چند دن پہلے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ’’سنجیدی ڈیگاری مارگٹ‘‘ میں غیرت کے نام پر قتل کیے گئے مرد اور عورت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
وائرل ویڈیو میں دعوا کیا گیا تھا کہ بہ ظاہر دونوں پر پسند کی شادی کا الزام تھا۔ قتل ہونے والی عورت کا نام ’’شیتل‘‘ بیان کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے مطابق قتل ہونے والی عورت کے ہاتھ میں قرآنِ پاک تھا، جو ایک شخص نے اُس کے ہاتھ سے لے لیا۔ وہ ڈری نہیں، سہمی نہیں، منت کی اور نہ سماجت، بل کہ ایک جملہ بول کر دھماکا کر دیا: ’’بیرہ سم نہ اجازت نمے!‘‘ یعنی صرف گولی مارنے کی اجازت ہے تمھیں۔
یہ ایک جملہ نہیں، بل کہ ایک فلسفہ، ایک اعلان اور ایک بغاوت ہے۔ وہ اجازت مانگ نہیں رہی تھی، بل کہ اجازت دے رہی تھی۔ حکم دے رہی تھی اور اعلان کر رہی تھی کہ مَیں کسی کی ملکیت ہوں، نہ پالتو جانور۔ مَیں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں، مجھے اپنے شرطوں پر جینے کا حق حاصل ہے اور اپنی شرط پر مرنے کا بھی۔
وہ سات قدم چلتی ہے اور فضا میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے ساتھ ایک جملے کی گونج اٹھتی ہے: ’’بیرہ سم نہ اجازت نمے‘‘ اور یہ ایک جملہ اس نام نہاد غیرت کی دیواروں کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اصل واقعہ کچھ یوں ہے کہ قتل ہونے والوں میں کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا۔ ویڈیو میں عورت کا نام ’’شیتل‘‘ بیان کیا گیا، لیکن اُس کا اصل نام نور بانو ہے، جو کہ شادی شدہ اور پانچ بچوں کی ماں تھی۔ بانو کے ہمسائے احسان اللہ نے اُسے ورغلایا، کہیں لے گیا اور چار ماہ تک ساتھ رکھنے کے بعد اُسے چھوڑ دیا۔ سابق شوہر سے رابطے پر شوہر نے اُسے گھر آنے کی اجازت دی اور وہ واپس چلی گئی۔ بانو کا شوہر خاموش رہ کر معاملے کو دبانا چاہتا تھا، لیکن وہ اس میں ناکام رہا۔ کیوں کہ احسان اللہ بھی واپس علاقے میں آگیا اور اُس نے موبائل پر دوبارہ عورت سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ کبھی فون کرکے دھمکیاں دیتا رہا، کبھی ویڈیوز بھیج کر بلیک میل کرتا رہا اور کبھی اتنی حد تک جاتا کہ بانو کے شوہر کو بھی دھمکیاں دے دیتا۔ اسی طرح معاملہ سماجی جرگے تک پہنچ گیا۔ جرگے نے دونوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا حکم جاری کیا اور دونوں کو علاقہ سنجیدی ڈیگاری مارگٹ لے جا کر گولیاں مار دی گئیں۔
ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل نہ کوئی انوکھا واقعہ ہے اور نہ اچنبھے کی بات ہی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذاتی مفادات کی خاطر عورت کو داو پر لگایا جاتا ہے۔ دشمن سے انتقام لینا ہو، اُس کا سر نیچا کرنا مقصود ہو، یا اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہو، تو عورت ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے ۔ قابلِ افسوس پہلو یہ ہے کہ والدین اور رشتہ دار مل کر یہ کھیل کھیلتے ہیں اور پھر اسے ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ ظاہر کیا جاتا ہے۔
قارئین! آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ بعض اوقات اس میں لڑکی یا عورت کی رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔
آمدم برسرِ مطلب، ویڈیو وائرل ہونے پر وزیرِاعلا بلوچستان اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا۔ واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایس ایچ اُو نوید اختر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایف آئی آر میں ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’’دفعہ 302‘‘ اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 20 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں مرکزی ملزم شیر باز ساتگزئی، اُس کے قبیلے کے سربراہ بشیر احمد ساتگزئی، اُس کے چار بھائی، دو محافظ اور دیگر افراد شامل ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے 21 جولائی کو وائرل ویڈیو میں قتل ہونے والے مرد اور عورت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق قتل کا یہ واقعہ 4 جون 2025ء کو پیش آیا، جس میں مرد کو 9 اور عورت کو 7 گولیاں ماری گئیں۔ عورت کی عمر 37 سے 38 برس کے قریب بتائی گئی ہے اور اُس کے بازو پر ’’نور بانو‘‘ کا نام کندہ تھا۔ مرد کا نام احسان اللہ اور عمر 35 سے 36 سال کے لگ بھگ ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ بعض اوقات ایسے کیسوں میں والدین اور خاندان والوں کی رضا مندی شامل ہوتی ہے، اسی طرح اس کیس میں بھی ہوا۔ مقتولہ کی والدہ کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے کہ یہ فیصلہ خاندان کا تھا اور میری بیٹی کا قتل ’’جائز‘‘تھا۔ گرفتار افراد بے قصور ہیں۔ اُنھیں رہا کیا جائے۔ مقتولہ کی والدہ کے اس بیان کے بعد پولیس نے اُسے بھی گرفتار کر لیا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ عورت نے پسند کی شادی کی، یا وہ شادی شدہ تھی…… بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر دونوں نے اسلامی شریعت یا قبائلی معاشرت کی حدود بھی پار کی ہو، تو بھی اُنھیں سزا دینا کسی قبیلے یا فردِ واحد کا قانونی حق نہیں۔ یہ ماورائے عدالت قتل ہے اور قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کے مترادف۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں جرم کی سزا دینا ریاستی اداروں کا کام ہے۔
قارئین! میرا ذاتی خیال ہے کہ اس کیس میں حکومت شاید گرفتار ملزموں کو سزا نہ دے پائے۔ کیوں کہ پاکستان میں ایسے کیسوں میں آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی…… مگر یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر معاملات اسی نہج پر چلتے رہے، تو شاید مستقبلِ قریب میں حکومت کی رِٹ باقی نہ رہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










