کرپٹ مافیا کا احتساب، بلند بانگ دعوے اور زمینی حقائق

ماضی میں عمران خان مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ دو پاکستان ہیں، ایک طاقت ور کا ایک کمزور کا، لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے دعوا کیا ہے کہ پاکستان ٹریک پر واپس آگیا ہے۔ طاقت ور کو قانون کے تابع کیا جارہا ہے۔
ان کا یہ دعوا قابلِ تسلیم ہوتا اگر وہ اپنے ڈھائی برس دورِ حکومت میں کسی بھی مافیا کا احتساب کرنے میں کامیاب ہوتے۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں چینی اور آٹے کا بحران سامنے آیا۔ ان ڈھائی برسوں میں یہ معلوم ہوا کہ آئل مافیا، چینی مافیا اور گندم مافیا کے خلاف کوئی طاقت کارروائی نہیں کرسکتی۔ اپنے دعوؤں کے برعکس جتنا بے بس عمران خان کو دیکھا گیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔
قارئین، آج بھی پاکستان کا نظام ایسا ہے کہ طاقتور مافیا پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی بڑی جماعتوں اور مافیاز میں قریبی تعلق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کرپشن آج بھی عروج پر ہے بلکہ بدعنوان عناصر مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔
ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں محض بورڈ پر ضرور لکھا ہوتا ہے:”Say no to corruption” مگر یہاں کسی کام کا بحسن و خوبی انجام پانا بغیر رشوت دیے قطعاً ممکن نہیں۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کچھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو اس دفتر کے ماحول اور مشکلات کو حل کرنے کا فن جانتے ہیں۔ جب کہ بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اس ناسور کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ بدعنوانی کے مرتکب ہو کر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے، بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ اسے اپنی عقل مندی، عیاری، چالاکی، ذہانت اورایک طرح سے ہنر سمجھتے ہیں۔
وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے سماجی اور معاشرتی اسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور انسانی و مذہبی اقدار کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن سے بھرپور تھانہ کلچر، حکومتی اداروں میں کرپشن کا راج، حصولِ انصاف کا کمزور نظام، مصلحتوں اور بدعنوان افسران کی وجہ سے عوام میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔
عوام میں عدم اطمینان کے باعث حکومتی و سرکاری اور عدالتی اداروں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ جب کہ ملک میں موجود انسدادِ بدعنوانی کے محکموں کی مایوس کن کارکردگی اور ان سے استفادے کا پیچیدہ اور سست رو طریقۂ کار، سرکاری اداروں میں کرپشن کا باعث بن رہا ہے۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بنیادی سرکاری ادارے مثلاً بجلی، سوئی گیس، شہری ترقی کے ادارے، میونسپل کمیٹیاں، لوکل گورنمنٹ کے دفاتر، سرکاری ادارے کم اور بدعنوانی کی نرسریاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تعینات معمولی افسران کے بھی اثاثہ جات اور عالی شان طرزِ زندگی دیکھ کر شہری انگشتِ بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہاں برسرِاقتدار رہنے والے حکمرانوں میں سے بھی بعض کلیدی عہدوں پر فائز سیاسی لیڈر کرپشن میں بری طرح ملوث رہے ہیں۔ ان کی کرپشن ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے، مگر کہیں سیاسی مصلحتوں اور کہیں کمزور سسٹم کے باعث یہ افراد کرپشن کے تمام الزامات سے اس طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں جیسے دودھ کے دھلے ہوں۔
دوسری طرف یہاں اقتدار پر قابض رہنے والے بدعنوان حکمرانوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ اور قرضوں کے انبار کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ عام لوگوں کا زندگی گزارنا اجیرن ہوچکا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے عہدوں پر فائز سرکاری افسر اور حکمران گروہ قومی دولت کی لوٹ مار کے باعث عیش و عشرت میں مگن رہے ہیں اور دوسری طرف غریب اور فاقہ کش لوگ آج بھی خود سوزی اور خودکشی کرنے پر مجبورہیں۔
یقینا بدعنوانی کا خاتمہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں موجودہ حکومت ابھی تک کسی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور نیب جیسے ادارے محض روایتی انداز میں کام کر رہے ہیں جن پر عوام کا اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ اداروں کو بھی نئے ٹاسک دیے جائیں۔ ان کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ان کی کارکردگی کو تیز تر کیا جائے۔
خوش قسمتی سے پاکستان جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اور اسے ہم اپنی بد قسمتی کہیں یا ستم ظریفی کہ ہمارے حکمران یہاں دستیاب وسائل سے بھر پور استفادہ نہیں کر رہے۔ ہم اس بدنصیبی اور بدقسمتی کو اپنی خوش قسمتی میں بدل سکتے ہیں اور اپنے پیارے پاکستان کو جنت نظیر خطہ بنا سکتے ہیں۔
اگر اداروں میں میرٹ کو فروغ دیا جائے، ہر سرکاری ادارے سے رشوت ستانی کا مکمل خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے، سستے اور فوری انصاف کو فروغ دیا جائے اور ملکی مفاد کو ذاتی اور انفرادی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے۔ سفارشی کلچر کا خاتمہ ، امیری اور غریبی کے سٹیٹس کو مٹانے کے لیے کلیدی کردار اداکیا جائے، تاکہ حقیقی معنوں میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور ہر طاقت ور قانون کے تابع ہو۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔