رمضان المبارک محض روزے رکھنے اور عبادات بڑھانے کا نام نہیں، بل کہ یہ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے اور معاشرے کے کم زور طبقات کے ساتھ عملی ہم دردی کا مہینا ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے، جس میں ایک صاحبِ استطاعت شخص خود بھوک اور پیاس کی کیفیت سے گزرتا ہے، تاکہ اُسے اُن لوگوں کا احساس ہو، جو سارا سال محرومیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اسی احساس کا نام اصل میں تقوا ہے… اور یہی تقوا انسان کو دوسروں کا سہارا بننے پر آمادہ کرتا ہے۔
اسلام نے عبادت کو صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا۔ نماز، روزہ اور تلاوتِ قرآن کے ساتھ ساتھ محتاج اور نادار افراد کی خبرگیری کو بھی عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایک شخص پورا دن نفلی عبادات میں مشغول رہے، لیکن اس کے پڑوس میں کوئی بھوکا سو جائے، تو اُس کی عبادت کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بندگی صرف سجدوں میں نہیں، بل کہ بندوں کی خدمت میں بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں، جو سفید پوش ہیں۔ وہ مانگ سکتے ہیں اور نہ اپنی ضرورت کا اظہار ہی کر پاتے ہیں۔ اُن کی خاموشی اُن کی عزتِ نفس کی علامت ہے، لیکن یہی خاموشی اکثر اُنھیں نظر انداز کروا دیتی ہے۔ رمضان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم خود تلاش کریں کہ ہمارے اردگرد کون لوگ مشکلات کا شکار ہیں؟ محلے کی بیوہ، یتیم بچے، بیمار مزدور، کم آمدنی والا ملازم… یہ سب ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔
افطار دسترخوان سجانا یقیناً باعثِ اجر ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اجر اس میں ہے کہ کسی ضرورت مند کے گھر کا چولھا جلایا جائے۔ چند راشن کے تھیلے، کچھ مالی مدد، بچوں کی فیس کی ادائی یا دواؤں کا بندوبست… یہ سب ایسے اعمال ہیں، جو نہ صرف دنیا میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں، بل کہ آخرت میں بھی کام یابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اصل عبادت وہ ہے، جس کا فائدہ دوسروں تک پہنچے۔
بدقسمتی سے کبھی کبھی رمضان میں نمود و نمایش کا رجحان بھی بڑھ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے خیرات کو تشہیر کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ نیکی کی اصل خوب صورتی اس کی اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ جو مدد خاموشی سے کی جائے، جو آنسو پونچھے جائیں بغیر کسی کیمرے کے، وہی عمل اللہ کے ہاں زیادہ مقبول ہے۔ مستحق کی عزتِ نفس کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا اُس کی مالی مدد۔
رمضان کا پیغام یہ ہے کہ دولت میں دوسروں کا حق شامل ہے۔ اگر اللہ نے کسی کو زیادہ دیا ہے، تو وہ اس لیے کہ وہ اُسے بانٹ کر معاشرے میں توازن قائم کرے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ اسی فلسفے کا عملی اظہار ہیں۔ یہ محض مالی لین دین نہیں، بل کہ ایک سماجی نظام ہے، جو طبقاتی فرق کو کم کرتا اور دلوں کو جوڑتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اس رمضان کو محض عبادات کی کثرت تک محدود نہ رکھیں، بل کہ خدمتِ خلق کو اپنی ترجیح بنائیں۔ اپنے بچوں کو بھی سکھائیں کہ دوسروں کے لیے جینا ہی اصل کام یابی ہے۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنے اردگرد ایک یا دو خاندانوں کی ذمے داری اٹھا لے، تو معاشرے میں بھوک اور محرومی کا خاتمہ ممکن ہے۔
آئیے، عہد کریں کہ اس رمضان کسی ضرورت مند کی زندگی میں آسانی پیدا کریں گے۔ کسی کے گھر میں راشن پہنچائیں گے، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں گے، کسی بیمار کے علاج کا بندوبست کریں گے۔ یہی وہ اعمال ہیں، جو ہمارے روزوں کو حقیقی روح عطا کرتے ہیں اور ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔
رمضان دراصل دلوں کو نرم کرنے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کا مہینا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں غریب اور نادار لوگوں کا خیال رکھتا ہے، وہ صرف ایک انسان کی مدد نہیں کرتا، بل کہ اپنے رب کی رضا حاصل کرتا ہے… اور رب کی رضا سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










