اپنی مرضی کا نکاح، ’’غیرت‘‘اور شریعت

Blogger Hilal Danish

بلوچستان کی سنگلاخ زمین پر ایک بار پھر لہو بہا۔ ایک بار پھر ’’غیرت‘‘ کے نام پر زمین سرخ ہوئی۔ ایک بار پھر دو انسان…… ایک بیٹی، ایک بیٹا صرف اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ ’’زنا‘‘ نہیں، ’’نکاح‘‘ کرنا چاہتے تھے ۔
جی ہاں، نکاح…… وہ مقدس رشتہ، جسے قرآن نے عبادت کہا، جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سنت قرار دیا، اور جسے معاشرہ آج جرم سمجھ بیٹھا ہے۔
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، یہ ایک مکمل سماجی المیہ ہے، جہاں مقتولہ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن موجود تھا، مگر قاتلوں کو وہ قرآن نظر نہ آیا۔
٭ قصور کیا تھا؟
نہ قانون توڑا، نہ فساد پھیلایا، نہ کسی کو لوٹا، نہ کسی کی عزت پر حرف لایا…… بس نکاح کیا۔ ماں باپ کی مرضی کے بغیر سہی، لیکن شریعت کے دائرے میں…… اور یہی بات کچھ لوگوں کی غیرت پر گراں گزری۔ اور پھر وہ ہوا جسے ’’قتل برائے عزت‘‘ کہا جاتا ہے، مگر درحقیقت وہ ’’قتل برائے جہالت‘‘ تھا۔
٭ شریعت کیا کہتی ہے؟
اسلام نہایت واضح اور مدلل دین ہے۔ نکاح کے باب میں قرآن، سنت اور فقہ سب متفق ہیں کہ ’’بالغ لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرسکتے ہیں۔‘‘
ماں باپ کی رضامندی باعثِ برکت ضرور ہے، لیکن اگر وہ رکاوٹ بن جائیں، یا جبر کریں، تو شریعت ایسے نکاح کو باطل نہیں قرار دیتی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات میں صراحت ہے کہ ’’بیوہ اور طلاق یافتہ عورت کا نکاح اُس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے…… اور کنواری سے بھی اجازت لی جائے۔ اگرچہ اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے۔‘‘ (صحیح بخاری)
تو پھر وہ معاشرہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے، کیسے اس بنیادی حکم سے نابلد رہ سکتا ہے؟
٭ ’’غیرت‘‘ یا ’’اجتماعی منافقت؟‘‘
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں زنا ہو تو خاموشی، بے حیائی عام ہو، تو نظریں چرا لی جاتی ہیں، بازار میں عزت بکے، تو سوال نہیں اٹھتا، لیکن…… جب ایک لڑکی قرآن اُٹھا کر پاکیزہ نکاح کا اعلان کرے، تو تمھارے خنجر تیز ہوجاتے ہیں، تمھاری بندوقیں غیرت سے بھر جاتی ہیں، تمھارا دین، تمھارا قانون، تمھاری انسانیت…… سب کچھ گونگا ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تم نے قرآن میں یہ پڑھا ہے کہ نکاح کرنے والوں کو قتل کرو؟
کیا رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایسے کسی ’’غیرت کے قتل‘‘ کو جائز قرار دیا؟
کیا آئین پاکستان، جو اسلامی اُصولوں پر قائم ہے، اِس کی اجازت دیتا ہے؟
ہرگز نہیں……!
تو پھر یہ جرم کس بنیاد پر کیا گیا؟ صرف اس لیے کہ تم نے اپنی غیرت کو قرآن سے نہیں، قبیلے کی روایت سے جوڑا ہے؟
تمھارا دین نہیں، تمھاری غلامی بولتی ہے سردار کی، خاندان کی، جھوٹی عزت کی۔
اب انکار مت کرو، تم قاتل ہو……!
ہاں……! تم قاتل ہو، اُس لڑکی کے خوابوں کے، اُس لڑکے کے ارادوں کے، اُس قرآن کے، جسے وہ اُمید کی آخری ڈھال سمجھ کر ساتھ لائی تھی۔
ہاں……! تم قاتل ہو اُس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کے، جس نے نکاح کو فتنوں کا حل قرار دیا۔
تم کہتے ہو کہ حکومت ظلم کرتی ہے کہ تمھیں تعلیم نہیں دیتی، روزگار نہیں دیتی، سکون نہیں دیتی…… لیکن جب تم خود اپنی بیٹیوں کو قتل کرتے ہو، جب نکاح جیسے مقدس عمل کو جرم سمجھتے ہو، تو پھر تمھیں کون سی آزادی درکار ہے؟
وہ جوڑا’’گنہ گار‘‘ نہیں تھا۔ یہ زمانہ، جہاں زنا آسان اور نکاح مشکل بنا دیا گیا ہے، اس میں اگر دو نوجوان قرآن کی گواہی میں نکاح کرتے ہیں، تو وہ قابلِ فخر ہیں، وہ معاشرے کی آنکھ کا تارا ہونے چاہییں، نہ کہ تدفین کی مٹی۔
اب وقت ہے خاموشی توڑنے کا…… ہم حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ اُن پر علانیہ مقدمہ چلایا جائے۔ اُنھیں سخت ترین سزا دی جائے، تاکہ آیندہ کوئی نکاح کرنے والے پر ہاتھ اُٹھانے سے پہلے کانپے۔
ہم علمائے کرام سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اب بھی منبر خاموش رہے گا؟
کیا اب بھی غیرت کے نام پر قتل کو رسم سمجھا جائے گا؟
کیا اب بھی نکاح سے زیادہ خاندان کی مرضی کو اہمیت دی جائے گی؟
ہم عوام سے کہتے ہیں کہ اب بولنے کا وقت ہے ۔ اگر آج نہیں بولے، تو کل ایک اور لڑکی، ایک اور لڑکا قرآن سمیت مار دیے جائیں گے۔
زندگی دو انسانوں نے مانگی تھی، شریعت کے دائرے میں، محبت کے وعدے پر، قرآن کے سائے میں…… اور بدلے میں ملی موت…… وہ بھی ’’غیرت‘‘ کے نام پر، ’’روایت‘‘ کے نام پر، ’’بے حسی‘‘ کے سائے میں۔
یاد رکھو……! یہ دین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہے۔ یہاں نکاح گناہ نہیں، لیکن جہالت قاتل ہے۔ اور قاتل کو چھوڑ دینا پورے معاشرے کا جرم ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے