاں تک کہ وہ جان کی بازی ہار گیا۔ افسوس ناک طور پر اس واقعے سے جڑی مبینہ جنسی زیادتی کی اطلاعات نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، مگر اس واقعے سے بھی زیادہ خطرناک رجحان وہ ہے، جو اس کے بعد اُبھرا…… یعنی ایک فرد کے جرم کو بنیاد بنا کر پورے طبقے، لباس اور دینِ اسلام کی ظاہری علامات جیسے داڑھی، ٹوپی اور مدرسہ کو نشانہ بنایا جانا۔
غصہ صرف اُس مجرم پر ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے اجتماعی غصے کا رُخ ’’دینی حلیے اور مدارس‘‘ کی طرف موڑ دیا گیا، جو کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا شعار رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی فرد کے جرم پر پورے مذہبی طبقے کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو، مگر اس بار جس شدت سے اسلامی شعائر پر حملہ ہوا ہے، وہ صرف ناقابلِ فہم ہی نہیں، بل کہ ناقابلِ قبول بھی ہے۔
کیا کبھی کسی نے یہ سنا ہے کہ بھارت میں کوئی ہندو، جو پورے ہندوانہ لباس، ماتھے پر تلک اور روایتی حلیے میں ہو، اگر کوئی جرم کر بیٹھے، تو پورے ہندو طبقے کو مجرم ٹھہرایا گیا ہو؟ کیا امریکہ میں کسی چرچ کے پادری کی زیادتی کے بعد عیسائیت کو نشانہ بنایا گیا یا اسرائیل میں کسی صیہونی فوجی کے ظلم پر پوری یہودی قوم کو مطعون کیا گیا؟ ہرگز نہیں……!
ہم آئے دن سنتے ہیں کہ مغرب اور غیرمسلموں کے کسی اسکول میں فائرنگ ہوئی، یونیورسٹی میں جنسی زیادتی کا کیس سامنے آیا، یا کسی چرچ میں پادری نے بچوں سے بدفعلی کی…… مگر کیا ہم نے کبھی مغربی تعلیمی اداروں یا عیسائی یا کسی دوسرے مذہب کو مجرم قرار دیا؟ وہاں جرم کو فرد اور ادارے تک محدود رکھا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اگر کوئی داڑھی، ٹوپی یا مدرسے کا نام لیوا جرم کرے، تو پورے دین، اسلامی شعائر اور دینی مدارس کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنایا جانے لگتا ہے، یہاں تک کہ انھیں تشدد کی علامت بنا دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے لوگ اتنے ناسمجھ کیوں بن جاتے ہیں کہ بنا تحقیق کیے دین، دینی تعلیم اور اس کی علامات پر حملہ شروع کر دیتے ہیں؟ کیا اُنھیں یہ شعور نہیں کہ ایسے مواقع پر اسلام دشمن عناصر متحرک ہوجاتے ہیں، اور ہم اَن جانے میں اُن کے ایجنڈے کو کام یابی فراہم کرتے ہیں؟ یہ جذباتی رویہ صرف انصاف کے قتل کے مترادف نہیں، بل کہ اجتماعی خودکُشی ہے۔
اگر ظلم کا سبب واقعی داڑھی یا دینی تعلیم ہوتی، تو امریکہ، اسرائیل یا فرانس جیسے ’’ماڈرن‘‘ ممالک کے لیڈروں کے ہاتھوں لاکھوں معصوم مسلمان قتل نہ ہوتے۔ جارج بش، نیتن یاہو، ٹرمپ اور میکرون سب کلین شیوڈ، ماڈرن اور ’’مہذب‘‘ سمجھے جاتے ہیں، مگر اُن کے ہاتھ لاکھوں انسانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور غزہ میں لاکھوں بے گناہ شہید کیے گئے، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔ پھر سوال یہ ہے کہ کیا اُن قاتلوں کو اُن کے چہروں یا لباس کی بنیاد پر دہشت گرد کہا گیا؟ ہرگز نہیں……!
تو پھر اگر پاکستان میں ایک داڑھی والا مدرسہ قاری جرم کرتا ہے، تو ہم دین، داڑھی، مدرسے اور اسلامی شناخت کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟ کیا یہ سراسر تعصب نہیں، کیا یہ کسی ایک ظالم کی وجہ سے پوری ایک شناخت کو مٹا دینے کی کوشش نہیں؟
یاد رکھیے، داڑھی رکھنا صرف ثقافتی روایت نہیں، بل کہ سنتِ رسول صلعم ہے۔ دنیا میں آنے والے ہر نبی نے داڑھی رکھی: حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلعم۔
یہ بھی سچ ہے کہ داڑھی، نہ ٹوپی اور نہ نمازی پیشانی ہی کسی کی معصومیت یا گناہ کی ضمانت ہیں۔ جیسے سوٹ پہننے سے اور کلین شیو کرکے کوئی انسان نیک نہیں ہوجاتا، ایسے ہی داڑھی رکھنے سے کوئی لازمی معصوم نہیں ہوجاتا…… مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان علامات کی تضحیک کسی ایک فرد کے جرم کی سزا نہیں بننی چاہیے۔
ہم نے ظلم کے واقعات اسکولوں میں بھی دیکھے، جہاں اساتذہ نے بچوں پر بدترین تشدد کیا۔ لبرل طبقے میں بھی کام کرنے والی بچیوں سے زیادتی، قتل اور ظلم کے واقعات سامنے آئے۔ کیا ہم نے پورے تعلیمی نظام یا لبرل طبقے کو موردِ الزام ٹھہرایا؟ ہرگز نہیں……! تو پھر مدارس اور علمائے دین کے ساتھ یہ امتیاز کیوں؟
داڑھی، ٹوپی اور دینی لباس کسی کا جرم نہیں۔ یہ شعائرِ اسلام ہیں، سنتِ انبیا ہیں، روحانی نظام کی علامتیں ہیں، ان کی تضحیک صرف ایک طبقے کی نہیں، پورے دین کی توہین ہے۔
مدارس، پاکستان کے وہ ادارے ہیں جہاں روزانہ لاکھوں بچے علمِ دین کے ساتھ ساتھ اخلاق، کردار، تہذیب اور روحانی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہی ادارے ہیں جو غریب بچوں کو تعلیم، رہایش، کھانا اور کپڑا بالکل مفت مہیا کرتے ہیں۔ یہاں ہر سال ہزاروں حافظِ قرآن تیار ہوتے ہیں، سیکڑوں علما اور مفتیان، دین کی خدمت کے لیے نکلتے ہیں۔ ان مدارس نے انگریزوں کے خلاف علمی و فکری محاذ سنبھالا اور تحریکِ آزادی میں اپنا لہو دیا۔
اگر کسی مدرسے یا قاری سے ظلم ہوا ہے، تو اس پر فرداً کارروائی ہونی چاہیے، مگر اس بنیاد پر پورے دینی نظام کو بدنام کرنا نہ صرف ناانصافی ہے، بل کہ شعائرِ اسلام کے خلاف منظم سازش ہے۔
علما، قرا اور مفتیان کرام ہمارے دینی ورثے کے محافظ ہیں۔ لاکھوں لوگ دن رات فاقہ کر کے دوسروں کے بچوں کو قرآن و سنت کی روشنی دیتے ہیں۔ اگر ایک شخص گناہ کرے، تو اُس کا بوجھ اُس کی ذات پر ڈالا جائے، نہ کہ اُس کی داڑھی، عقیدے یا ادارے پر۔
یاد رکھیے، جرم کردار سے ہوتا ہے، لباس سے نہیں۔ اگر داڑھی والے مجرم ہیں، تو پھر باقی طبقے بھی اپنے جرائم کا بوجھ کیوں نہیں اُٹھاتے؟ کیا ہم نے کبھی کسی اسکول کے جرم پر پورے جدید تعلیمی نظام کو گالی دی؟
ایک فرد کی خطا پر پورے طبقے کو مجرم کہنا ایسا ہے، جیسے ایک خراب آم کی وجہ سے ساری پیٹی کو ضائع کر دینا۔ ہم مجرم کو سزا دیں، مگر اس بہانے دین، قرآن اور دینی طبقے کو بدنام نہ کریں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے، تو ہم اس میں اصلاح کی بہ جائے شدت پسندی، الزام تراشی اور دینی شعائر کی توہین کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
کاش! ہم جذباتی ردِعمل کی جگہ تعمیری سوچ کو اپناتے اور دینی اداروں یا داڑھی والوں کو کوسنے کے بہ جائے اصل مجرم کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے اور پورے نظامِ تعلیم میں اصلاح کی بات کرتے ۔ اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں، تو سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ملک بھر کے تمام مدارس، اسکول اور تعلیمی ادارے رجسٹر کیے جائیں، تاکہ نگرانی اور احتساب کا موثر نظام قائم ہو۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ہر طالب علم، چاہے وہ سرکاری ادارے میں پڑھتا ہو، یا نجی اسکول میں، میٹرک تک قرآنِ پاک ناظرہ صحیح تلفظ اور تجوید کے ساتھ پڑھ چکا ہو۔ اگر ہم اپنے بچوں کو دنیاوی مضامین، حتیٰ کہ غیر ضروری اور متنازع اسباق بھی پڑھاتے ہیں، تو پھر قرآن و سنت، جو ہماری اصل پہچان اور نجات کا ذریعہ ہیں، اُن سے غفلت کیوں؟ دین کو نصاب سے نکالنے کے بہ جائے نصاب کو دین سے روشن کیا جائے، تاکہ ہماری نئی نسل علم، کردار اور عقیدے کے لحاظ سے مضبوط ہو۔ یہی وہ فکری اصلاح ہے، جو کسی واقعے کے بعد ہمیں نفرت پھیلانے کے بہ جائے تعمیر و اصلاح کی طرف لے جاسکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ والدین کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بار بار یاد دہانی کرائیں کہ اگر کبھی کوئی نامناسب رویہ یا غلط لمس کا سامنا ہو، تو بلا جھجک فوری والدین کو بتائیں۔ مَیں نے خود اس واقعے کے بعد اپنے بچوں کو ’’گُڈ ٹچ‘‘ اور ’’بیڈ ٹچ‘‘ کا مطلب دوبارہ سمجھایا اور یہ بات واضح کی کہ اگر کبھی کوئی غلط رویہ یا ناپسندیدہ حرکت اُن کے ساتھ ہو، تو اُسے چھپانا نہیں، بل کہ بلا جھجک اور اعتماد سے والدین کو بتانا ہی اصل بہادری ہے۔
مَیں نے اپنے بچوں کو یہ بھی یقین دلایا ہے کہ وہ جو بھی سچ کہیں گے، ہم اُس پر یقین کریں گے اور اُن کی حفاظت کے لیے فوری قدم اٹھائیں گے۔ خاموشی اختیار کرنا نقصان دہ ہے، جب کہ سچ بولنا اور برائی کو پہچاننا ہی اصل شعور ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم بہ حیثیت قوم ’’میچور‘‘ اور باشعور بنیں۔ ہمیں افواہوں اور سوشل میڈیا کی گھڑی ہوئی باتوں پر یقین کرنے کے بہ جائے حقائق کی تلاش کرنی چاہیے۔ اگر کسی بات کا درست علم نہ ہو، تو خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ ہمیں ہر معاملے کو دین، داڑھی، اسلام یا مدرسے پر تھوپنے کے بہ جائے، گناہ گار فرد کی حد تک محدود رکھنا ہوگا۔ چاہے وہ ماڈرن لبرل ہو، غیر مسلم ہو، قاری ہو، عالم ہو یا بے دین ہو، جرم کا حساب صرف اُس ایک فرد سے لیا جائے گا۔ ہم اپنے دین، داڑھی، مسجد، مدرسے، قاری یا عالم کو بے بنیاد الزامات اور تنقید سے بچائیں گے اور صرف غلط کو غلط کہیں گے۔ یہی اصل انصاف اور حقیقی اسلامی رویہ ہے ۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے