پاکستان کا طبقاتی بحران (مارکسی تناظر)‎

Blogger Comrade Sajid Aman

یہ ایک ایسا عہد ہے جس میں پاکستان بہ ظاہر سیاسی نعروں، معاشی پیکجوں اور وقتی اصلاحات کے شور میں گھرا ہوا ہے… مگر اس شور کے پیچھے ایک گہری خاموشی بھی موجود ہے۔ وہ خاموشی جو مزدور کے خالی ہاتھوں، کسان کے بنجر کھیتوں اور متوسط طبقے کے ٹوٹتے خوابوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ بحران محض حکومتی ناکامی یا وقتی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں، بل کہ اُس معاشی و سماجی ڈھانچے کی علامت ہے، جو دہائیوں سے طبقاتی عدم مساوات پر قائم ہے۔ اسی بنیادی تضاد کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس فکری زاویے کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، جسے کارل مارکس نے تاریخ کی محرک قوت قرار دیا… یعنی طبقاتی کش مہ کش۔
آج کا پاکستان ایک جعلی جمہوری ریاست دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ اس کی معاشی ساخت گہرے تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف دولت کے انبار چند خاندانوں، کارپوریٹ گروہوں اور جاگیردار طبقات کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں، جب کہ دوسری طرف محنت کش طبقہ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ وہی صورتِ حال ہے، جسے مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کی فطری پیداوار قرار دیا تھا… جہاں سرمائے کا ارتکاز اور محنت کا استحصال ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ ایک نیم نوآبادیاتی ساخت اختیار کرچکی ہے۔ قرضوں پر انحصار، درآمدات کی زیادتی اور برآمدات کی کم زور بنیاد نے قومی معیشت کو ایسے دائرے میں مقید کر دیا ہے، جہاں فیصلے اندرونی ضروریات کے بہ جائے بیرونی مالیاتی اداروں کی شرائط کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف معاشی مسئلہ نہیں، بل کہ خودمختاری کے سوال سے بھی وابستہ ہے۔ جب بجٹ کی سمت قرض دہندگان کی ہدایات سے متعین ہو، تو عوامی فلاح کا ایجنڈا بے معنی اور ثانوی ہو جاتا ہے۔
مارکسی تجزیہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ ریاست بہ ظاہر غیر جانب دار نظر آتی ہے، مگر درحقیقت اکثر طاقت ور طبقات کے مفادات کی محافظ بن جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی المیہ ہے کہ پالیسیاں عوامی فلاح کے بہ جائے اشرافیہ کے معاشی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے، جب کہ بڑی دولت مراعات اور رعایتوں کے حصار میں محفوظ رہتی ہے۔ ایمنسٹی اسکیمیں سرمایہ دار اشرافیہ ہی کے لیے ترتیب دی جاتی ہیں۔
یہ طبقاتی تضاد صرف معاشی میدان تک محدود نہیں رہتا، بل کہ سیاست اور سماج دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بڑھتی ہے، تو معاشرتی بے چینی جنم لیتی ہے، اداروں کے درمیان کش مہ کش میں اضافہ ہوتا ہے اور جمہوریت کم زور پڑنے لگتی ہے۔ مارکس کے مطابق معاشی ڈھانچا ہی سماجی و سیاسی ڈھانچے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر بنیاد ہی عدم مساوات پر قائم ہو، تو سیاسی استحکام ایک سراب بن جاتا ہے۔
پاکستان میں جاگیرداری کی باقیات اور جدید کارپوریٹ سرمایہ داری کا امتزاج ایک منفرد مگر پیچیدہ صورتِ حال پیدا کرتا ہے۔ دیہی علاقوں میں زمین کی غیر منصفانہ تقسیم آج بھی کسان کو معاشی غلامی کی کیفیت میں رکھتی ہے، جب کہ شہری علاقوں میں نجی کارپوریشنز کی اجارہ داری مزدور کو کم اجرت اور غیر یقینی روزگار کے چکر میں مقید رکھتی ہے۔ یوں دیہات اور شہر دونوں میں استحصال کی مختلف مگر باہم مربوط شکلیں موجود ہیں۔
مارکسی حل اس صورتِ حال کا جواب محض سیاسی تبدیلی میں نہیں، بل کہ معاشی ڈھانچے کی بنیادی اصلاح میں دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہر شے کو یک سر ریاستی تحویل میں لینا نہیں، بل کہ وسائل کی ایسی منصفانہ تقسیم ہے، جس سے دولت کا ارتکاز کم ہو اور عوامی فلاح کو ترجیح حاصل ہو۔ زرعی اصلاحات، صنعتی خود کفالت، مزدوروں کے حقوق کا حقیقی تحفظ اور تعلیم و صحت کی ریاستی ذمے داری… یہ سب اسی نظریاتی فریم ورک کے عملی تقاضے ہیں۔
لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ طبقاتی شعور کی کمی ہے۔ مذہبی، لسانی اور سیاسی تقسیم اکثر عوام کی توجہ اصل معاشی مسئلے سے ہٹا دیتی ہے۔ نتیجتاً عوام وقتی نعروں اور جذباتی بیانیوں میں الجھ جاتے ہیں، جب کہ معاشی ڈھانچا جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ مارکس کے مطابق جب تک محنت کش طبقہ اپنی اجتماعی طاقت اور مشترکہ مفاد کا شعور حاصل نہیں کرتا، وہ استحصال کے اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان میں مکمل مارکسی انقلاب ممکن ہے؟ حقیقت پسندانہ جواب یہ ہے کہ موجودہ عالمی اور مقامی حالات میں ایک تدریجی راستہ زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے… یعنی ایسے معاشی و سماجی اصلاحات جو بہ تدریج طبقاتی توازن کو بدلیں اور عوام کو وسائل تک زیادہ رسائی فراہم کریں۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا، عوامی شراکتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا اور ریاستی فلاحی ڈھانچے کو وسعت دینا… یہ وہ اقدامات ہیں، جو ایک منصفانہ معاشی نظام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
مارکسی نقطۂ نظر کی اصل روح یہ ہے کہ ’’معیشت انسان کے تابع ہونی چاہیے، نہ کہ انسان معیشت کے تابع ہو۔‘‘ جب معاشی پالیسیاں صرف منافع کے گرد گھومنے لگیں اور انسانی ضروریات ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں، تو سماجی بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور طبقاتی بے چینی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی ڈھانچا عوامی ضرورتوں کے بہ جائے منافع کی منطق پر قائم ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشی نظام کی تبدیلی محض پالیسیوں سے نہیں، بل کہ شعور سے آتی ہے۔ جب تک عوام اپنے معاشی حقوق کو رعایت نہیں، بل کہ حق کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے، اصلاحات وقتی اور محدود رہیں گی۔ مارکس کے بہ قول تاریخ کا پہیا اُس وقت تیزی سے گھومتا ہے، جب مظلوم طبقات اپنی حالت بدلنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
آج پاکستان کو بھی اسی تاریخی موڑ کا سامنا ہے۔ یہ ملک سیاسی نعروں یا وقتی معاشی پیکجوں سے نہیں، بل کہ ایک گہرے معاشی انصاف کے تصور سے مستحکم ہوسکتا ہے؛ ایسا تصور، جو دولت کی منصفانہ تقسیم، مزدور کے احترام، کسان کی خودمختاری اور عوامی فلاح کو ریاست کی اولین ترجیح قرار دے۔
اگر ہم اس بحران کو محض وقتی بدانتظامی سمجھ کر نظر انداز کریں گے، تو مسائل کی جڑ باقی رہے گی۔ مگر اگر ہم اسے ایک ساختی مسئلہ، یعنی طبقاتی عدم مساوات،تسلیم کریں، تو حل کا راستہ بھی واضح ہو جائے گا۔ وہ راستہ جو ہمیں ایسے معاشرے کی طرف لے جاسکتا ہے، جہاں ریاست واقعی عوام کی نمایندہ ہو، معیشت انسان کے لیے کام کرے اور ترقی کا مطلب چند افراد کی خوش حالی نہیں، بل کہ اجتماعی فلاح ہو۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے، جب ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم صرف نظام کے اندر تبدیلی چاہتے ہیں، یا اس نظام کی بنیاد کو بھی زیادہ منصفانہ بنانا چاہتے ہیں؟ کیوں کہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب بنیاد بدلتی ہے، تو عمارت خود بہ خود بدل جاتی ہے۔ اور جب معاشی انصاف قائم ہو جائےم تو سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی خود اس کے پیچھے آتے ہیں۔
آئیے، ایک بار سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں… ابھی سوچنے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوا۔ اگر ہم ـ”out of the box” سوچنے کے لیے تیار ہو جائیں، تو محسوس ہوگا کہ دراصل ہم ایک محدود دائرے میں قید ہیں اور ہماری سوچ تک کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ تبدیلی کا آغاز بھی یہاں سے ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے