میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والہ…!

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90 کی دہائی میں جب سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا رواج نہیں تھا، تو پرانی وضع کی بس (جس سے ٹرک بھی بہ آسانی بنایا جاسکتا تھا)، ٹوورسٹ گاڑی (جنھیں ہم ٹورس کہتے)، ڈاٹسن (ہمارا ورژن ’’ڈاکسن‘‘)، سوزوکی (جو اس پوسٹ میں شامل تصویر میں بھی نظر آرہی ہے) اور انڈین رِکشا یا پھر اٹلی کا بنا ہوا "Lambretta” رِکشا، جسے عموماً ’’نمریٹا‘‘ یا ’’لمریٹا‘‘ کہا جاتا، مذکورہ تمام چھوٹی بڑی سواریاں سوات کی سڑکوں پر دوڑتی دکھائی دیتیں۔ ان سے میری زبردست، بل کہ ’’زبرگیارہ‘‘ قسم کی یادیں وابستہ ہیں، تو چلیے، سرِ دست مینگورہ تا مرغزار والی سروس کا ذکر چھیڑتے ہیں۔
ہماری ایک پھوپھی کی شادی مرغزار میں ہوئی تھی، اب بھی وہ بہ قیدِ حیات ہیں، مگر پھوپھا بے چارے نہیں رہے۔ ہم جب بھی دادی کی معیت میں پھوپھی سے ملنے مرغزار جانے کے لیے ٹوورسٹ یا ڈاٹسن میں بیٹھتے (اُس وقت یہی دو سواریاں مرغزار تک سروس دیتی تھیں)، تو نشستیں پوری کرنے کی خاطر کنڈکٹر یا اڈّے کا منشی (جسے عام طور پر ڈنڈا مار، ہمارا ورژن ’’ڈمڈہ مار‘‘، کہتے) اونچی آواز میں سواریوں کو متوجہ کرنے کے لیے علاقوں کے نام لیتا، جن سے گاڑی نے گزرنا ہوتا۔ مجھے وہ پورا سین یاد ہے، جب آواز دی جاتی کہ ’’میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والا…!‘‘ یعنی اہلِ میاں بابا، ککڑئی، شگئی اور سیرئی آئیں اور اپنی نشستیں کنفرم کریں۔
’’خواہ شہیدان‘‘ (یعنی وہ جگہ جہاں شہید آسودۂ خاک ہیں) سے گاڑی گزرتی، تو بڑوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی۔ ہماری دادی مرحومہ آنکھیں بند کرتیں اور زیرِ لب کچھ پڑھتی جاتیں۔ آخر میں ’’خواہ شہیدان‘‘ کے بڑے مقبرے کی طرف رُخِ انور پھیر کر پھونکتیں۔ اس عمل کے دوران میں ہم جیسے چھوٹوں کی حالت ’’کاٹو، تو لہو نہیں بدن میں‘‘ والی اصطلاح کے مصداق ہوتی۔
اسی طرح ہماری ایک خالہ کی شادی مٹہ تحصیل کے گوالیرئی گاؤں میں کرائی گئی، جہاں نوے کی دہائی میں پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ مجھے چوں کہ بچپن سے "Travel Sickness” یا "Motion Sickness” کا عارضہ لاحق ہے، اس لیے جب چوتھی بار اُلٹی کرکے میرا معدہ مکمل طور پر خالی ہوجاتا، تو گوالیرئی سٹاپ (گاؤں تک نکلنے والا بڑا راستہ) پر بس رک جاتی۔
گوالیرئی والی بس کا اندرونی ماحول آج یاد آتا ہے، تو بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ دلاور فگارؔ کی نظم ’’کراچی کی بس‘‘ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں… اور یقین مانیں، گوالیرئی جانے والی بس کی حالت اس سے بھی گئی گزری تھی:
بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
سہما ہوا تھا کوئی گنہگار کی طرح
کوئی پھنسا تھا مرغِ گرفتار کی طرح
محروم ہوگیا تھا کوئی ایک پاؤں سے
جوتا بدل گیا تھا کسی کا کھڑاؤں سے
کوئی پکارتا تھا میری جیب کٹ گئی
کہتا تھا کوئی میری نئی پینٹ پھٹ گئی
بس میں تمام پردوں کی دیوار ہٹ گئی
ریشِ سفید، زلفِ سیاہ سے لپٹ گئی
ایک اچھا خاصا مرد زنانے میں گھس گیا
گویا کہ ایک چور خزانے میں گھس گیا
گوالیرئی والی بس میں لوگ نشست حاصل کرلیتے، تو اپنے ساتھ لائی ہوئی گٹھڑی بھی بس کے اندر ہی رکھ لیتے۔ مینگورہ آئے ہوئے بیش تر گاؤں والے واپسی کے وقت اپنے ساتھ گڑ، گھی، چینی وغیرہ خرید کر بس ہی کے اندر حاصل شدہ نشست کے آس پاس رکھ لیتے۔ اکثر ککڑ، بکری یا اس قبیل کے دیگر پالتو جانور بھی بس ہی کے اندر اپنے مالک کے ساتھ محوِ سفر ہوتے۔ ہر گاؤں کے مخصوص سٹاپ پر بس رکتی، کچھ سواریاں اترتیں اور خالی نشستوں کو بھرنے کی خاطر نئی سواریاں چڑھتیں… اور کنڈکٹر پکارتا: ’’زہ استاذ!‘‘
اگر کنڈکٹر کراچی کی سڑکوں پر دوڑنے والی کسی بس سے ’’فارغ التحصیل‘‘ ہوتا، تو پکارتا: ’’چلو استاد!‘‘
بس کی نشستیں بھرنے کی خاطر جو آواز کنڈکٹر لگاتا، مجھے کچھ اس طرح یاد ہے: ’’مٹہ، چپریال، گوالیرئی، بہا والہ…!‘‘ یعنی اہلِ مٹہ، چپریال، گوالیرئی اور بہا کی سواریاں جلدی کریں۔
گوالیرئی چوک ایک طرح سے دوراہا ہے، جسے ’’قلعہ‘‘ کہتے ہیں۔ قلعہ کی وجۂ تسمیہ یہ ہے کہ اس مقام پر ریاستی دور میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ قلعہ کی جگہ اب وہاں پولیس چوکی قائم ہے۔ قلعہ (چوک) سے ایک راستہ بہا، فاضل بانڈہ اور آگے جاروگو آبشار کی طرف نکلتا ہے، جب کہ دوسرا راستہ روڑینگار، مانڈل ڈاگ اور سلاتنڑ جا نکلتا ہے… لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مَیں جب ذہن پر زور ڈالتا ہوں، تو کنڈکٹر کا یہ نعرہ گویا کوندے کی طرح لپکتا ہے: ’’مٹہ، چپریال، گوالیرئی، بہا، روڑینگار والہ…!‘‘ حالاں کہ بہا اور روڑینگار کا جغرافیہ، مرغزار اور اسلام پور جیسا ہے۔ ککڑئی کے دوراہے پر دونوں علاقوں کے لیے الگ الگ راستہ نکلتا ہے۔
اگر ٹریفک کا مسئلہ نہ ہو، تو آج گاڑی ایک سے سوا ایک گھنٹے میں گوالیرئی بہ آسانی پہنچ جایا کرتی ہے۔ نوے کی دہائی میں یہ فاصلہ کم از کم پانچ گھنٹوں کی طویل اور صبر آزما مسافت پر مشتمل ہوتا۔
(تحریر میں شامل تصویر تقریباً تین ماہ قبل (جنوری 2026) بریکوٹ سے پیدل آتے ہوئے مختلف جگہوں کی تصویر کشی کے دوران لی گئی تھی۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے