برطانوی سامراج نے جب ہندوستان کی دولت سمیٹنے اور یہاں کے وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار کے بعد رختِ سفر باندھنے کا ارادہ کیا، تو وہ جاتے جاتے اس خطے کو ایک ایسی مستقل تقسیم اور نظریاتی انتشار کی بھٹی میں جھونک گیا، جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس سرزمین پر صدیاں بیت گئیں، جہاں ہندو اور مسلمان ایک مشترکہ تہذیب اور پُرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہتے آئے تھے، لیکن نو آبادیاتی آقاؤں نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور رخصتی کے وقت اس خطے کو کم زور کرنے کے لیے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت نفرت کا وہ بیج بویا، جس نے آگے چل کر خونی لکیروں کی شکل اختیار کرلی۔
اس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک خاص سیاسی و فکری بیانیہ ترتیب دیا گیا، جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ قومیں محض مشترکہ جغرافیے یا تاریخ سے نہیں، بل کہ صرف عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر پروان چڑھتی ہیں۔ اسی تصور کو ’’دو قومی نظریہ‘‘ کا نام دیا گیا، جس نے مذہب کو سیاست کا محور بنا کر صدیوں کے انسانی رشتوں کو اجنبی کر دیا۔
تاہم، اس نظریے کے متوازی ایک نہایت معتبر اور حریت پسند مکتبِ فکر بھی موجود تھا، جس نے برطانوی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہوکر بے پناہ قربانیاں دیں اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اس طبقے کا استدلال یہ تھا کہ قومیت کا تعلق کسی خاص آسمانی کتاب یا عبادت گاہ سے نہیں، بل کہ اُس مٹی اور وطن سے ہوتا ہے، جہاں انسان پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے۔ ان حریت پسندوں، جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں مذاہب کی قد آور قیادتیں شامل تھیں، کا ایقان تھا کہ ایک مخصوص جغرافیائی خطے میں رہنے والے تمام انسان، رنگ، نسل اور عقیدے کے اختلاف کے باوجود، ایک وحدت اور ایک قوم ہیں۔ اُنھوں نے خبردار کیا تھا کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی تقسیم نہ صرف انسانی المیوں کو جنم دے گی، بل کہ خود مذہب کے تقدس کو بھی سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دے گی۔ ان کے نزدیک متحدہ ہندوستان کی جد و جہد دراصل اس سامراجی چال کے خلاف ایک دفاعی حصار تھا، جو عالمی طاقتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ عالمی طاقتوں کے مخصوص ایجنڈے اور نو آبادیاتی سازشوں کے باعث ہندوستان کا بٹوارا مذہب کے نام پر ہی ہوا۔
برطانوی سامراج کی بچھائی گئی اس بساط پر جب لکیر کھینچی گئی، تو وہ محض زمین کا بٹوارا نہیں تھا، بل کہ انسانیت کے سینے پر ایک ایسا زخم تھا، جس سے نکلنے والا لہو آج بھی تاریخ کے صفحات کو سرخ کیے ہوئے ہے۔ تقسیمِ ہند کے دوران میں ہونے والی ہجرت انسانی تاریخ کا وہ سب سے بڑا اور ہول ناک باب ہے، جہاں صدیوں کے ہمسائے ایک رات میں دشمن بنا دیے گئے۔ وہ لوگ جو نسلوں سے ایک ہی کنویں کا پانی پیتے اور ایک ہی مٹی میں اپنے پیاروں کو دفن کرتے آئے تھے، اچانک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہ ہجرت محض مکان بدلنے کا نام نہیں تھا، بل کہ یہ اپنی شناخت، اپنی جڑوں اور اپنی تہذیب سے اُکھڑ جانے کا وہ المیہ تھا، جس نے لاکھوں ہنستے بستے گھرانوں کو قبرستان میں بدل دیا۔ ٹرینیں جب لاشوں سے بھر کر سرحد پار پہنچیں، تو اُنھوں نے اس ’’دو قومی نظریے‘‘ کی قلعی کھول دی، جس کے نام پر یہ سب خون خرابا کیا گیا تھا۔ اس ہجرت نے ثابت کیا کہ جب سیاست دان اقتدار کی ہوس میں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سرحدیں کھینچتے ہیں، تو اس کی قیمت عام انسان کو اپنی جان، مال اور عزت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔
اس ہجرت کے سماجی اثرات اس قدر گہرے اور ہمہ گیر تھے کہ ان کا اثر آج بھی برصغیر کے نفسیاتی ڈھانچے میں رچا بسا ہے۔ مشترکہ تہذیب، جسے ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ کہا جاتا تھا، اس تقسیم کی بھینٹ چڑھ گئی۔ وہ موسیقی، وہ زبان، وہ ادب اور وہ طرزِ زندگی جو کسی خاص مذہب کی جاگیر نہیں تھا، اچانک ’’پاک‘‘ اور ’’ناپاک‘‘ یا ’’ہندو‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ خانوں میں بانٹ دیا گیا۔ اس تقسیم نے نہ صرف خاندانوں کو جدا کیا، بل کہ دلوں میں وہ نفرت بو دی، جو دہائیوں بعد بھی جنگوں اور سرحدی تنازعات کی صورت میں پھنکار رہی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ مذہب، جو انسانوں کو جوڑنے اور امن کا درس دینے کے لیے تھا، اسے نفرت کا آلہ کار بنا دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی اس خطے میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کا دور دورہ ہے۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہجرتیں تو ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی و نفسیاتی خلا صدیوں تک نہیں بھرتے۔ جب ہم آج پاک افغان سرحد پر لگی باڑ یا وہاں جاری کشیدگی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں وہی نو آبادیاتی ذہنیت نظر آتی ہے، جو انسانوں کو اُن کے فطری جغرافیے اور ثقافتی رشتوں سے کاٹ کر مصنوعی شناختوں میں قید کرنا چاہتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم وطن، مٹی اور مشترکہ انسانی اقدار کو مذہب کی سیاسی تعبیر سے بالاتر نہیں رکھیں گے، تب تک ہم ان زنجیروں سے آزاد نہیں ہوسکیں گے، جو برطانوی سامراج جاتے جاتے ہمارے پاؤں میں ڈال گیا تھا… لیکن وقت نے ثابت کیا کہ محض عقیدے کی بنیاد پر قومیت کی تشکیل کا تصور کتنا کم زور اور غیر پائیدار ہوسکتا ہے۔ 1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ نے اس نظریے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، جب ایک ہی مذہب کے ماننے والوں نے لسانی، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر الگ شناخت کا علم بلند کیا اور یوں دو قومی نظریہ عملی طور پر اپنی اِفادیت کھو بیٹھا۔ آج کے دور میں جب ہم پاک افغان سرحدوں پر جاری تنازعات اور ایک ہی عقیدے سے جڑی دو ریاستوں کے درمیان تلخیوں کو دیکھتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جغرافیہ، ثقافت اور قومی مفادات مذہب کے اشتراک پر غالب آچکے ہیں۔
موجودہ پاک افغان کشیدگی نے اس نظریے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ قومیں زمین سے جڑنے اور مشترکہ انسانی حقوق کے احترام سے بنتی ہیں، نہ کہ تقسیم اور تفریق کے نام نہاد فارمولوں سے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










