حالات حاضرہ بارے قرآن کی تاریخی پیش گوئیاں

Blogger Tauseef Ahmad Khan

قارئینِ کرام! اگر آج کے عالمی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس وقت دنیا تیزی سے ایک نئے اور خطرناک جنگی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا ہیں۔ ایک طرف کئی ممالک کے درمیان اتحاد ٹوٹ رہے ہیں، تو دوسری طرف نئے بلاکس تشکیل پا رہے ہیں اور ہر طرف جنگ اور کشیدگی کی فضا قائم ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کا سیاسی نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس غیر یقینی صورتِ حال میں تقریباً ہر شخص اضطراب اور تذبذب کا شکار ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں یہی سوال ابھررہا ہے کہ آنے والا کل کیسا ہوگا اور ہم مستقبل میں کہاں کھڑے ہوں گے؟
اسی تناظر میں اگر تھوڑی گہرائی کے ساتھ موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے، تو ایک افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ جغرافیائی سیاست (Geopolitics) سے تقریباً لاتعلق ہوتا جا رہا ہے۔ ہم موجودہ حالات کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ جنگیں تو فُلاں ممالک کے درمیان ہو رہی ہیں، ہمارا اس سے کیا تعلق؟ حالاں کہ گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا کے حالات جس تیزی سے بدلے ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جدید دور کی جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کے اثرات معیشت، سیاست، نظریات، تہذیب اور حتیٰ کہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ آج دنیا کا کوئی بھی ملک ان اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
خاص طور پر جب یہ تنازعات مسلمانوں اور مغربی طاقتوں کے درمیان ہوں، تو ان کے اثرات محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، بل کہ نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جنگوں کے اثرات پورے مسلم ممالک کے اندر شدت سے محسوس کیے جارہے ہیں۔
اگر ہم قرآنِ مجید کا غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کریں، تو یہ حقیقت ہم پر منکشف ہو جاتی ہے کہ ہمارا دینِ اسلام اپنے پیروکاروں کو صرف عبادات تک محدود رہنے کی تلقین نہیں کرتا اور نہ دنیا کے معاملات سے غافل رہنے کی اجازت ہی دیتا ہے، بل کہ اسی بات پر بھی زور دیتا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں، عالمی قوتوں کے طاقت کے توازن اور ان کے مابین سیاسی اتار چڑھاو سے وہ خود کو ہر آن باخبر رکھیں اور اس کے مطابق خود کو تیار بھی رکھیں۔ اس میں پوشیدہ حکمت یہ ہے کہ جب عالمی قوتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس میں مسلمانوں کے لیے خیر کا کوئی راستہ نکال ہی دیتا ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال سورۃ الروم ہے، جو اُس زمانے میں نازل ہوئی جب بازنطینی سلطنت کو ساسانی سلطنت کے ہاتھوں زبردست شکست کا سامنا تھا۔ فارس کے بادشاہ خسرو پرویز نے شام، فلسطین اور یہاں تک کہ بیت المقدس تک اپنا مضبوط قبضہ جما لیا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ بہ ظاہر رومی سلطنت کے دوبارہ سنبھلنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔ کفارِ مکہ اس شکست پر خوشیاں منا رہے تھے، جب کہ مسلمان اس پر غمگین تھے، کیوں کہ رومی اہلِ کتاب تھے۔
اُس نازک وقت میں قرآن نے اس سورت کی ابتدا ہی میں یہ واضح پیش گوئی کی کہ چند برسوں کے اندر رومی دوبارہ غالب آ جائیں گے۔ یہ پیش گوئی اُس وقت کے سیاسی حالات اور عام انسانی تجزیوں کے بالکل برعکس تھی… مگر چند سال بعد ہی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ رومی بادشاہ ہرقل نے غیر معمولی عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے جوابی حملہ کیا، فارسی افواج کو شکست دی اور ساسانی سلطنت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یوں قرآنِ مجید کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اپنی صداقت کا تاریخی ثبوت فراہم کرگئی۔
اسی طرح دوسرا اہم واقعہ وہ ہے جو ہجرتِ مدینہ کے دوران میں پیش آیا۔ اس سفر میں حضرت محمد ﷺ اپنے رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ انتہائی نازک حالات سے گزر رہے تھے۔ دشمن ان کے تعاقب میں تھا اور ان کے سر کی قیمت مقرر کی جاچکی تھی، جس کی وجہ سے بہ ظاہر جان بچانا نہایت مشکل نظر آتا تھا۔ اسی دوران میں سراقہ بن مالک انھیں پکڑنے کی نیت سے ان کے پیچھے پہنچ گئے، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا گھوڑا بار بار زمین میں دھنستا رہا۔ اس صورت حال نے انھیں اس قدر متاثر کیا کہ وہ رسول ﷺ کی صداقت کو محسوس کرنے لگے۔ اسی موقع پر رسول ﷺ نے انھیں ایک عظیم بشارت دی، جو اُس وقت کے حالات و واقعات کے بالکل برعکس تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن ایران کے بادشاہ کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھوں میں ہوں گے۔ بعد میں تاریخ نے یہ حقیقت من و عن ثابت کر دی کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ایران فتح ہوا اور واقعی سراقہ بن مالک کو کسریٰ کے کنگن پہنائے گئے۔ یوں رسول ﷺ کی یہ بشارت بھی حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی۔
اسی تسلسل میں ایک اور واقعہ جو غزوۂ خندق کے دوران میں پیش آیا، وہ یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے مسلمان شدید محاصرے میں تھے اور حالات انتہائی نازک تھے، تعداد کم اور وسائل محدود تھے، اور دشمن ہر طرف سے حملہ آور تھا۔ عرب کے مختلف قبائل، جن کی قیادت قریش کر رہی تھی، متحد ہو کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے۔ بہ ظاہر پورا عرب مسلمانوں کو مٹانے کے لیے اکٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران میں مدینہ کے بعض یہودی قبائل، خاص طور پر بنو قریظہ، نے اپنے معاہدے کو توڑ کر اندر سے وار کرنے کی کوشش کی۔ یوں مسلمان اندر سے اور باہر سے بڑے خطرے میں گھِر گئے۔ قرآن نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ ’’آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق میں آ گیا۔‘‘
یہاں تک کہ اسی غزوۂ خندق کے دوران میں جب مسلمان خندق کھود رہے تھے، تو ایک سخت چٹان سامنے آ گئی، جسے توڑنا ممکن نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے، ایک کدال ماری تو چنگاریاں نکلیں، اور آپ ﷺ نے اُس لمحے ایسی بشارتیں دیں، جو اُس نازک وقت میں ناممکن لگتی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلی ضرب کے ساتھ شام و روم کے محلات مجھے دکھا دیے گئے، دوسری ضرب کے ساتھ فارس (ایران) کے محلات… اور تیسری ضرب کے ساتھ یمن کی فتوحات دکھا دی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا، جب مسلمانوں کو جان کے لالے پڑگئے تھے، مدینہ کی بقا ہر طرف سے خطرے میں تھی، اور دشمن چند قدم کے فاصلے پر موجود تھا۔ اس کے باوجود رسول ﷺ نے مسلمانوں کو یہ یقین دلا دیا کہ ایک دن بازنطینی سلطنت اور ساسانی سلطنت جیسی عظیم طاقتیں امتِ مسلمہ کے زیر نگیں ہوں گی۔
بعد میں تاریخ نے ثابت کیا کہ چند دہائیوں بعد وہی مسلمان، جو خندق میں بھوک، خوف اور محاصرے میں تھے، روم و فارس جیسی سپر پاؤرز کو شکست دے چکے تھے، اور قیصر و کسریٰ کے محلات فتح ہوچکے تھے۔ وہ پیش گوئیاں حقیقت بن چکی تھیں، جن پر اس دن منافقین ہنسی اڑا رہے تھے۔
یوں رسول ﷺ نے قیامت تک پیش آنے والے حالات و واقعات اور آزمایشوں کی پیش گوئی کر دی تھی، تاکہ امتِ مسلمہ کو اس بات کا یقین رہے کہ خوف، ظلم اور فتنوں کے اندھیروں میں گھبرانا نہیں، کیوں کہ اس کا انجام ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا، تاکہ اہلِ ایمان حوصلہ رکھیں اور آزمایش کے وقت ثابت قدم رہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے