عمرہ ایک نہایت مقدس عبادت اور روحانی سفر ہے، جس کی آرزو ہر مسلمان اپنے دل میں رکھتا ہے۔ مسلمان دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں روپے خرچ کرکے صرف اس نیت سے حجازِ مقدس کا رُخ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کریں، اپنی زندگی کی غلطیوں پر توبہ کریں اور ایک پاکیزہ اور نئی روحانی زندگی کا آغاز کریں… لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض افراد اس عظیم عبادت کے تقدس کو مجروح کرتے ہوئے اسے اپنے ذاتی مفاد اور بھیک مانگنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔
حالیہ برسوں میں یہ بات بارہا دیکھنے میں آئی ہے کہ کچھ پاکستانی افراد عمرہ ویزا حاصل کرکے سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر مساجد، بازاروں اور سڑکوں پر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، بل کہ اس سے ایک مقدس عبادت کی روح بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب ایک شخص اللہ کے گھر کی زیارت کے نام پر سفر کرے اور وہاں جاکر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، تو یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے، بل کہ پوری قوم کی عزت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
اسلام میں محنت اور خودداری کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ دینِ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنی محنت اور حلال کمائی پر بھروسا کرے۔ بلا ضرورت بھیک مانگنا اسلام میں پسندیدہ عمل نہیں۔ جب کوئی شخص عمرہ جیسے مقدس سفر کو بھیک مانگنے کے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، تو وہ دراصل ایک عبادت کو دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہوتا ہے، جو کہ انتہائی افسوس ناک رویہ ہے۔
اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو پاکستان کی عالمی ساکھ ہے۔ جب بیرون ملک، خصوصاً سعودی عرب میں، پاکستانی شہری بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، تو اس سے پورے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ دوسرے ممالک کے لوگ یہ تاثر لیتے ہیں کہ شاید پاکستان کے زیادہ تر لوگ اسی طرح کے رویوں کے حامل ہیں، حال آں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کے بیش تر شہری محنتی، باعزت اور خوددار ہیں۔ چند افراد کی غلط حرکتیں پورے ملک کی نیک نامی کو متاثر کر دیتی ہیں۔
اس صورتِ حال کی وجہ صرف چند افراد کی نیت نہیں، بل کہ بعض اوقات ایک منظم مافیا بھی ہوتا ہے، جو غریب اور سادہ لوح لوگوں کو بیرونِ ملک بھیک مانگنے کے لیے بھیجتا ہے۔ ایسے گروہ لوگوں کو عمرہ ویزے پر سعودی عرب بھیجتے ہیں اور پھر وہاں ان سے بھیک منگوا کر پیسے وصول کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے، بل کہ انسانی استحصال کی بدترین شکل بھی ہے۔
لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتِ پاکستان کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے عمرہ ویزا حاصل کرنے کے عمل کو مزید سخت اور منظم بنایا جائے، تاکہ ایسے افراد کی نشان دہی کی جاسکے، جو عبادت کے نام پر کسی اور مقصد کے لیے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ایجنٹوں اور گروہوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جو لوگوں کو بھیک مانگنے کے لیے بیرون ملک بھیجتے ہیں۔
مزید برآں عوام میں شعور بیدار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ علمائے کرام، میڈیا اور سماجی اداروں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلائیں کہ عمرہ ایک عظیم عبادت ہے اور اسے کسی بھی طرح دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف گناہ ہے، بل کہ پوری قوم کی عزت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر معاشرے میں اس حوالے سے شعور پیدا ہو جائے، تو بہت سے لوگ خود ہی اس غلط راستے سے دور رہیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بہ جا ہوگا کہ عمرہ ایک مقدس اور روحانی سفر ہے جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اسے بھیک مانگنے یا کسی بھی غیر اخلاقی مقصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف عبادت کی توہین ہے، بل کہ قومی وقار کے بھی خلاف ہے۔ اگر Umrah pilgrimage اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں، تو یقیناً اس ناسور کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے اور عمرہ جیسے مقدس سفر کا اصل احترام برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










