سردی میں گرم اور گرمی میں سرد کمروں میں بیٹھ کر بے مقصد منصوبے اور بے فائدہ پالیسیاں بنانا پاکستان جیسی ریاست میں بالکل انوکھی بات نہیں۔ منصوبے اور پالیسیاں بناتے وقت عوام کو ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ سننے والوں کا دل مچلنے لگتا ہے کہ کب منصوبے کا آغاز ہوگا اور کب ہم عوام اس سے مستفید ہوں گے!
پاکستان میں لاہور سے ساہیوال تک الیکٹرک ٹرین چلانے کا منصوبہ شروع کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں کراچی تک الیکٹرک ٹرین چلائی جائے گی، لیکن آج تک اُس میں ایک میل تک کااضافہ نہ کیا جا سکا اور لاہور سے کراچی تک الیکٹرک ٹرین چلانے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ لاہور سے ساہیوال تک الیکٹرک ٹرین چل بھی رہی ہے یا نہیں؟ اس کی ناکامی کی وجہ منصوبہ سازوں کے غلط اعداد و شمار، غیر منطقی سوچ اور بجلی پیدا کرنے کے بارے میں منصوبہ سازی کانہ ہونا تھی۔ منصوبے کی کام یابی تو کیا، ہمارے منصوبہ سازتوانگریز سرکار کی بچھائی گئی ریلوے لائن بھی کھاگئے۔
حکم رانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں تعلیم کی بھی پالیسیاں اور منصوبے بنائے، جیسے جونیجو کے دور میں مکتب سکول اور بعدمیں نئی روشنی سکول، ’’ لیٹرسی فار آل‘‘ (ایل ایف اے) اور غیر رسمی سکول کی پالیسیاں اور منصوبے بنائے گئے، مگر بات نہ بن سکی۔
اسی طرح حکم رانوں نے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کوسی این جی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ منصوبہ سازوں نے اس کے فوائد گنوا کر عوام کو سبز باغ دکھائے۔ عوام نے سی این جی کی کم قیمت اور ماحولیاتی آلودگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گاڑیوں میں سی این جی کٹس لگوائے اور سرمایہ کاروں نے قیمتی مشینری برآمد کرکے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں سی این جی سٹیشن قائم کیے۔
افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ منصوبہ سازوں نے سی این جی کی طلب و رسد کے بارے میں کوئی منصوبہ سازی نہیں کی۔ گیس پیداوار میں کمی اور طلب و رسد میں فرق کی وجہ سے اب سی این جی سٹیشنوں کو بند کرنا پڑتا ہے، یعنی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔
برسرِاقتدار حکم ران یہ دعوا کرتے نہیں تھکتے کہ ہم نے اتنے لوگوں کو گیس فراہم کی، لیکن گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بھی بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ کہیں پر گیس پریشر کم، تو کہیں پر گیس کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے۔
حکم ران بجلی کی مد میں بھی یہی دعوے کرتے رہے ہیں، لیکن افسوس کہ بجلی کی طلب و رسد کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے حکم رانوں نے آئی پی پیز سے مہنگے معاہدے کرکے پاکستانی خزانہ اور عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنا شروع کیے۔ عوام بجلی بلوں کی ادائی کے لیے زیوارت اور دیگر گھریلو سامان بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
گذشتہ کئی برسوں کے دوران میں لوڈ شیڈنگ اور حالیہ دنوں میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے بعد پاکستان میں گھروں اور دفتروں پر سولر پینل نصب کرکے اپنی ضرورت کی بجلی پیدا کرنے کی پالیسی ترتیب دی گئی، تو لوگوں میں سستی بجلی اور واپڈا کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی کے رحجان میں اضافہ دیکھاگیا…… جس کی وجہ سے نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔
’’نیٹ میٹرنگ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ سولر پینل کی مدد سے سورج کی روشنی سٹور کرکے اس سے حاصل ہونے والی بجلی کو اپنے گھر یا دفتر میں استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ اضافی بجلی واپڈا کو مناسب رقم کے بدلے فراہم کرتے ہیں۔
آپ یہ سمجھ لیں کہ نیٹ میٹرنگ کا سسٹم ایک گرین میٹر کے ذریعے واپڈا گریڈ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور آپ اپنی چھت پر سولر پینل سے حاصل ہونے والی بجلی واپڈا کو فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ سہولت عام طور پر چھوٹے پیمانے پر استعمال ہونے والے سولرانرجی سسٹم کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ کیوں کہ یہاں ’’آف گرڈ سسٹم‘‘ کی بات ہوتی ہے، جو صرف دن کے وقت چلتی ہے۔ رات کوواپڈا کی بجلی پر منتقل ہونا پڑتا ہے، یا پھر لوڈ شیڈنگ کے وقت یو پی ایس کا سہارا لیا جاتا ہے۔
انتخابات سے پہلے مسلم لیگ (ن) حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی اور سولر پاؤر کو فروغ دینے کے وعدے کیے، تاکہ عوام پر معاشی بوجھ کم ہوسکے، جب کہ 2015ء اور 2016ء میں بھی یہی موقف اپنایاگیا کہ سولر پاؤر پالیسی عوام کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا، مگر افسوس کہ حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ پہلے سے موجود نیٹ میٹرنگ پالیسی کے مطابق حکومت سولر پینل سے بجلی پیدا کرنے والوں سے 27 روپے فی یونٹ خرید رہی تھی، جب کہ اب ’’نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی‘‘ کے تحت صارفین سے بجلی کا ایک یونٹ 27 روپے کے بہ جائے 10 روپے میں خریدا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ دس روپے پر انکم ٹیکس بھی لگا دیا جائے۔
صارفین کوواپڈا یہی بجلی 42 سے 48 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کرے گا، جب کہ 18 فی صد ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز بھی لاگو ہوں گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث بجلی کے دیگر صارفین پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے نئی پالیسی بنانا پڑی، تاہم عام تاثر یہ ہے کہ حکومت کی ’’نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی‘‘ سولر سسٹم لگانے والوں کی حوصلہ شکنی اور عوام کو سولر پینل سے دور رکھنے کا منصوبہ ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا دعوا ہے کہ نئی سولر پالیسی سے سولر سسٹم لگانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور سولر سسٹم لگانے والے چار سال میں اپنا پیسا واپس بھی وصول کرلیں گے۔
وفاقی وزیرِ توانائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ یونٹس پر ٹیکس نہیں لگے گا، لیکن گرڈ سے خریدی گئی بجلی پر ٹیکس لگے گا۔ نئی پالیسی سے سرمایہ کاروں کو ضرور فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ مارکیٹ میں سولر پینل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آچکی ہے۔
حکومت کی نئی سولر پالیسی اورطرزِ عمل سے یہ خدشہ پیدا ہوچکا ہے کہ چھوٹے گھریلو صارفین کے لیے کسی بھی وقت کوئی بری خبر آسکتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
