ارندھتی رائے (Arundhati Roy) کی ذاتی زندگی اس قدر مشکل اور توقع کے برخلاف رہی ہوگی، اس کا اندازہ مجھے اُن کی حالیہ کتاب "Mother Mary Comes to Me” پڑھنے سے قبل ہرگز نہیں تھا۔
ہاں البتہ اتنا ضرور لگتا تھا کہ اُنھوں نے شاید عوام کو درپیش مسائل بہت قریب سے دیکھے ہوں گے، ورنہ ان مسائل کو اتنی شدت سے محسوس کرنا اور نہایت بہادری سے انھیں چیلنج کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
مجھے اپنے پسندیدہ لکھاریوں کی آپ بیتیوں میں خاص دل چسپی ہوتی ہے۔ وہ کیسے جیے، اُنھوں نے کیا پڑھا، کس نظریاتی ارتقا سے ہو گزرے، کیسے لکھنا شروع کیا، کن آزمایشوں کا سامنا کیا، کیا مشاغل رہے…… اس سے بڑھ کر دل چسپ بھلا کیا ہوسکتا ہے؟
رائے کی اس کتاب کا عنوان کچھ زیادہ اچھا نہیں لگا۔ یہ جان کر بھی مایوسی ہوئی کہ یہ ارندھتی رائے کا اپنی والدہ کے ساتھ ایک پیچیدہ تعلق کے بارے میں ہے۔ ایک ہی تعلق کے بارے میں 380 صفحات پڑھنا بے معنی لگ رہا تھا، لیکن پھر بھی کسی ’’ارندھتیانہ ولولے‘‘ کے تحت پڑھنا شروع کرلیا۔ ویسے بھی تازہ شائع ہوئی کتاب کو فوری طور پر پڑھ لینے کی ایک اپنی ہی "Urge” ہوتی ہے۔
مَیں نے ’’رائے‘‘ کا کوئی فکشن نہیں پڑھا۔ زمانہ ہوا فکشن کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیشِ نظر کتاب کی طرح کتب، جس میں گہرے فلسفیانہ اور سائنسی مباحث نہ ہوں اور کتاب بھی کافی ضخیم ہو، کو پڑھنے کے لیے میرا اپنا مخصوص موڈ ہوتا ہے، جس میں "ReadEra” جیسے ’’ایپس‘‘ کے ذریعے ایک ہی وقت میں کتاب کو سُن اور پڑھ دونوں رہا ہوتا ہوں اور اگر ساتھ واک وغیرہ کر رہا ہوتا ہوں، تو پھر صرف سننے پر اکتفا کرلیتا ہوں۔
تیز سے تیز تر دوڑتی دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے نت نئے راستے نکالنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ارندھتی رائے کی اس کتاب میں آپ کو کیرالہ میں مقیم شامی مسیحیوں کے ایک غیر معمولی خاندان کے کچھ افراد کی ایک غیر معمولی داستان ملے گی، بچوں پر والدین کی تربیت کے دیرپا اثرات کا علم ہوگا۔ رائے کی انتہائی ذاتی زندگی کے کچھ دل چسپ اور لرزہ خیز پہلوؤں کے بارے میں جان کاری ہوگی۔ گھر سے تقریباً نکالی گئی، 20 سال سے اپنے باپ سے ملاقات نہ کر پانے والی، معاشی طور پر بدحال اور انتہائی اکیلی ارندھتی رائے آرکی ٹیکچر کی طالب علمی اور کچھ فلموں میں بہ طور لکھاری اور اداکارہ کام کرنے کے بعد پوری دنیا میں شہرت پانے والی ایک لکھاری کیسے بن گئیں؟ اُنھوں نے سماج اور ریاست کے بندھنوں کو پھلانگتے ہوئے کس طرح کی باغیانہ اور خودمختار زندگی بسر کی؟ انڈیا کی سیاست میں کیا اہم موڑ آئے؟ رائے کن مظالم کے خلاف لکھ کر پاکستانی ایجنٹ کہلائیں، عدالتوں کے چکر کاٹے اور جیل تک گئیں؟ اُن کی کون سی کتاب کیسے وجود میں آئی؟ اُن کی والدہ ایک بے گھر اور اکیلی ماں سے کیرالہ کے مقبول ترین تعلیمی ادارے کی مالکن کیسے بنی اور پدرشاہی اقدار کو کیسے چیلنج کیا……؟ یہ اور اس طرح اور بہت سارے سوالات کے جوابات کتاب کا باقاعدہ حصہ ہیں۔
یہ کتاب رائے کی پوری زندگی کا احاطہ ہرگز نہیں کرتی۔ اُن کی جد و جہد اس سے کہیں بڑھ کر طویل ہے، لیکن پھر بھی یہ اُن کے اب تک کے سفر کے بارے میں ایک عمدہ کاوش ہے۔
پاکستانی نوجوانوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو اسے پڑھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
قارئین! میری فیس بُک وال پر ’’گوگل ایل ایم‘‘ سے تیار کیے گئے ایک پوڈکاسٹ میں آپ ارندھتی رائے کی کتاب "Mother Mary Comes to Me” کا مزید تعارف جان کر مصنوعی ذہانت کو داد دے سکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










