اصحابِ کہف کون تھے؟

Blogger Fazal Manan Bazda

قرآنِ کریم کی سورۃ الکہف کی آیت نمبر 9 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ) ’’کیا تم نے گمان کیا ہے کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب بات ہیں؟‘‘
کہف اور رقیم کی نسبت لفظ ’’الرقیم‘‘ سے ہے، جو عربی کے ثلاثی مصدر ’’رقم‘‘ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ’’لکھنا‘‘ یا ’’نقش کرنا‘‘ ہے۔ حضرت مرۃ سے الرقیم کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے فرمایا کہ کعب کا خیال ہے کہ یہ وہ گاؤں ہے، جس سے اصحابِ کہف نکلے تھے۔
حضرت مجاہد نے کہا کہ الرقیم سے مراد وادی ہے۔
حضرت سدی کہتے ہیں کہ الرقیم سے مراد وہ چٹان ہے، جو اس غار پر تھی۔
اس طرح حضرت زید نے کہا کہ الرقیم وہ کتاب ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہم پر غالب کر دیا، لیکن اس واقعہ کی ہمارے سامنے وضاحت نہ کی۔
ایک گروہ کا خیال ہے کہ الرقیم سے مراد وہ تحریر ہے، جو تانبے کی تختی پر لکھی ہوئی تھی۔ حضرت ابن عباس کا کہنا ہے کہ تانبے کی ایک تختی میں قومِ کفار نے ان نوجوانوں کا واقعہ لکھا تھا، جو ان سے بھاگے تھے، اور انھوں نے اسے اپنی تاریخ بنا دیا۔ انھوں نے ان کے گم ہونے کے وقت کا ذکر کیا، ان کی تعداد بیان کی کہ وہ کتنے تھے اور یہ بھی بیان کیا کہ وہ کون تھے۔
حضرت فراء نے بیان کیا کہ الرقیم تانبے کی ایک تختی ہے، جس میں ان کے اسما، ان کے نسب، ان کا دین اور جس سے وہ بھاگے تھے، درج تھا۔
حضرت ابن عطیہ سے روایت ہے کہ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسی قوم سے تھے، جو واقعات اور حوادث کی تاریخ لکھتے تھے اور یہ مملکت کی فضیلت اور مفید کام ہے۔ یہ اقوال الرقیم سے ماخوذ ہیں، اور اسی سے ’’کتاب مرقوم‘‘ (لکھی ہوئی کتاب) ہے۔ (تفسیر قرطبی، سورۂ کہف: 9)
عیسائی متون میں انھیں ’’سات سونے والے‘‘ (Seven Sleepers) اور قرآن میں ’’اصحابِ کہف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مولانا مودودی کی لکھی گئی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کے مطابق حضرت خضر، ذوالقرنین اور اصحابِ کہف تینوں کے قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے، جن کا حجاز میں کوئی چرچا نہ تھا۔
آقائے نام دار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں قریشِ مکہ ایک یہودی عالم کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آقائے نام دارؐ سے ایسا سوال پوچھا جائے کہ ان کے نبی ہونے کی حقیقت واضح ہو جائے۔ یہودی عالم نے آپؐ سے پوچھا کہ ’’اصحابِ کہف‘‘ کون تھے؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب کو اس کا جواب قرآنِ پاک کی سورۃ الکہف میں مکمل وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا، جس کی تفصیل آیت نمبر 9 سے 26 تک موجود ہے۔
نزولِ قرآن کے وقت عیسائیوں میں اصحابِ کہف کے بارے میں مختلف باتیں پھیلی ہوئی تھیں، جن میں سے کسی ایک پر کوئی مستند دلیل نہیں تھی، بل کہ وہ صرف ظن و تخمین پر مبنی تھیں۔
اصحابِ کہف کی تعداد کے بارے میں جو اقوال ذکر ہوئے، ان میں صرف آخری قول کی تردید نہ کرنے سے گمان ہوتا ہے کہ یہی تعداد درست ہے۔ تاہم تعداد اتنی اہم بات نہیں، اسی لیے نبی کریمؐ کو حکم ہوا کہ اس پر بحث کریں اور نہ کسی سے اس کے بارے میں سوال کریں۔
قرآن میں ارشاد ہوا: (ترجمہ) ’’اب یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا… یہ سب اندھیرے میں تیر تکے چلا رہے ہیں… اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا۔ کَہ دیجیے: میرا رب بہتر جانتا ہے ان کی تعداد کو، نہیں جانتے مگر بہت تھوڑے لوگ۔ پس آپ ان کے بارے میں سرسری بحث کے سوا جھگڑا نہ کریں، اور نہ ان کے بارے میں کسی سے سوال ہی کریں۔‘‘ (سورۃ الکہف: 22)
یہ نوجوان رومی شہنشاہ ’’دقیانوس‘‘ (Decius)، بعض نے بادشاہ کا نام ٹروجان بھی بیان کیا ہے، کے مذہبی ظلم و ستم سے 250 یا 252 عیسوی میں بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے تھے (اصحابِ کہف کا غار اردن کے ’’جبل الرقیم‘‘ میں واقع بتایا جاتا ہے)۔
کہا جاتا ہے کہ مذکورہ نوجوان شہر کے اعلا گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے باعث شہر میں عیسائیت تیزی سے پھیلنے لگی۔ جیسے ہی بادشاہ کو معلوم ہوا، تو اُس نے اُنھیں دربار میں طلب کرکے کہا کہ اپنے دین سے باز آ جاؤ، ورنہ قتل کر دیے جاؤگے، اور اُنھیں تین دن کی مہلت دے کر رخصت کیا۔
اُنھوں نے جب یہ دھمکی سنی، تو پریشان ہوگئے، کیوں کہ وہ بادشاہ سے لڑنے کی ہمت رکھتے تھے اور نہ شہر میں اپنی تعلیمات جاری ہی رکھ سکتے تھے۔ اس لیے اُنھوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے ایک غار میں جا کر پناہ لے لی۔
جب دقیانوس کو معلوم ہوا، تو اس نے حکم دیا کہ غار کو دیوار سے بند کر دیا جائے، تاکہ وہ وہیں مر جائیں۔ بادشاہ نے جس شخص کو یہ ذمے داری دی، وہ نیک دل انسان تھا۔ اُس نے اصحابِ کہف کے نام، اُن کی تعداد اور پورا واقعہ تانبے کی تختی پر لکھوا کر لوہے کے صندوق میں رکھ کر دیوار کی بنیاد میں دفن کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اُنھیں اُن کی دعا کے نتیجے میں 309 سال تک سلا دیا۔ اس دوران میں کئی بادشاہ اور حکومتیں آئیں اور گزر گئیں۔ 440 عیسوی میں ’’بیدروس‘‘ (بعض کے مطابق تھیوڈوسیس) نامی عیسائی بادشاہ کی حکومت آئی، جو نیک دل اور انصاف پسند تھا۔ اُس کے دور میں فرقہ پرستی عروج پر تھی اور لوگوں میں قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ کم زور پڑ رہا تھا۔ اُس نے دعا کی کہ اللہ کوئی نشانی ظاہر فرمائے، تاکہ لوگوں کا ایمان تازہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کی دعا قبول فرمائی۔
ایک دن ایک چرواہا اپنی بکریوں کے ساتھ اُس غار کے پاس آیا اور اُس نے لوگوں کی مدد سے دیوار گرا دی۔ دیوار گرنے پر لوگوں پر خوف طاری ہوا اور وہ بھاگ گئے اور اسی طرح اصحابِ کہف بیدار ہوگئے۔ اُنھوں نے اپنے ایک ساتھی یملیخا کو کھانا لینے کے لیے شہر بھیجا۔ یملیخا نے جب پرانے سکے دیے تو دکان دار کو شک ہوا اور اُس نے اُسے سپاہیوں کے حوالے کر دیا۔ پوچھ گچھ کے دوران میں جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ سکے صدیوں پرانے ہیں، تو معاملہ عجیب ہوگیا۔
آخرِکار یملیخا نے سارا واقعہ بیان کیا اور سب لوگ غار تک پہنچ گئے۔ وہاں موجود صندوق سے تختی نکالی گئی، جس میں اصحابِ کہف کے نام (مسکسلمینا، یملیخا، مرطونس، بینونس، سارینونس، رونونس، کشفیط، طنونس، اور ان کا کتا قطمیر) درج تھے۔
بادشاہ بیدروس بھی وہاں پہنچا۔ اصحابِ کہف نے واقعہ بیان کیا، جس پر بادشاہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اُس کی دعا قبول ہوئی اور ایک نشانی ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد اصحابِ کہف دوبارہ غار میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُن سے اُسی حالت میں روح قبض کرلی گئی۔ بادشاہ نے اُن کی قبریں وہیں بنوا دیں اور زیارت کے لیے ایک دن مقرر کر دیا۔ (ختم شد!)
تحریر میں مستعمل مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) دقیانوس (Decius):۔ قرآنِ پاک میں اصحابِ کہف کے قصے کے ساتھ دقیانوس کا ذکر تاریخی پس منظر کے طور پر آتا ہے۔ مستند تاریخی ماخذ (جیسے Encyclopedia Britannica اور Wikipedia) اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دقیانوس نے 250 عیسوی میں عیسائیوں پر سلطنت گیر ظلم و ستم کیا، جس کے نتیجے میں کئی نوجوان ایمان بچانے کے لیے غار میں پناہ گزین ہوئے۔
2) بیدروس (Theodosius II):۔ بیدروس دراصل تاریخی ماخذ میں بہ راہِ راست مذکور بادشاہ نہیں ہے؛ اکثر محققین کے نزدیک قرآن میں بیان کردہ اصحابِ کہف کے دوبارہ بیدار ہونے کے وقت جو بادشاہ تھا، وہ رومی شہنشاہ ’’تھیوڈوسیس دوم‘‘ (Theodosius II) تھا۔ بعض روایات میں اسے بیدروس یا تھیوڈوسیس کے قریب تلفظ سے بیان کیا گیا ہے۔
تحریر میں شامل سبھی نمایاں مشکل اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے