’’دَ ہوٹل ڈوڈیٔ‘‘ (تندوری نان)

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

بچپن میں سکول جانے سے قبل ایک ہی ضد ہوتی کہ اگر چائے کے ساتھ تناول فرمانے کو اگر گرما گرم نان ہوگی، تو ہی ناشتا ہوگا۔ پھر جیسے ہی پیسے تھمائے جاتے ، چشمِ زدن میں محلہ وزیر مال (مینگورہ) کے تندور والے سے گرما گرم نان خرید کر واپس آجاتے۔ چاچا جی (مستنصر حسین تارڑ) کی میٹھی میٹھی باتیں سنتے اور کارٹون دیکھنے کے ساتھ ساتھ داہنے ہاتھ میں سالم روٹی رول کرکے دانتوں سے وقتاً فوقتاً کاٹتے اور چباتے جاتے۔ کٹورا (کنڈولی) میں دو ڈھائی کپ ڈالی گئی بھاپ اُڑاتی چائے سے پیالی کے ذریعے تھوڑا تھوڑا کرکے حلق سے اُتارتے اور نظریں ٹی وی سکرین پر جمائے رکھتے۔ کارٹون پروگرام جیسے ہی وَڑ جاتا، روٹی کے آخری نوالے کے ساتھ چائے بھی وَڑ جاتی۔ اس کے بعد گویا ہم میں برقی رو دوڑ جاتی۔ بستہ اور تختی اٹھاتے اور دروازے کا رُخ کرتے۔ ماں دروازے تک ساتھ دیتیں۔ دہلیز پار کرنے سے پہلے وہ ہمارے ماتھے سے بال ہٹاکر ایک عدد بوسہ لیتیں اور دعا کے ساتھ رخصت کرتیں۔ ہم آدھی مسافت لمبے لمبے ڈگ بھر کر اور باقی ماندہ آدھی مسافت دوڑ کر طے کرتے اور گھنٹی بجنے سے پہلے سکول جا پہنچتے۔
بات نان سے شروع ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 90ء کی دہائی (خاص کر 86، 87ء) میں ہمارے محلہ وزیر مال اور ’’ڈن‘‘ (محلہ) میں تندور والے صبح ناشتے کے لیے ایک روپے کے عوض دو نان دیتے تھے۔ پٹھان مارکیٹ مینگورہ سے ملحق ٹیکسی سٹینڈ (جہاں آج کل علیم شوز کی کئی منزلہ عمارت کھڑی ہے) میں میاں سید انور تندورچی ایک روپے کے عوض تین نان دیا کرتا تھا، جس کی وجہ سے صبح سویرے اس کے تندور کے سامنے ہمارے ہم عصر لڑکوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں، جوانوں حتی کہ عمر رسیدہ افراد کی بھی لائن لگی رہتی۔
مجھے یاد ہے محلہ وزیر مال میں ملکانان (خاندان) کے نوکر جب ناشتے کے لیے نان آرڈر کرتے، تو ڈن محلہ کا تندورچی، نان لگانے سے قبل اس کے اوپر گلوکوز کی تہہ چڑھاتا۔ ایک دفعہ تندورچی سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو اُس کا جواب تھا: ’’گلوکوز کی تہہ روٹی کا ذائقہ دوبالا کرتی ہے۔‘‘
ایک دفعہ ہم نے سہواً گلوکوز لگی نان کی فرمایش کی، تو تندورچی نے نتھنے پھلا کر کہا: ’’کبھی آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے؟ بڑا آیا گلوکوز لگی نان کھانے والا!‘‘
عجب دور تھا۔ صبح ناشتے کے لیے تیار کی جانے والی نان لمبوتری شکل کی ہوتی اور ظہرانے یا عشائیے کے لیے اسے گول گول بنایا جاتا۔
اُن دنوں ظہرانے میں نان تناول فرمانے کا عمل ایک طرح سے ’’عیاشی‘‘ تصور ہوتا۔ اگر باورچی خانے میں انگیٹھیکے ارد گرد چوکی پر بیٹھے ہوئے کسی چچیرے یا ممیرے کے ہاتھ میں ظہرانے یا عشائیے میں نان نظر آجاتی، تو ہنگامہ کھڑا ہوتا۔ اس طرح ہم لڑکوں میں ظہرانے یا عشائیے کو جو بھی باورچی خانے سے غائب ہوتا، تو باقی ماندہ سمجھ جاتے کہ حضرت عیاشی فرما رہے ہیں(یعنی نان تناول فرمائی جا رہی ہے۔)
آج عالم یہ ہے کہ ماں کے ہاتھ کی بنی توے سے اُتری گرما گرم روٹی نہ ہو، تو کھانے کو جی نہیں چاہتا۔
صداؔ انبالوی کے بہ قول
وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رُلانے والے
(آج کی تصویر کہانی میں شامل تصویر دراصل یکم جنوری 2024ء کو اُتاری گئی ہے۔ اگر یہ اچھے ریزولوشن میں درکار ہو، تو ہمارے ایڈیٹر سے ان کے ای میل پتے amjadalisahaab@gmail.com پر رابطہ فرمائیں، شکریہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے