خواتین کی مخصوص نشستیں، ’’جمہوری مذاق‘‘

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

جمہوریت کی روح عوامی نمایندگی ہے۔ یہ نظام اس اُصول پر قائم ہے کہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے حقیقی نمایندوں کا چناو کریں، لیکن کیا مخصوص نشستیں، خصوصاً خواتین کے لیے مختص نشستیں، اس اُصول سے مطابقت رکھتی ہیں؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہیں۔
ہر انتخابی عمل میں عوامی رائے کو بنیاد بنایا جاتا ہے، لیکن مخصوص نشستوں کا تصور اس بنیاد کو کم زور کرتا ہے۔ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، جو بہ ظاہر خواتین کی سیاسی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مختص کی گئی تھیں، اب سیاسی وفاداری، رشتے داری اور اشرافیہ کے مفادات کا آلہ بن چکی ہیں۔ یہ نشستیں اکثر ایسے لوگوں کو دے دی جاتی ہیں، جنھوں نے کبھی عوام کا سامنا نہیں کیا ہوتا، کبھی ایک گلی میں جا کر ووٹ نہیں مانگا ہوتا، اور جنھیں عوامی خدمت کا کوئی تجربہ تک نہیں ہوتا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں کئی ایسی باہمت اور اہل خواتین موجود ہیں، جو اگر بہ راہِ راست الیکشن میں حصہ لیں، تو نہ صرف کام یاب ہوسکتی ہیں، بل کہ موثر قانون سازی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں…… مگر مسئلہ یہ ہے کہ مخصوص نشستوں کے ذریعے پارلیمان میں پہنچنے والی خواتین کی اکثریت اشرافیہ یا سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وہ افراد ہیں، جو پارٹی سربراہ کی قربت یا ذاتی روابط کی بنیاد پر ایوانوں میں آ جاتی ہیں اور اکثر ان کی ترجیح صرف ذاتی وفاداری نبھانا اور مراعات حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی فلاح۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا یہ جمہوریت ہے، کیا ایسے نمایندے یا نمایندہ خواتین واقعی ’’عوام کی آواز‘‘ بن سکتی ہیں، جب وہ عوام سے ووٹ مانگ کر نہیں آتیں، تو وہ عوام کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گی؟
یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اگر کوئی خاتون یا مرد اسمبلی میں آنا چاہتا ہے، تو اُسے میدانِ سیاست میں قدم رکھ کر عوام سے بہ راہِ راست اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔ مخصوص نشستوں کے ذریعے آسان راستہ اختیار کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ آج کا پاکستان بیدار ہوچکا ہے۔ اب صرف نام کے نمایندے نہیں، حقیقی خدمت گزار درکار ہیں۔
اگر ہم جمہوریت کا نام لیتے ہیں، تو ہمیں اس کی روح کو بھی اپنانا ہوگا۔ یہ مخصوص نشستوں کا ڈھکوسلا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو پارٹی ٹکٹ دیے جائیں، میدان میں اتارا جائے، اور وہ بھی عوامی عدالت میں سرخ رو ہوکر ایوان تک پہنچیں۔
جمہوریت کے تحفظ کا واحد راستہ، بہ راہِ راست عوامی مینڈیٹ سے گزر کر آنا ہے۔ ورنہ جو ایوان، نمایندہ عوامی خواہشات کا آئینہ نہ ہو، وہ محض مراعات یافتہ طبقے کی بیٹھک بن کر رہ جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے