میوہ دار درخت: ماحول، معیشت اور روزگار

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

پاکستان بھر میں موٹرویز اور ہائی ویز کا نیٹ ورک مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ آج ملک کے طول و عرض میں تقریباً 3000 کلومیٹر سے زائد موٹروے موجود ہے، اور مستقبل میں مزید توسیع جاری ہے۔
ان شاہ راہوں کے دونوں کنارے ہزاروں ایکڑ بنجر یا غیر استعمال شدہ سرکاری زمین پر مشتمل ہیں۔ اگر حکومتی وِژن اور نیت شامل ہو، تو یہی زمین ملک کی زرعی معیشت، ماحولیاتی بہتری اور روزگار کے مواقع کا خزانہ بن سکتی ہے۔
٭ تحقیق اور مثالیں:۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس ماڈل پر عمل کر چکے ہیں، جیسے:
٭ چین میں ’’بیجنگ-شنگھائی ہائی وے‘‘ کے کنارے زیتون، انجیر اور شہتوت کے درختوں کی قطاریں ہیں، جو سالانہ لاکھوں ڈالر کا پھل اور شہد فراہم کرتی ہیں۔
٭ ترکی اور اسپین میں زیتون اور بادام کے باغات سڑکوں کے اطراف لگا کر ایک مکمل زرعی صنعت کھڑی کی جا چکی ہے۔
پاکستان میں بھی پنجاب کے چند اضلاع میں تجرباتی طور پر ہائی ویز کے کنارے زیتون اور بیر کے درخت لگائے گئے تھے، جن سے مثبت نتائج حاصل ہوئے۔ تاہم بدقسمتی سے یہ کام چند پائلٹ پروجیکٹوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔
٭ ممکنہ مالی فائدہ:۔ ماہرین کے مطابق اگر صرف 1 کلومیٹر موٹروے کے کنارے دونوں طرف 10 ہزار درخت لگائے جائیں، تو:
٭ ایک درخت اوسطاً سالانہ 20-25 کلو پھل دیتا ہے۔
٭ 1000 کلومیٹر موٹروے پر لگے درختوں سے سالانہ 2 لاکھ ٹن سے زائد پھل حاصل ہو سکتا ہے۔
٭ مذکورہ پھل مقامی منڈیوں کے ساتھ ساتھ برآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔
٭ حکومت کو کروڑوں روپے کی آمدن، کسانوں کو روزگار اور عوام کو سستا پھل میسر آسکتا ہے۔
٭ ماحولیاتی فوائد:۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔
اس طرح گرین ہاؤس گیسوں میں کمی اور درجۂ حرارت کنٹرول میں مدد ملتی ہے۔ سڑک کنارے دھول اور شور میں نمایاں کمی آتی ہے۔ نیز شہد کی مکھیوں کی افزایش اور ’’بایو ڈائیورسٹی‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔
٭ عملی تجاویز:۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور محکمۂ جنگلات کے اشتراک سے ایک مشترکہ ’’گرین کوریڈور پروجیکٹ‘‘ تشکیل دیا جائے۔
ہر صوبے میں موسمی اور مقامی پھل دار پودوں کا انتخاب کیا جائے، جیسے:
٭ پنجاب میں آم، زیتون اور بیر کا انتخاب فائدہ مند ہوگا۔
٭ خیبر پختونخوا میں خوبانی، آڑو اور اخروٹ کا انتخاب۔
٭ بلوچستان میں انار، بادام اور زیتون کا انتخاب۔
٭ سندھ میں آم، جامن اور لیچی کا انتخاب۔
٭ دیگر کام:۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی کسانوں اور نوجوانوں کو ان درختوں کی دیکھ بھال کا ٹھیکا دیا جائے۔
٭ ’’پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘‘ کے تحت سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جائے۔
٭ پھلوں کی فروخت کے لیے ’’موٹروے مارکیٹ پوائنٹس‘‘ اور ’’فوڈ پروسیسنگ یونٹ‘‘ قائم کیے جائیں۔
یاد رکھیں کہ یہ صرف ایک شجرکاری مہم نہیں، بل کہ ایک معاشی و ماحولیاتی انقلاب ہوسکتا ہے ۔
قارئین! ہم موٹروے پر سفر تو کرتے ہیں، مگر اگر وہی سفر ہمیں معیشت کی مضبوطی، نوجوانوں کو روزگار اور زمین کو سرسبزی دے جائے، تو یہ ترقی کی ایک خاموش، مگر طاقت ور شکل ہو گی۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ محض افتتاحی فیتے کا کھیل نہ کھیلے، بل کہ ایسے پائیدار، پیداواری اور بامقصد منصوبوں کو ترجیح دے، جو نسلوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے