خیبر پختونخوا ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ پیر کے روز پیش آنے والے المناک واقعات نے 21 گھروں کے چراغ بجھا دیے، جن میں 12 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بل کہ وہ انسانی زندگیاں ہیں، جن کے ساتھ خاندانوں کے خواب، امیدیں اور مستقبل وابستہ تھے… لیکن سانحہ جتنا بڑا تھا، ردِعمل اتنا ہی حیران کن حد تک کم زور نظر آیا۔
یہاں ایک ایسا تضاد سامنے آتا ہے، جو ہماری سیاسی ترجیحات پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔ ایک طرف ایک سیاسی شخصیت، یعنی عمران خان، کی صحت یا گرفتاری کے معاملے پر چند منٹوں میں موٹرویز بند ہو جاتی ہیں، جی ٹی روڈ بلاک ہو جاتی ہے، سرکاری مشینری پوری قوت سے حرکت میں آ جاتی ہے اور صوبہ عملاً مفلوج ہو جاتا ہے، تو دوسری طرف دہشت گردی کے اتنے بڑے سانحے پر نہ وہ سیاسی جوش دکھائی دیتا ہے، نہ احتجاج، نہ پہیہ جام، نہ وہ عوامی دباو جو امن کے قیام کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاست انسانی جانوں سے زیادہ اہم ہوچکی ہے؟
یہ تضاد محض اخلاقی نہیں، بل کہ آئینی اور انتظامی بھی ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد امن و امان مکمل طور پر صوبائی معاملہ ہے۔ کسی بڑے سیکیورٹی آپریشن کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری بنیادی شرط ہے، اور اس کے اخراجات، خصوصاً بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کی بہ حالی کے مالی بوجھ کی ذمے داری بھی صوبے پر ہی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالیہ عرصے میں تیراہ آپریشن کا ذکر سامنے آیا، تو کئی سوالات نے جنم لیا۔
اطلاعات کے مطابق نومبر میں آئی ڈی پیز کے لیے تقریباً ساڑھے چار ارب روپے مختص کیے گئے، گویا جنوری میں آپریشن متوقع تھا… لیکن اسی دوران میں یہ بیانیہ بھی سامنے آیا کہ کارروائی وفاقی حکومت کر رہی ہے۔ اگر اخراجات صوبے کے بجٹ میں رکھے گئے تھے، تو پھر ذمے داری وفاق پر ڈالنے کی منطق کیا ہے؟ کیا یہ محض سیاسی بیانیہ سازی تھی یا عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش…؟
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ صوبہ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور مالی دباو کا شکار ہے، جب کہ دوسری طرف امن و امان کے بنیادی مسئلے پر سیاسی قیادت کی ترجیحات واضح دکھائی نہیں دیتیں۔ جب حکومت کی توجہ سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی حکمت عملیوں پر زیادہ ہو اور سیکیورٹی صورتِ حال پر کم، تو اس کے نتائج بہ راہ راست عوام بھگتتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی ذمے داری نہیں ہوتی، بل کہ سیاسی قیادت کی سنجیدگی، واضح پالیسی اور مستقل توجہ اس کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ اگر بیانیہ تضادات کا شکار ہو، ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالی جائیں اور عوام کو واضح سمت نہ دی جائے، تو سیکیورٹی خلا پیدا ہوتا ہے، جسے شدت پسند عناصر استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ عوام کو احتجاجی سیاست سے زیادہ امن و استحکام کی ضرورت ہے۔ سڑکیں بند کرنے سے سیاسی دباو تو پیدا ہوسکتا ہے، لیکن دہشت گردی کا خاتمہ صرف مؤثر گورننس، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور واضح پالیسی ہی سے ممکن ہے۔
تاہم اس تمام صورتِ حال میں ذمے داری کا سوال صرف صوبے تک محدود نہیں رہتا۔ آئینی طور پر صوبہ امن و امان کا کسٹوڈین ضرور ہے، لیکن وفاق بھی مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے ایک تاثر مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ قومی وسائل اور توجہ کا محور صرف پنجاب ہے، جب کہ دیگر اکائیاں، خصوصاً خیبر پختونخوا، مسلسل نظر انداز ہو رہی ہیں۔ اگر ایک صوبہ تیز رفتار ترقی کے دعوے کر رہا ہو اور دوسرا بدامنی، معاشی دباو اور بنیادی سہولیات کے بحران میں پھنسا ہو، تو یہ عدم توازن خود ریاستی حکمت عملی پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
حالات کی ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے اثاثوں میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جب کہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کے دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کی مثال ہی لے لیجیے۔ ماضی میں متحدہ مجلس عمل کی پنج سالہ حکومت میں 81 میگاواٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں تقریباً 74 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔ اس کے برعکس اگر موجودہ حکم ران جماعت، جو 13 برس سے بغیر کسی وقفے کے صوبے پر حکم رانی کر رہی ہے، واقعی سنجیدگی سے توانائی منصوبوں پر توجہ دیتی، تو کم از کم اپنے دعووں کے مطابق سیکڑوں چھوٹے ڈیموں میں سے چند درجن مکمل کرکے 300 میگاواٹ اضافی بجلی تو نظام میں شامل کرچکی ہوتی… مگر وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ بہ دستور قائم ہے۔
آخر میں اصل سوال وہی ہے: کیا ہماری سیاست انسانی جانوں سے مقدم ہوچکی ہے؟ محافظوں کے لہو پر خاموشی اور سیاسی نعروں پر پہیہ جام… یہ تضاد کب ختم ہوگا؟ اگر ترجیحات درست نہ ہوئیں، تو خدشہ ہے کہ جنازے اٹھتے رہیں گے اور سیاست اپنی جگہ چلتی رہے گی۔ تاریخ مگر ہمیشہ یہی پوچھتی ہے کہ جب عوام مر رہے تھے، تو اقتدار کے ایوانوں میں کیا ہو رہا تھا؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










