پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں لوگوں کو مختلف مسائل جیسے امن و امان و تحفظ کے مسائل، روزگار کے مسائل اور صحت و تعلیم کے مسائل میں گِھرا ہوا دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ غربت کی وجہ سے نّنھے بچوں اور بچیوں کو اسکولوں سے باہر محنت مزدوری کرتے یا بھیک مانگتے ہوئے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد کو بھاری بوجھ اٹھاتے ہوئے یا ریڑھیاں چلاتے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ اس طرح ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سڑک کنارے، کسی مارکیٹ یا چوراہے پر کچھ بیچتے ہوئے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔
درجِ بالا سطور دراصل میرے درد مند دل کی پکار ہیں، جو خیبر پختونخوا ہی نہیں، بل کہ پورے پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ الفاظ دراصل اُن مناظر کا بیان ہیں، جو روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں، مگر ہم اکثر بے بسی یا بے حسی کے عالم میں اُنھیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ترقی کا سفر چند طبقات تک محدود ہوچکا ہے، جب کہ ایک بڑی آبادی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے۔
خیبر پختونخوا ایک طویل عرصے سے امن و امان کی خراب صورتحال کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، ٹارگٹ کلنگ اور حالیہ برسوں میں دوبارہ اُبھرتے ہوئے سیکورٹی خدشات نے عوام کو مسلسل خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے۔ جب معاشرے میں امن نہ ہو، تو نہ صرف انسانی جانیں خطرے میں ہوتی ہیں، بل کہ کاروبار، تعلیم، سیاحت اور روزگار کے مواقع بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا بہ راہِ راست اثر عام شہری اور خاص طور پر غریب طبقے پر پڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ نوجوان، جو کسی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، آج شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ اعلا تعلیم یافتہ نوجوان بھی مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ذہنی دباو اور احساسِ محرومی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ صنعتوں کی کمی، سرمایہ کاری کا فقدان اور ناقص معاشی پالیسیاں اس صورتِ حال کو مزید خراب کر رہی ہیں۔ جب گھر کا کفیل بے روزگار ہو جائے، تو پورا خاندان غربت کے شکنجے میں آ جاتا ہے۔
غربت کا سب سے ظالمانہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ ننھے منے بچے اور بچیاں، جنھیں اسکولوں میں ہونا چاہیے، مزدوری کرتے یا بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، بل کہ ان کا بچپن بھی چھن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی عدم دست یابی اور والدین کی مالی مجبوریوں نے بچوں کو تعلیم سے دور کر دیا ہے، جو مستقبل میں ایک ناخواندہ اور محروم نسل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
عمر رسیدہ افراد کو بھاری بوجھ اٹھاتے یا ریڑھیاں چلاتے دیکھنا ہمارے معاشرتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی جوانی میں محنت کرکے خاندان اور معاشرے کو سنبھالا، مگر بڑھاپے میں اُنھیں مناسب پنشن میسر ہے اور نہ سماجی تحفظ۔ یہ صورتِ حال ہمارے اخلاقی زوال اور ریاستی کم زوری دونوں کی عکاس ہے۔
ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سڑک کنارے، مارکیٹوں یا چوراہوں پر اشیا بیچتے دیکھنا بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگرچہ محنت باعثِ عزت ہے، مگر جب خواتین یہ سب مجبوری اور بے بسی کے عالم میں کر رہی ہوں، تو یہ معاشرتی ناکامی کی علامت بن جاتا ہے۔ غربت، بیوگی، شوہر کی بے روزگاری یا بیماری، خواتین کو ایسے حالات میں دھکیل دیتی ہے، جہاں اُنھیں عدم تحفظ اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں صحت کا شعبہ بھی شدید دباو میں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی، ادویہ کا فقدان اور عملے کی قلت نے غریب مریضوں کے لیے علاج کو ایک مشکل خواب بنا دیا ہے۔ نجی ہسپتال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، جس کے باعث لوگ بیماری کو خاموشی سے سہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ تمام مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کا حل صرف ایک فریق پر نہ چھوڑا جائے، بل کہ حکومت، معاشرہ اور فرد…تینوں کو اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کرنا ہوں گی۔
حکومت کی اولین ذمے داری یہ ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بنائے، تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی ترقی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ تعلیم اور صحت کو حقیقی معنوں میں ترجیح دی جائے، بچوں کی مزدوری کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد کیا جائے… اور بزرگوں و خواتین کے لیے مضبوط سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔
ایک حساس اور زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کم زور طبقات کا سہارا بنے۔ صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے غریبوں کی مدد کریں۔ سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور مذہبی تنظیمیں آگاہی پھیلائیں، بچوں کو تعلیم کی طرف لائیں اور خواتین و بزرگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اُٹھائیں۔
ہر فرد، چاہے وہ کتنا ہی کم زور کیوں نہ ہو، اپنے دائرے میں مُثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ کسی ایک بچے کی تعلیم میں مدد، کسی بزرگ کی عزت اور سہارا، کسی مجبور خاتون سے ہم دردی اور دیانت داری سے اپنا فرض ادا کرنا بھی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ بے حسی کے بہ جائے احساس… اور خاموشی کے بہ جائے شعور ہی معاشرے کو بدل سکتا ہے۔
اگر حکومت اپنی ذمے داریاں دیانت داری سے نبھائے، معاشرہ بے حسی ترک کر دے اور ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا کرے، تو وہ دن دور نہیں، جب خیبر پختونخوا میں کوئی بچہ مزدوری پر مجبور نہیں ہوگا، کوئی بزرگ بے سہارا نہیں ہوگا اور کوئی ماں مجبوری میں سڑک کنارے کھڑی نظر نہیں آئے گی۔ بس یہی ایک منصفانہ، باوقار اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










