سوات: متوڑیزئی قومی جرگہ

Blogger Hilal Danish

سوات، جو اپنی بے پناہ خوب صورتی، ثقافت اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہے، ایک بار پھر دہشت گردوں کی نظر میں ہے۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران میں دہشت گردی اور بدامنی کی نئی لہر نے اس خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ متوڑیزی قامی جرگہ، جو ’’سانحۂ ولی آباد، چارباغ‘‘ کے بعد قائم ہوا، ہمیشہ سے امن و استحکام کی بہ حالی میں پیش پیش رہا ہے اور عوام کو یک جا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
٭ تلیگرام پولیس اسٹیشن پر حملے اور متوڑیزی قامی جرگہ کا ردِ عمل:۔ حال ہی میں دہشت گردوں نے تلیگرام پولیس اسٹیشن پر دو مرتبہ حملہ کیا، جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا…… لیکن متوڑیزی قامی جرگہ نے اس حملے کے بعد نہ صرف پولیس کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا، بل کہ تاریخی اجتماعات منعقد کر کے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا کہ متوڑیزی کے لوگ اپنی پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو بھی اپنے علاقے کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ اجتماعات علاقے کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیے جا سکتے ہیں، جن میں نوجوانوں اور مشران کی بھرپور شرکت نے پولیس کا مورال بلند کیا اور عوام میں اتحاد و یک جہتی کو فروغ دیا۔
٭ گذشتہ برس کے تاریخی مظاہرے اور متوڑیزی قامی جرگہ کا کردار:۔ گذشتہ برس جب سوات میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اُٹھانے، ممکنہ فوجی آپریشن اور ’’ڈالری جنگ‘‘ کے خطرات منڈلا رہے تھے، تو عوام نے اِن تمام مسائل کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ سوات کے مختلف علاقوں اور تحصیلوں میں تاریخی مظاہرے منعقد کیے گئے، جن میں مینگورہ، خوازہ خیلہ، کبل، مٹہ، بریکوٹ اور چارباغ کے مظاہرے قابلِ ذکر ہیں۔
یہ مظاہرے ’’پاسون‘‘ کے نام سے جانے گئے، جن میں عوام نے دہشت گردی، بدامنی اور بیرونی مداخلت کے خلاف اپنی بھرپور مخالفت کا اظہار کیا۔
متوڑیزی قامی جرگہ نے ان تمام مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اور عوامی امنگوں کی نمایندگی کرتے ہوئے واضح کیا کہ سوات کے لوگ کسی بھی صورت دہشت گردی یا غیر ضروری عسکری کارروائیوں کو قبول نہیں کریں گے۔
یہ جرگہ محض ایک رسمی ادارہ نہیں، بل کہ ایک عوامی تحریک ہے، جس میں ہر وہ فرد شامل ہے، جس کا تحصیلِ چارباغ کا قومی شناختی کارڈ ہے۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا مکتبہ فکر کا جرگہ نہیں، بل کہ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں، مکاتبِ فکر اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
جرگے کے تمام اراکین نے اس عہد پر اتفاق کیا ہے کہ: ’’اول تحصیلِ چارباغ کے عوام کے مفادات اور امن کا قیام مقدم ہوگا، اس کے بعد کوئی سیاسی وابستگی ہوگی۔‘‘
امن کے لیے عملی اقدامات:
٭ مسجد سے مسجد اور گاؤں سے گاؤں آگاہی مہم:۔ متوڑیزی قامی جرگہ نے ہمیشہ امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں مسجد سے مسجد اور گاؤں سے گاؤں آگاہی مہم سب سے اہم ہیں۔
اس مہم کے تحت:
٭ باہمی بھائی چارے اور امن کی ضرورت پر زور:۔ مساجد میں علمائے کرام اور مشران کے ذریعے عوام میں بھائی چارے اور امن کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے ۔
٭ اجتماعات کا انعقاد:۔ اس مہم کے تحت ہر گاؤں میں اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو دہشت گردوں کے خلاف متحد کیا جا سکے۔
٭ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال:۔ نوجوانوں کو امن کا سفیر بنایا جا رہا ہے، جو جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے علاقے میں شعور بیدار کر رہے ہیں۔
متوڑیزی قامی جرگہ نے ثابت کر دیا ہے کہ جب عوام متحد ہوں، تو کسی بھی دہشت گرد یا شرپسند کو کام یاب نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
آج جب سوات، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر سر اُٹھا رہی ہے، تو متوڑیزی کے عوام اپنی یک جہتی، ہوش مندی اور قربانیوں سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ کسی صورت اپنے علاقے کو دوبارہ بدامنی کی طرف جانے نہیں دیں گے۔
یہ جرگہ پورے خیبرپختونخوا اور پاکستان کے لیے ایک ’’مثالی تحریک‘‘ ہے کہ اگر عوام اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوجائیں اور امن کے قیام کو اپنی اجتماعی ذمے داری سمجھیں، تو کوئی بھی طاقت ان کے خلاف کام یاب نہیں ہوسکتی۔
یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور متوڑیزی قامی جرگہ نے اس ضرورت کو پورا کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے