تحریر: شوکت نیازی
نام ور فرانسیسی دانش ور اور فلسفی ’’دنی دیدیرو‘‘ (Denis Diderot, 1713-1784) جو محض اپنی ایک آسایش کی وجہ سے عیش و عشرت کا غلام بن گیا۔
’’دنی دیدیرو‘‘ نے اپنا سب کچھ کھو دیا اور اُس کے ساتھ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت دریافت کی، جو ہمیں غیرضروری آسایش اور عیش و عشرت پر اخراجات پر مجبور کرتی ہے۔
اپنے وقت کا نامی گرامی دانش ور ’’دنی دیدیرو‘‘ کبھی متمول اور دولت مند نہ تھا۔ اُس کا گزر بسر دوستوں، یاروں، رشتے داروں اور اپنے شائقین کے تحفے تحائف اور مالی امداد پر رہتا تھا۔
اُس کی بیٹی کی شادی قریب آئی، تو بیٹی کو جہیز میں دینے کے لیے اُس کے پاس کچھ نہ تھا۔ شادی کی تیاری کے لیے اُس کے پاس ایک ہی حل تھا کہ وہ اپنی لائبریری میں موجود 3000 سے زائد بیش قیمت اور نادر کتابیں فروخت کر دے۔
اُس کے دوستوں اور قارئین نے کتابوں کی فروخت میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ’’دنی دیدیرو‘‘ کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہو گئی…… اور پھر نہ جانے کس ترنگ میں اُس کے ایک چاہنے والے نے اُسے ایک انتہائی خوب صورت اور بہت مہنگا ڈریسنگ گاؤن لا دیا…… گلابی رنگ، ریشمی، نرم و ملائم، شان دار اور انتہائی آرام دہ۔
دیدیرو کو مذکورہ ڈریسنگ گاؤن بہت بھایا اور وہ فخریہ انداز میں ہر وقت اسے پہنے رکھتا…… لیکن اچانک ایک نئی مصیبت کھڑی ہو گئی۔ اُس کے شاہانہ اور شان دار ڈریسنگ گاؤن کے سامنے اُس کے گھر کی باقی ہر چیز حقیر اور گھٹیا دکھائی دینے لگی۔ پرانا فرنیچر، گھسا پٹا قالین، بوسیدہ پردے…… اُس کے گھر کی ہر چیز اُس کے نئے ڈریسنگ گاؤن کی آن بان سے متصادم تھی۔
وہ اس عدم مطابقت کو برداشت نہ کرسکا۔ یہ نیا گاؤن جیسے غلیظ ٹاٹ پر مہنگے ترین ریشم کا پیوند ہو۔ اُسے اپنے ارد گرد ہر طرف بوسیدگی اور فرسودگی دکھائی دینے لگی۔ اُس نے نیا فرنیچر خریدا، نئے قالین اور غالیچے خریدے، پورے گھر کی نئے انداز سے تذئین و آرایش کی، تاکہ اُس کے ڈریسنگ گاؤن کے ساتھ میل کھاسکے۔
مطالعے کی میز کے لیے گلابی رنگ کی کرسی…… استقبالیہ کمرے کے لیے سرخ قالین اور سرخ پردے…… تاکہ ہر چیز اس کے ڈریسنگ گاؤن کے ساتھ ہم آہنگ ہو…… لیکن افسوس، پھوٹی نکسیر کی مانند یہ سلسلہ چلا تو رُک نہ پایا۔
صرف چھے ماہ بعد ’’دیدیرو‘‘ کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ رہی۔ کتابوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی ساری رقم خرچ ہوچکی تھی۔ ’’فرانس کی فہم و فراست‘‘ کہلایا جانے والا شخص صرف ایک آسایش کی بنا پر اپنی ساری دولت کھو بیٹھا۔ صرف ایک آسایش جس نے اُسے ایک اندھی کھائی میں دھکیل دیا، اور وہ مایوسی کی تاریکیوں میں ڈوب گیا۔
1769ء میں وہ اپنے آنسوؤں سے بھیگے ایک کاغذ پر ایک مضمون لکھتا ہے، جس کا عنوان ہے: ’’اپنے پرانے ڈریسنگ گاؤن کی جدائی پر تاسف!‘‘
اس مضمون کا ایک جملہ یہ تھا: ’’مَیں اپنے پرانے ڈریسنگ گاؤن کا مطلق مالک تھا۔ مَیں اپنے نئے ڈریسنگ گاؤن کا غلام بن چکا ہوں۔‘‘
یہی جملہ اس کا شاہ کار بن گیا اور انسانی فطرت کے بارے میں ایک ہول ناک حقیقت کا انکشاف کرگیا۔ آج اپنی عیش و عشرت کا غلام بن جانے کی کیفیت کا ایک نام ہے: ’’دیدیرو کیفیت۔‘‘
یہ ’’دیدیرو کیفیت‘‘ ہی ہے جس کی بنا پر 80 فی صد لوگ قرض میں ڈوب جاتے ہیں…… اور اسی کیفیت کو بڑی کمپنیاں، بنک اور کریڈٹ کارڈ ادارے خوب بھانپ گئے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










