کیلاش کا مقدس پہاڑ

Blogger Khalid Hussain Borewala

کیلاش کا پہاڑ (21778فٹ)، تبت کے علاقے میں ہے، جو آج کل چین کے زیرِ تسلط ہے۔ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور بون مت کے چاروں مذاہب کے نزدیک یہ ایک مقدس پہاڑ ہے۔ اسی کے ساتھ جھیل مانسروور اور جھیل رکشاستل نام کی دو عدد بڑی جھیلیں بھی ہیں۔ مانسروور جھیل کا پانی میٹھا جب کہ رکشاستل جھیل کا پانی نمکین ہے۔ مانسروور جھیل کی اونچائی سطحِ مرتفع سے 4690 میٹر جب کہ رکشاستل کی 4775 میٹر ہے۔
مانسروور جھیل کے پانیوں سے عظیم دریائے سندھ نکلتا ہے، جسے تبتی زبان میں ’’سنگے کھبب‘‘ یعنی شیر کا منھ کہتے ہیں۔ دریائے ستلج بھی اسی کے پانیوں سے وجود پاتا ہے، جسے مقامی لوگ لنگچن زینگبو کَہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے برہم پتر بھی نکلتا ہے، جو ہندوستان کے علاقے کو سیراب کرتا ہے۔ جب کہ دریائے کرنالی بھی یہیں سے وجود پاتا ہے۔ یوں یہ علاقہ چار بڑے دریاؤں کا منبع ہے۔
مانسروور جھیل چین کے زیرِ تسلط سطحِ مرتفع تبت کے مغرب میں چین، انڈیا اور نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ہندو مت کے نزدیک کیلاش پہاڑ شیو دیوتا کا آسمانی مسکن ہے، جس کی چوٹی پر شیو اپنی پریوتی اور اپنے بچوں کے ساتھ رہایش پذیر ہیں۔
کیلاش سے تھوڑا ملتا جلتا ایک پہاڑ اس سال مَیں نے بھی دیکھا…… جب مَیں، ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب، میاں ارشد اور ارشاد انجم ضلع سکردو میں گیاری سیکٹر دیکھنے گئے۔
’’دوم سوم گاؤں‘‘ جسے اَب ’’دم سم‘‘ کہا جاتا ہے، سے تھوڑا آگے بائیں طرف والے پہاڑوں کے بیچ یہ بھی چپ چاپ کھڑا تھا۔ اپنی سوچوں میں گم۔
یہ کیلاش جتنا بڑا پہاڑ تو نہیں، مگر اس کی شکل کیلاش سے تھوڑی ملتی جلتی ضرور ہے۔ ہم اسے پاکستانی کیلاش ماؤنٹین کَہ سکتے ہیں۔ ہندو، بدھ، جین اور بون مت والے تو مانسروور جھیل تک پیدل چل کر جاتے ہیں اور پھر کیلاش پہاڑ کے گرد چکر لگا کر اپنی مذہبی عبادت مکمل کرتے ہیں، مگر کیلاش کی طرح نہ یہ مقدس ہے، نہ چین کی طرح پاکستانی حکومت نے اسے سر کرنے پر کوئی پابندی لگائی ہے، نہ یہاں کوئی یاتری تھا جو کیلاش کی طرح اس طرف پیدل چل کر جا رہا ہو اور نہ اس کے گرد کوئی شخص چکر لگاتا ہی نظر آیا۔
ہاں! ایک بات ہے کہ مگر صدیوں قبل ’’خپلو‘‘ کا یہ علاقہ بون مت جسے یہاں بلتی زبان میں ’’بون چھوس‘‘ کہتے ہیں، کا مرکز رہا ہے۔ ’’خپلو‘‘ کے لوگوں کا ابتدائی مذہب بون چھوس ہی تھا۔ پھر ایرانی قبضہ ہوا، تو یہاں ’’مجوسیت‘‘ (یعنی زردتشت، جسے اب زرتشت لکھتے ہیں) پھیل گیا۔ پھر تبتی تسلط کے بعد صدیوں تک یہ سارا علاقہ بدھ مت کا پیرو کار بنا رہا۔ یہاں تک کہ 8ویں صدی کے آخر پر میر سید علی ہمدانی کشمیر سے یہاں تشریف لائے، اُس وقت یہاں پر یبگو مقیم خاں کی حکومت تھی۔ اُنھوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کی، تو لوگ جوق در جوق اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسلمان ہوتے گئے اور آج (الحمد للہ) اس سارے علاقے میں 95 فی صد شیعہ مسلمان ہیں جو شیعہ مسلمانوں کی ذیلی شاخ نور بخشیے کہلاتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے