’’میرا نام تاجر ہے۔ مَیں چاہے مر بھی جاؤں، اپنی زمین کسی کو نہیں دے سکتا۔ یہ زمین مجھے میرے باپ سے وراثت میں ملی ہے۔ اگر میں اسے بیچ دوں، تو میرے پوتے اور پڑپوتے کہاں جائیں گے؟ میرے 9 بچے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پہلے ان کو ذبح کرے، پھر یہ منصوبہ (مدین ہائیڈرو پاؤر) بنائے ۔‘‘
یہ جذبات کالاگی (مدین کے قریب واقع گاؤں) کے ایک کسان تاجر کے ہیں، جس کی زمین ’’مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ‘‘ کے پاؤر ہاؤس کے لیے درکار ہے۔
اسی گاؤں کے ایک اور کسان، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا: ’’پیڈو (پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن) کہتا ہے کہ وہ لوگوں کو روزگار دے گا۔ اس سے مراد صرف مزدوری ہے؛ بہتر نوکریاں تو رشوت اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے باہر سے آنے والوں کو دی جائیں گی۔‘‘
کالاگی ہی کے ایک اور کسان نے کہا: ’’خدا کی قسم، ہم یہ منصوبہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے، جب تک کہ وہ ہماری گردنیں نہ کاٹ دیں۔ اگر ہم اپنی زمین بیچ دیں، تو ہمیں قبر کے لیے جگہ بھی نصیب نہ ہوگی۔ ہم اپنے مردوں کو کہاں دفنائیں گے؟‘‘
مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ ایک 157 سے 207 میگاواٹ کا منصوبہ ہے، جسے پیڈو نے دریائے سوات پر اس انداز سے ڈیزائن کیا ہے کہ وہ دریا کو کیدام گاؤں کے قریب، بحرین سے چھے کلومیٹر اوپر، ایک 12 کلومیٹر طویل سرنگ میں موڑ دے گا۔ اس سے قبل ایک 16.5 میٹر اونچا ذخیرۂ آب (Reservoir) تعمیر کیا جائے گا۔ یہ سرنگ دریا کے بائیں کنارے بنے گی اور اس کا اختتام کالاگی کے قریب ہو گا، جہاں پاؤر ہاؤس تعمیر کیا جانا ہے۔
’’مدین ہائیڈرو پاؤر سکیم‘‘ اور ’’گبرال-کالام ہائیڈرو پاؤر سکیم‘‘، دونوں خیبر پختونخوا ہائیڈرو اینڈ رینیوایبل انرجی پروگرام (KHRE) کا حصہ ہیں، جسے عالمی بینک کی مالی معاونت حاصل ہے۔ یہ دونوں منصوبے حال ہی میں ’’نیشنل ٹرانس میشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی‘‘ (NTDC) کے 10 سالہ اشاریہ جاتی منصوبہ ’’آئی جی سی ای پی 2024-2034ء‘‘ سے وفاقی حکومت کے کہنے پر نکال دیے گئے، جس پر خیبر پختونخوا حکومت نے شدید احتجاج کیا۔
خیبر پختونخوا حکومت نے اس فیصلے پر اپنے تحفظات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا۔ مارچ 2024ء میں وزیرِاعلا خیبر پختونخوا کے توانائی اور بجلی کے معاونِ خصوصی طارق صدو زئی نے وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس خان لغاری کو ایک خط میں لکھا کہ گبرال-کالام (88 میگاواٹ) اور مدین (207 میگاواٹ) کے ہائیڈرو پاؤر منصوبے، جو کہ خیبر پختونخوا ہائیڈرو اینڈ رینیوایبل انرجی پروگرام (KHRE) کے تحت عالمی بینک کی مالی معاونت سے چل رہے ہیں۔ انھیں "NTDC” کے تیار کردہ ’’آئی جی سی ای پی‘‘ میں شامل کیا جائے۔
اُنھوں نے یہ بھی دعوا کیا کہ یہ دونوں منصوبے اس سے قبل "IGCEP 2021-31” میں شامل تھے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ منصوبے تمام مطلوبہ معیار اور مفروضات پر پورا اُترتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں "IGCEP 2024-34” کے ڈرافٹ میں ’’کمیٹیڈ پراجیکٹس‘‘ کی فہرست سے نکال دیا گیا۔
’’آئی جی سی پی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک بھر کی بجلی اور توانائی کی ضروریات کو سستے، پائیدار اور قابلِ اعتماد ذرائع سے پورا کرنا ہے اور اس میں مقامی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ "NTDC” ہر سال تیار کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے ریگولیٹری تقاضے، جیسا کہ گرڈ کوڈ کے پلاننگ کوڈ 4 میں درج ہے، پورے کرسکے۔
’’آئی جی سی پی‘‘ کے مطابق، کسی منصوبے کو ’’کمیٹیڈ‘‘ (Committed) تصور کرنے کے لیے درجِ ذیل میں سے کم از کم ایک شرط کا پورا ہونا ضروری ہے:
٭ نجی شعبے کے منصوبے، جن کا مالیاتی بندوبست مکمل ہو، یا جو تعمیر کے مراحل میں ہوں، جن کے پاس "Letter of Support” (LOS) اور معاہدہ EPA/ PPA) یا (IA موجود ہو۔
٭ سرکاری شعبے کے وہ منصوبے جن کی اسٹریٹجک اہمیت ہو، یا جو تعمیر کے مراحل میں ہوں، جن کا پی سی وَن منظور شدہ ہو اور مالی بندوبست موجود ہو۔
٭ حکومت بہ حکومت (G2G) منصوبے۔
٭ متبادل توانائی (ونڈ، سولر، بیگاس) منصوبے جو "CCoE” کے فیصلے مورخہ 4 اپریل 2019ء کے زمرہ I یا II میں شامل ہوں۔
آئی جی سی پی (2024-34) کی فہرست میں 63 کمیٹیڈ منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن میں مدین اور گبرال-کالام منصوبے شامل نہیں۔
آئی جی سی پی کی 10 سالہ منصوبہ بندی میں 87 ہائیڈرو منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن کے لیے لاگت "CAPEX” اور "OPEX” کے بارے میں نیپرا سے منظوری درکار ہے۔ اگر کسی منصوبے کی لاگت "IGCEP” میں شامل لاگت سے زیادہ ہو، تو منصوبے کی ازسرِ نو جانچ کی جائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ توانائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے لیے کم سے کم لاگت والی طویل مدتی حکمتِ عملی بنائی جاسکے، جو موجودہ تکنیکی، اقتصادی اور سیاسی حدود میں ممکن ہو۔
مذکورہ معیارات اور اس کے بعد مدین اور گبرال-کالام منصوبوں کا اخراج ظاہر کرتا ہے کہ شاید یہ منصوبے مالی لحاظ سے مہنگے ہیں۔ اگرچہ مالی لحاظ سے یہ بات درست ہوسکتی ہے، مگر نہ تو "IGCEP” اور نہ طارق صدو زئی کے خط میں یہ ذکر ہی ہے کہ ان منصوبوں کی قیمت مقامی لوگوں کی دی گئی قربانیوں کی صورت میں کیا پڑتی ہے، جن میں ان کے وسائل، ماحولیاتی نظام، زمین، ثقافت اور حقوق شامل ہیں؟
جولائی 2024ء سے ’’مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ‘‘ کے دائرۂ اثر میں آنے والی مقامی توروالی کمیونٹی اس منصوبے کے خلاف ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کے بینر تلے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ کمیونٹی کا موقف ہے کہ اس منصوبے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اُصولوں جیسے کہ (PFIC پہلے سے دی گئی، منصفانہ اور باخبر رضامندی)، موثر مشاورت، شناخت کی غلط ترجمانی اور نوآبادیاتی دور کے قانون ’’لینڈ ایکوزیشن ایکٹ‘‘ کی دفعہ 4 کے جبری اطلاق کی صریح خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
اس منصوبے کی ماحولیاتی و سماجی اثرات کی رپورٹ (ESIA) اور بہ حالی کا منصوبہ (RAP)، 16 کلومیٹر کے اس سیاحتی علاقے پر ممکنہ اثرات کو یک سر نظرانداز کرتے ہیں، جہاں بحرین جیسے خوب صورت مقامات واقع ہیں، جہاں 100 سے زائد ہوٹل، ریستوران اور ہزاروں دکانیں سیاحت پر منحصر ہیں۔
یہی رپورٹیں ان دیہات (پونکیا، درولئی، شگئی، آئین، منکر) پر پڑنے والے اثرات کا ذکر بھی نہیں کرتیں، جن کے 25 ہزار سے زائد افراد کا انحصار قدرتی چشموں اور آب پاشی کے لیے ان چشموں پر ہے۔
دریائے سوات نہ صرف اس علاقے کا حسن ہے، بل کہ یہ کاربن جذب کرنے والا قدرتی ذریعہ بھی ہے۔ توروالی قوم کی ثقافت، داستان گوئی اور روحانی تصورات اس دریا اور چشموں سے جڑے ہیں۔ یہ 65 ہزار سے زائد افراد دریا کے دونوں کناروں پر آباد ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد پہلے ہی 36 میگاواٹ کے درال خوڑ ہائیڈرو منصوبے سے متاثر ہوچکی ہے، جو 2018ء میں بحرین سے اوپر تعمیر کیا گیا تھا اور جسے بھی ’’پیڈو‘‘ ہی نے بنایا تھا۔
حکومت اور نہ "IGCEP” ہی ان لوگوں کے تحفظات کو اہمیت دیتی ہے۔ مقامی افراد نے عالمی بینک کو باقاعدہ خطوط اور اس کے شکایات کے نظام کے ذریعے اپنی فریاد پہنچائی ہے اور وہ عالمی بینک کے ساتھ مسلسل مشاورت میں بھی ہیں…… مگر ’’پیڈو‘‘ کی نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے یہ عمل کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا۔ جب کہ مقامی لوگ اور عالمی بینک ایک ’’ایکشن پلان‘‘ پر بات چیت کر رہے ہیں۔
’’پیڈو‘‘ مختلف حربوں سے اس عمل کو تاخیر کا شکار بنا رہا ہے اور مقامی لوگوں کو عالمی بینک سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ضلعی انتظامیہ کو استعمال کرکے تحریک کو دبانے اور ’’قومی سلامتی‘‘ یا ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر دباو ڈال رہا ہے۔ یہاں تک کہ عالمی بینک کی اعلا انتظامیہ سے متعلق سازشی نظریات بھی پھیلائے جا رہے ہیں۔
توروالی قوم کے ’’مدین ہائیڈرو پاؤر سکیم‘‘ سے متعلق تین بنیادی مطالبات ہیں:
٭ سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ منصوبے کے موجودہ ڈیزائن میں بنیادی تبدیلی لائی جائے۔ سرنگ کی لمبائی 12 کلومیٹر سے کم کر کے 4 کلومیٹر کی جائے اور بجلی کی پیداوار بھی کم کی جائے۔ اگر حکومت اور قرض دہندہ اسے قابلِ عمل نہ سمجھیں، تو منصوبہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔
٭ مدین پراجیکٹ کے علاقے میں رہنے والے توروالی لوگ، ’’بین الاقوامی ادارہ محنت‘‘ (ILO) یا عالمی بینک کے طے کردہ معیار کے مطابق، باقاعدہ ’’اصل باشندے‘‘ (Indigenous Peoples) ہیں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بنک نے حالیہ دنوں میں توورالی لوگوں کی آبائی حیثیت کے تعین کے لیے بنیادی تحقیق کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ورلڈ بنک اس حیثیت کو تسلیم کر لے گا۔
٭ منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی اور توروالی لوگوں کو اصل باشندہ تسلیم کرنے کے بعد، ایک جامع "Indigenous Peoples’ Development Framework” (IPDF) تشکیل دیا جائے، جس میں سماجی ترقی، ذریعۂ معاش کی بہ حالی اور توروالی ثقافت و ورثے (مادی اور غیر مادی دونوں) کے تحفظ و ترقی کا مکمل منصوبہ شامل ہو۔
حالیہ حالات کو دیکھتے ہوئے، مدین ہائیڈرو پاؤر سکیم مستقل طور پر "IGCEP” سے خارج کیا جانا چاہیے۔ "IGCEP” کی جانب سے اس کے اخراج کی دلیل صرف مالی لاگت ہے۔ حالاں کہ ایسے منصوبوں کے اثرات، خاص طور پر شمالی پاکستان جیسے حساس علاقوں میں، مقامی آبادی پر کیا پڑتے ہیں؟ یہ بھی ایسے ہر پن بجلی منصوبے کی جانچ کے لیے ایک اہم معیار ہونا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










