(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
فضل محمود روخان صاحب کا تحریر کردہ کتابچہ ’’مارتونگ بابا جی‘‘ کو پڑھتے ہوئے مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ اگرچہ میاں گل عبد الودود (ریاستِ سوات کے بانی المعروف بادشاہ صاحب) پڑھنے لکھنے سے ناواقف تھے، لیکن اُن کے دل میں علمائے کرام کے لیے بے حد عزت تھی۔ یہ ایک ریاستی سربراہ کے لیے اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں غیر معمولی بات تھی، جہاں مولوی حضرات کا اکثر مذاق اُڑایا جاتا تھا اور کبھی کبھار مسجد میں اپنے ہی مقتدیوں کے ہاتھوں کسی بہانے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنتے تھے۔
بادشاہ صاحب نے مولانا خان بہادر المعروف مارتونگ بابا جی کی پندرہ سال تک اپنے محل واقع بڑینگل (اب عقبا) میں میزبانی کی۔ وہ اور دیگر عملے کے افراد ایک ہی جگہ بیٹھ کر ایک جیسا کھانا تناول کرتے۔وہاں اور بھی علمائے کرام موجود ہوتے۔ مولانا عبد المجید اور مولوی ابراہیم آف بازارگے، بونیر نے فتاوائے عالمگیری کا پشتو میں ترجمہ ’’فتاوائے ودودیہ‘‘ کے نام سے کیا۔
تحصیل کی سطح پر قاضی عدالتیں اور دارالحکومت سیدو شریف میں دارالقضاء (ریاستی اعلا شریعہ کورٹ) قائم کی گئی۔
مارتونگ بابا جی کیمرہ فوٹوگرافی کے خلاف تھے۔ بادشاہ صاحب ان کی حرکات و سکنات ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے اس نے مووی کیمرے کا انتظام کیا اور باباجی کو بغیر بتائے، اُن کی ایک مختصر فلم ریکارڈ کروا لی۔ بابا جی اُس وقت کسی سے بات کرنے میں مصروف تھے۔
عشا کی نماز کے بعد بادشاہ صاحب نے اپنے عملے کو فلم چلانے کو کہا۔ بتیاں بجھ گئیں اور دیوار پر لگی سکرین روشن ہوگئی۔ مارتونگ باباجی خود کو سکرین پر دیکھ کر چونک گئے۔ اختتام کے بعد انھوں نے بادشاہ صاحب کو بتایا کہ وہ اکثر سوچتے کہ (قیامت کے دن) انسان کے اعمال، گناہ اور نیکیاں کیسے پیش کی جائیں گی اور وہ اپنی ساری زندگی اپنے سامنے گزرتے ہوئے دیکھیں گے۔ اب اس کا یقین پختہ اور مستحکم ہو گیا ہے۔
اسی طرح میاں گل جہانزیب بھی علمائے کرام کا بے حد احترام کرتے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ ہر سکول میں ایک یا دو دینیات کے معیاری اساتذہ ہوتے، جو برصغیر کے کسی مجاز دارالعلوم یا بعد ازاں ریاستی اداروں دار العلوم سیدو شریف اور دار العلوم چارباغ سے فارغ ہوتے۔
اب ایک ذاتی واقعہ پیش کرتا ہوں، جو میرے سامنے پیش آیا۔ 1963ء میں والی صاحب نے چکیسر کا دورہ کرنا تھا۔ مَیں وہاں اُن کے استقبال کے لیے موجود تھا اور زیرِ تعمیر 10 بستروں کے ہسپتال کا معائنہ کروانا تھا۔ گاؤں کے بزرگ ایک قطار میں کھڑے تھے، جن کی قیادت ایک بڑے خان کر رہے تھے۔ 3 قاضی بھی اس قطار میں شامل ہوگئے۔ ایک خان نے انھیں کہا کہ جرگے کے بڑوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ قاضیوں نے علاحدہ قطار بنائی۔ والی صاحب 11 بجے پہنچے اور مقامی ریاستی فوج کے سلامی لینے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے۔ مَیں نے ان سے ہاتھ ملایا، اور پھر ہم استقبالیہ قطار کی طرف بڑھے۔ چکیسر کے حاکم شیرین نے اچانک والی صاحب کا ہاتھ پکڑا اور قاضیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’سر، یہ چکیسر کے قاضی ہیں۔‘‘
والی صاحب نے خانوں کو چھوڑ کر پہلے ان کی طرف رُخ کیا، ان کی مشکلات کے بارے میں پوچھا اور پھر حاکم کو ان کی تنخواہیں بڑھانے کا حکم دیا۔
پھر والی صاحب خانوں کی قطار کی طرف مڑے اور ہر ایک سے ہاتھ ملایا اور چند کلمات کا تبادلہ کیا۔ ہم کام کی جگہ تک پہنچے۔ خواتین اور بچے چھتوں پر کھڑے ہوکر حکم ران کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
ایک موڑ پر، ہم نے ایک عورت کی آواز سنی، ’’او بہن! (ان میں سے ) سوات کا بادشاہ کون سا ہے؟‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
