متشدد ذہنیت کا المیہ اور ہماری ذمے داری

Blogger Sami Khan Torwali

کچھ دن پہلے مانسہرہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک کم سن بچے (سفیان) کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ قتل کا طریقہ اتنا ہول ناک تھا کہ اُس کا سر تن سے جدا کیا گیا، جو کسی بھی انسانی معاشرے کے لیے ایک سنگین جرم اور ذہنی پستی کی علامت ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف اس بچے کے خاندان کے لیے، بل کہ پورے معاشرے کے لیے ایک صدمہ ہے۔ کیوں کہ اُس نے ہمیں اپنی اخلاقی اور قانونی حدود پر سوال اُٹھانے پر مجبور کیا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اُس کے قتل کے بعد پولیس نے بہت جلدی سے ایک افغان نوجوان، نجیب کو گرفتار کرلیا، اور اُس پر قتل کا الزام عائد کر دیا۔ اس الزام کے بعد، عوام میں ایک جھوٹی تسکین کا احساس پیدا ہوا کہ شاید قتل کا مقصد اور محرکات سامنے آ جائیں گے، مگر جیسے ہی پولیس نے بتایا کہ نجیب کو پولیس کی حراست میں مارا گیا، عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے نجیب کی ہلاکت پر خوشیاں منائیں اور اسے ایک فتح سمجھا۔
یہ واقعہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم کس طرح ایک متشدد ذہنیت کے حامل معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں ہمیں حقیقت تک پہنچنے کی بہ جائے صرف جلدی سے انصاف کی خواہش ہوتی ہے۔
سفیان کا قتل ایک نہایت دل خراش واقعہ ہے، جس میں نہ صرف اس کے خاندان کے افراد، بل کہ پورے معاشرے کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ بچے کے قتل کا طریقۂ کار اتنا وحشیانہ تھا کہ اس سے ہمیں انسانیت کی حالت پر شدید سوالات اٹھتے ہیں۔ جب تک قتل کا محرک واضح نہیں ہوتا، ہم انصاف کی بنیادی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی ردِعمل کی نوعیت کچھ ایسی بن گئی ہے کہ ہم کسی فرد کو بغیر کسی تحقیق کے مجرم قرار دے دیتے ہیں۔
قتل کے فوراً بعد، پولیس نے افغان نوجوان نجیب کو گرفتار کرلیا، اور اُس کی تفتیش کا عمل شروع کیا۔ عوام میں یہ تاثر قائم ہوگیا کہ اب جلد ہی قتل کے اصل محرکات سامنے آ جائیں گے، مگر اس کے بعد پولیس کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات اور نجیب کے حوالے سے منظرعام پر آنے والی باتیں پورے معاملے کو مزید مشتبہ بناتی ہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم صرف ایک غیرمعمولی ردِ عمل کی بنیاد پر، ایک فرد کی زندگی سے کھیل سکتے ہیں؟
جب پولیس نے یہ بتایا کہ ’’نجیب اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا‘‘، تو ایک اور پیچیدہ سوال پیدا ہوا۔ نجیب کو پولیس کی حراست میں کیوں رکھا گیا تھا، پولیس اُسے اپنے ساتھ کیوں لے گئی، کیا اُس سے صرف جگہ کا پتا معلوم کیا جا رہا تھا، یا اِس کا مقصد کچھ اور تھا…… اور پھر جب نجیب کو فائرنگ کے ذریعے مارا گیا، تو اُس کے بعد تحقیقات کا کیا بنا؟
یہ تمام سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہماری پولیس تفتیش کے عمل میں شفافیت اور دیانت داری کو نظرانداز کرتی ہے۔ جب ایک ملزم کو زندہ عدالت میں پیش کیے بغیر مار دیا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے، بل کہ اس کی جان بھی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ پولیس کا یہ موقف کہ ’’ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا‘‘، ایک ایسا بیانیہ ہے، جو ہمیں پہلے سے معلوم ہے اور اکثر پولیس کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں متشدد ذہنیت کس قدر گہری جڑیں جما چکی ہے؟ جب کسی فرد کو بغیر تحقیق کے، صرف شک کی بنیاد پر مجرم قرار دے دیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اُس فرد کی زندگی کی بے وقعتی کی طرف اشارہ کرتا ہے، بل کہ پورے معاشرتی ڈھانچے کی کم زوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
نجیب کی ہلاکت پر خوشی منانا اور اس کے قتل کو انصاف کا نام دینا، ہماری اجتماعی اخلاقی سطح کا بحران ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے کہ ہم کس طرح ایک متشدد ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ جب ہم کسی دوسرے فرد کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر یہی فیصلے ہمارے اپنے یا ہمارے خاندان کے کسی فرد کے بارے میں کیے جائیں، تو ہمارے دل پر کیا گزرے گی؟
قانون کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی اور انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ جب کوئی فرد پولیس کی حراست میں ہو، تو ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے کہ اس کی جان کا تحفظ کرے اور اسے عدالتی عمل سے گزارے…… مگر ہمارے نظام میں جب پولیس کسی ملزم کو حراست میں لینے کے بعد اس کی جان سے کھیلتی ہے، تو اس سے ہمیں یہ سوال اُٹھانے کا حق ملتا ہے کہ ہم انصاف کے عمل میں کہاں کھڑے ہیں؟
یہ واقعہ نہ صرف پولیس کے غیرقانونی اقدامات کو بے نقاب کرتا ہے، بل کہ ہماری عدلیہ کے کردار پر بھی سوالات اُٹھاتا ہے۔ جب ایک ملزم کو بغیر کسی عدالتی عمل کے قتل کر دیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اس فرد کے حقوق کی پامالی ہے، بل کہ ہمارے معاشرتی اور قانونی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری عوامی ذہنیت کس طرح جذباتی تسکین کے تحت عمل کرتی ہے۔ جب نجیب کی ہلاکت کی خبر آئی، تو عوام میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، جسے صرف ’’انصاف‘‘ سمجھا گیا۔ یہ خوشی ایک بڑے سماجی المیے کی عکاسی کرتی ہے۔ کیوں کہ ہم ایک فرد کی زندگی کا فیصلہ جذباتی بنیاد پر کر دیتے ہیں۔
یہ عوامی ردِعمل نہ صرف عدلیہ کے کام پر اثر انداز ہوتا ہے، بل کہ ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی ایک خطرناک تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اگر ہم نے انصاف کی اس طریقے سے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی، تو ہم مسائل کی جڑ تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ ہر معاملے کو جذباتی طور پر دیکھنا، معاشرتی نظام میں مزید دراڑیں پیدا کرتا ہے۔
اس واقعے کے بعد، ہمیں اپنے معاشرتی رویوں اور نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، پولیس اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ وہ تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنائے۔ جب تک پولیس کو آزادانہ تحقیقات اور غیرجانب دارانہ فیصلوں کی آزادی نہیں ملے گی، اس وقت تک ہمیں اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب، عدلیہ کو بھی اپنے طریقہ کار میں اصلاحات کرنی ہوں گی، تاکہ ملزمان کو جلدی اور منصفانہ انصاف فراہم کیا جاسکے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم انصاف کے عمل میں تاخیر اور غلطیوں کو ختم کریں، تاکہ ہم معاشرتی انصاف کو صحیح طریقے سے نافذ کرسکیں۔
یہ واقعہ ایک آئینہ ہے، جو ہمیں ہماری حقیقت دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے اس واقعے سے سبق نہیں سیکھا اور اپنی ذہنیت اور عدلیہ کے نظام میں اصلاحات نہ کیں، تو ہم ہمیشہ ایسے متشدد ردعمل کا شکار ہوتے رہیں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں، جہاں ہر فرد کے حقوق کی حفاظت کی جائے، جہاں ہر فرد کو انصاف ملے…… اور جہاں ہم جذبات کی بہ جائے حقائق پر مبنی فیصلے کریں۔
اس واقعے سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ کسی بھی فرد کی زندگی یا موت کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں ہمیشہ تحقیق، انصاف اور انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم یہی نہیں کرسکتے، تو ہم کبھی ایک مہذب معاشرہ نہیں بن پائیں گے ۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے