ہجرت، شناخت اور جرائم (سوات کا بدلتا منظرنامہ)

Blogger Doctor Gohar Ali

سوات کی آبادیاتی ساخت میں  گذشتہ دو ڈھائی دہائیوں میں غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی محض عددی اضافہ یا کمی تک محدود نہیں، بل کہ اس نے سماجی تنظیم، ثقافتی ہم آہنگی، شہری نظم و نسق اور جرائم کی نوعیت تک کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف وادی کے اندر ماحولیاتی اور معاشی تغیرات (جیسے زرعی زمینوں کا سکڑاو، روزگار کے محدود مواقع اور تعلیم و صحت کی سہولیات کا غیر متوازن ارتکاز) نے دیہی اور پہاڑی آبادی کو شہری مراکز کی طرف منتقل ہونے پر آمادہ کیا ہے۔ دوسری طرف ملحقہ کم ترقی یافتہ اضلاع (مثلاً: شانگلہ، دیر اور باجوڑ) سے کاروبار، سروس سیکٹر اور مستقل رہایش کے لیے بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی ہوئی ہے۔ مزید برآں سوات موٹر وے کی تکمیل نے پنجاب اور دیگر علاقوں سے تاجروں اور سرمایہ کاروں کی آمد کو آسان بنایا، جب کہ ملاکنڈ–پشاور جی ٹی روڈ پر معاشی جمود نے بعض کاروباری حلقوں کو سوات کی طرف متوجہ کیا۔ اس مجموعی اور نسبتاً بے ترتیب نقلِ مکانی نے ایک نئے سماجی تناظر کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات کا جائزہ سماجی اور ’’جرائماتی زاویے‘‘ سے لینا ناگزیر ہے۔
تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے، تو سوات کا روایتی سماجی ڈھانچا یوسف زئی قبائلی تنظیم پر استوار تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل کے نصف ربع میں زمین کی مستقل تقسیم کے بعد مختلف کلان (مثلاً: بایزی، رانیزی او خوازوزی اور اس کے ذیلی نمایاں کلان… مثلاً: بابوزی، نیکپی خیل، شامزئی، سبوجنی اور متوڑیزی وغیرہ) مخصوص جغرافیائی حدود میں آباد ہوئے۔ اس بندوبست نے نہ صرف معاشی وسائل کی تقسیم کو منظم کیا، بل کہ سماجی ضبط اور باہمی احتساب کو بھی مضبوط بنایا۔ رشتہ داریوں، میٹر یمونیل تعلقات اور مشترکہ مقاصد کے ذریعے ایک مضبوط سماجی نیٹ ورک تشکیل پایا، جس میں فرد کا طرزِ عمل محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا تھا، بل کہ پورے کلان کی عزت و وقار سے منسلک ہوتا تھا۔ پختون ولی کے اصول (شرم و حیا، غیرت، ننگ و ناموس اور جرگہ نظام) نے سماجی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس تناظر میں ایمیل دورکائم کے نظریۂ ’’میکانکی یک جہت‘‘ (Mechanical Solidarity) کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے، جس کے مطابق ہم جنس معاشروں میں مشترکہ اقدار اور روایات سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بنتی ہیں اور انحرافی رویّوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
تھامس ہوبز کے انسان کے بارے میں تصور (جس میں انسان کو فطری طور پر خود غرض اور طاقت کے حصول کا خواہاں قرار دیا گیا) کو بھی اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہوبز کے مطابق اگر سماجی معاہدہ اور مقتدر اتھارٹی موجود نہ ہو، تو معاشرہ ’’ہر شخص ہر شخص کے خلاف جنگ‘‘ کی کیفیت اختیار کرلیتا ہے۔ سوات کے روایتی قبائلی ڈھانچے میں غیر رسمی مگر مضبوط سماجی کنٹرول نے اس ممکنہ انتشار کو محدود رکھا۔ تاہم جب بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کے نتیجے میں یہ روایتی ڈھانچا کم زور پڑا، تو سماجی نگرانی اور اجتماعی احتساب کے میکانزم بھی متاثر ہوئے۔
جدید عمرانیات میں رابرٹ پارک اور ارنسٹ برگس کے ’’سوشل ڈس آرگنائزیشن تھیوری‘‘ (Social Disorganization Theory) کے مطابق جب کسی علاقے میں آبادی کا تیز رفتار تبادلہ، معاشی عدم مساوات اور نسلی یا ثقافتی تنوع بڑھتا ہے، تو سماجی کنٹرول کم زور پڑجاتا ہے اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ سوات کے شہری مراکز میں دیہی آبادی کی آمد اور بیرونی اضلاع سے نقلِ مکانی نے اسی نوعیت کی کیفیت پیدا کی ہے۔ نئے آنے والے افراد اکثر مقامی سماجی نیٹ ورکس سے غیر مربوط ہوتے ہیں، جس کے باعث ان پر روایتی اقدار کا دباو کم ہوتا ہے۔ نتیجتاً ’’شناختی بحران‘‘ (Identity Crisis) اور سماجی بیگانگی جنم لے سکتی ہے، جس کی نشان دہی ایریک ایرکسن نے اپنی نفسیاتی نظریات میں کی ہے۔ ایسے حالات میں فرد اپنی سماجی حیثیت اور وابستگی کے تعین کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرتا ہے، جو بعض اوقات مذہبی یا سیاسی گروہوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
اسی طرح ٹاجفل اور ٹرنر کی ’’سوشل آئیڈینٹیٹی تھیوری‘‘ کے مطابق جب مختلف گروہ ایک ہی جغرافیائی فضا میں مسابقتی انداز میں موجود ہوں تو ’’اِن گروپ‘‘ اور ’’آؤٹ گروپ‘‘ کی تقسیم گہری ہو جاتی ہے۔ مقامی آبادی اور باہر سے آنے والے افراد کے درمیان بڑھتی ہوئی فاصلہ بندی اسی نظریے کے تحت سمجھی جاسکتی ہے۔ جب وسائل (مثلاً زمین، روزگار اور سیاسی نمایندگی) محدود ہوں، تو ’’ریئلسٹک کانفلکٹ تھیوری‘‘ (Realistic Conflict Theory) کے مطابق گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں سوات کے اندر بڑھتی ہوئی سماجی کش مہ کش کو محض ثقافتی اختلاف کا نتیجہ قرار دینا کافی نہیں؛ بل کہ اسے وسائل کی مسابقت اور سماجی طاقت کے از سرِ نو تعین کے عمل سے بھی جوڑنا چاہیے۔
جرائم کے تناظر میں رابرٹ مرٹن کی ’’اسٹرین تھیوری‘‘ (Strain Theory) بھی قابلِ اطلاق ہے۔ مرٹن کے مطابق جب معاشرہ مادی کام یابی کو بہ طورِ قدر فروغ دیتا ہے، مگر قانونی ذرائع تک رسائی محدود ہو، تو بعض افراد غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ نقلِ مکانی کرنے والے افراد اگر معاشی مواقع تک مساوی رسائی حاصل نہ کرسکیں، تو اُن میں محرومی کا احساس بڑھ سکتا ہے، جو جرائم کی بعض صورتوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اِغوا برائے تاوان، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں اضافے کی وجوہات کا تجزیہ اسی فریم ورک میں کیا جاسکتا ہے، البتہ یہ امر بھی مدِنظر رہنا چاہیے کہ جرائم کا تعلق محض نقلِ مکانی سے نہیں، بل کہ انتظامی کم زوری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد اور معاشی ڈھانچے سے بھی ہوتا ہے۔
شہری پھیلاو کے تناظر میں لوئس ورتھ کے ’’اربنزم ایز اے وے آف لائف‘‘ (Urbanism as a Way of Life) کے مطابق شہری زندگی میں شخصی تعلقات کی جگہ غیر شخصی اور عارضی روابط لے لیتے ہیں، جس سے سماجی کنٹرول کم زور ہوتا ہے۔ سوات کے روایتی دیہی معاشرے سے شہری طرزِ حیات کی طرف منتقلی نے اسی نوعیت کی تبدیلی کو جنم دیا ہے۔ نئے بننے والے رہاiشی کالونیوں میں مذہبی و فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے سماجی قبولیت حاصل کرنے کی کوششیں بھی سماجی سرمائے (Social Capital) کی تشکیل کا عمل ہیں، جیسا کہ پیئر بوردیو اور رابرٹ پٹنم نے بیان کیا ہے۔ تاہم اگر یہ سماجی سرمایہ مقامی آبادی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا نہ کرسکے، تو گروہی تقسیم مزید گہری ہوسکتی ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ کسی بھی معاشرے میں ’’آؤٹ سائیڈر‘‘ کی موجودگی کو خود بہ خود منفی نہیں سمجھا جاسکتا۔ عالمی سطح پر نقلِ مکانی نے معاشی ترقی، ثقافتی تنوع اور جدت کو فروغ دیا ہے… مگر جب یہ عمل منصوبہ بندی، شہری سہولیات کی توسیع اور سماجی انضمام کی پالیسیوں کے بغیر ہو، تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سوات کے معاملے میں اگرچہ انتظامی طور پر اسے دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے، تاہم سماجی سطح پر مقامی اور غیر مقامی آبادی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی بھی واقعے (جیسے کسی معروف شخصیت کے قتل) کو وسیع تر سماجی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، تاکہ انفرادی جرم کو اجتماعی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔
مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس میں شہری منصوبہ بندی، روزگار کے مواقع کی مساوی تقسیم، مقامی و مہاجر آبادی کے درمیان مکالمے کے فورمز اور مؤثر قانون نافذ کرنے کا نظام شامل ہونا چاہیے۔ جرگہ اور مقامی روایتی اداروں کو جدید قانونی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک جامع سماجی معاہدہ تشکیل دیا جاسکتا ہے، جو ہوبز کے تصورِ ریاست اور دورکائم کی اجتماعی شعور کی تشکیل کے درمیان توازن قائم کرے۔
نتیجتاً سوات کی آبادیاتی تبدیلی کو محض ثقافتی زوال یا بیرونی دراندازی کے زاویے سے دیکھنا تجزیاتی طور پر ناکافی ہوگا۔ یہ ایک پیچیدہ سماجی عمل ہے، جس میں ماحولیاتی، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی عوامل باہم مربوط ہیں۔ اگر ان عوامل کو عمرانی نظریات کی روشنی میں سمجھ کر پالیسی سازی کی جائے، تو یہ تبدیلی، سماجی تصادم کے بہ جائے تعمیری تنوع کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، معاشرہ سماجی انتشار اور بڑھتے ہوئے جرائم کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا، جس سے نکلنا مزید دشوار اور پیچیدہ ہو جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے