یہ کوئی عام سفر نہیں تھا، بل کہ یہ ایک عاشق کی اپنے محبوب کے دربار میں حاضری تھی۔ یہ روح کی گہرائیوں میں اُتر جانے والا وہ مبارک سفر تھا، جس میں ہر لمحہ عبدیت کی خوش بو تھی۔ ہر قدم ’’فناء فی اللہ‘‘ کی جانب بڑھ رہا تھا اور ہر سانس میں ’’لبیک اللہم لبیک!‘‘ کی گونج تھی۔
چارباغ سوات کے سرسبز اور پُرسکون پہاڑوں سے نکل کر، اسلام آباد کے جدید ہوائی اڈے سے گزر کر، جدہ کی مقدس سرزمین کو چھونے تک، دل میں ایک ہی تمنا تھی کہ جلد از جلد اُس دربارِ الٰہی میں پہنچ جاؤں، جہاں دلوں کے زخم مندمل ہوتے ہیں، جہاں آنکھوں کے آنسو مقبول ہوتے ہیں اور جہاں ایک فقیر کو رب العالمین کا خاص قرب نصیب ہوتا ہے۔
یہ سفر جسمانی سے زیادہ روحانی تھا۔ یہ محض میلوں کی مسافت نہیں تھی، بل کہ صدیوں کی تڑپ کا سفر تھا۔
٭ مکہ مکرمہ، جلال اور ہیبت کی سر زمین:۔ جدہ سے مکہ کی طرف بڑھتے ہوئے فضا کا رنگ بدلنے لگا۔ ہوائیں بھی سنجیدہ ہوگئیں۔ زمین کی ہیبت بھی بڑھ گئی۔ پہاڑ خاموش گواہ بنے کھڑے تھے اور ہر چیز ایک ہی حقیقت کا اعلان کر رہی تھی۔ یہ وہ زمین ہے جہاں زمین و آسمان کے فیصلے نازل ہوئے، جہاں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے رب کے حکم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا، جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے سے آبِ زم زم کا چشمہ پھوٹا، جہاں سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے توحید کی صدا بلند کی، اور جہاں لاکھوں عاشقانِ الٰہی ہجرت کرکے آتے ہیں، کچھ واپس لوٹ جاتے ہیں اور کچھ خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو رہتے ہیں۔
مکہ کے در و دیوار میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، ایک ایسی ہیبت جس کے آگے ہر متکبر، ہر بادشاہ، ہر طاقت ور جھک جاتا ہے۔
٭ بیت اللہ کی زیارت، ایک لمحہ، ایک نظر، اور عبدیت کی معراج:۔ اور پھر وہ لمحہ آ گیا۔ وہ پہلا نظارہ جس کے لیے دل صدیوں سے تڑپ رہا تھا۔ جب پہلی بار بیت اللہ کو دیکھا تو محسوس ہوا جیسے کائنات کا ہر راز کھل گیا ہو، جیسے زمین و آسمان کے پردے ہٹ گئے ہوں، جیسے آنکھوں نے وہ منظر دیکھ لیا ہو، جس کے بعد کوئی اور نظارہ بے معنی لگتا ہے۔
قدم خود بہ خود رُک گئے، زبان گنگ ہوگئی، دل جیسے کسی غیر مرئی قوت کے زیرِ اثر جھکنے پر مجبور ہوگیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی اور سینہ اللہ کی محبت سے یوں بھرگیا، جیسے کسی نے صدیوں کی پیاس بجھا دی ہو۔
یہاں سنگ دل بھی روتا ہے، وہ بھی روتا ہے جس نے زندگی میں کبھی رونا نہ سیکھا ہو، اور یہ رونا بے اختیار ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہو، جیسے زندگی کا ہر گناہ دھل رہا ہو، جیسے روح پہلی بار اپنے اصل مرکز کو پاچکی ہو۔
یہ وہی مقدس گھر تھا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر تعمیر کیا تھا۔ وہی قبلہ جس کی سمت میں دنیا بھر کے مسلمان سجدہ کرتے ہیں۔ وہی مرکز جہاں ہر لمحہ پروانے گردش کرتے ہیں، جہاں عشق کبھی نہیں رُکتا، جہاں عبدیت کا رنگ کبھی مدہم نہیں ہوتا۔
طواف شروع ہوا، اور ہر چکر کے ساتھ بندگی کی شدت بڑھتی گئی۔ ہر قدم کے ساتھ ایک نیا راز کھلتا گیا۔ یہ محض ایک جسمانی گردش نہیں تھی، بل کہ عشق کی معراج تھی۔ خود کو فنا کر دینے کا عمل تھا۔ اپنی ذات کی نفی تھی اور اللہ کی اطاعت کا بے مثال منظر تھا۔ ’’لبیک اللہم لبیک، لا شریک لک لبیک، ان الحمد و النعمۃ لک والملک، لا شریک لک!‘‘
یہ وہ مقام تھا جہاں سلاطین بھی غلام بن کر آتے ہیں، جہاں شہنشاہ بھی گڑگڑا کر مانگتے ہیں، جہاں کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، سب ایک لباس میں، سب ایک انداز میں، سب ایک ہی رب کے دربار میں سجدہ ریز۔
٭ صفا و مروہ، حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی دوڑ میں شمولیت:۔ طواف کے بعد صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر حضرت ہاجرہ علیہ السلام کا وہ جذبہ یاد آیا، جو قیامت تک کے لیے مثال بن گیا۔ وہ ویرانہ جہاں ایک ماں اپنے ننھے بچے کے لیے بے قراری سے دوڑ رہی ہے، جہاں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں، جہاں صحرا کی جھلسا دینے والی گرمی ہے ، مگر اس ماں کا ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ صفا سے مروہ کی طرف دوڑتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ یہ سعی محض ایک رسمی دوڑ نہیں، بل کہ پوری زندگی کی علامت ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے زندگی کے ہر موڑ پر اپنانا ہوگا، کبھی ناامید نہ ہونا، کبھی ہار نہ ماننا، کبھی رک نہ جانا۔ حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو جب کوئی سہارا نہ ملا، تب اللہ نے زمین کے نیچے سے زم زم کا چشمہ نکال دیا۔ آج بھی جو اللہ پر بھروسا کرتا ہے، وہی کامیاب ہوتا ہے، وہی سرخرو ہوتا ہے، وہی اللہ کا مقرب بن جاتا ہے۔
٭ احرام میں دوسری بار نیت، ایک اور عمرہ:۔ جب تمام مناسک مکمل ہوگئے، تو دل نے چاہا کہ ایک اور بار اللہ کے دربار میں حاضری دی جائے۔ احرام باندھا، نیت کی اور لبیک کی صدا دوبارہ بلند ہوئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب محسوس ہوا کہ بندہ ہر چیز سے آزاد ہوگیا ہے۔ ہر قید، ہر خواہش، ہر تعلق سے نکل کر صرف ایک ہستی کے در پر جھک چکا ہے۔
٭ سر منڈوانا، بندگی کی معراج:۔ جب تمام عبادات مکمل ہوگئیں، تو وہ لمحہ آیا جس میں انسان دنیا کی ہر نشانی کو مٹا کر مکمل طور پر عبدیت میں داخل ہوجاتا ہے۔ استرے کی پہلی جنبش کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے دنیا کی تمام وابستگیاں ختم ہو رہی ہیں، جیسے ہر تکبر، ہر غفلت، ہر خواہش مٹ رہی ہے۔ آخری بال گرا اور آئینے میں جو عکس نظر آیا، وہ میں نہیں تھا۔ وہ ایک غلام تھا، جو ایک عظیم بادشاہ کے در پر حاضر تھا۔ وہ ایک فقیر تھا، جو غنی کے دربار میں جھک چکا تھا۔ وہ ایک مسافر تھا، جو اپنے رب کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا۔ ’’لبیک اللہم لبیک……!‘‘
یہ سفر ختم ہوچکا تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔ مَیں چارباغ سوات سے نکلا تھا، مگر جب واپس لوٹ رہا تھا، تو وہی نہیں تھا جو گیا تھا۔
قارئین! مکہ کے جلال نے میری دنیا بدل دی تھی اور اب میں صرف ایک چیز تھا: ’’اللہ کا بندہ!‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










