شوگر کے مریض اور روزہ (ماہرانہ تجزیہ)

Blogger Doctor Ahmad Ali

رمضان کے دوران میں شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ایک احتیاط طلب معاملہ ہے۔ صحیح منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ یہ ممکن ہوسکتا ہے، لیکن کچھ صورتوں میں یہ صحت کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے روزہ رکھنے کے حوالے سے خطرے کی سطح مریض کی نوعیت، علاج کے طریقے اور موجودہ پیچیدگیوں پر منحصر ہے۔
ذیل میں ایک درجہ بندی دی گئی ہے، جو مریضوں کو خطرے کے لحاظ سےتین گروپوں میں تقسیم کرتی ہے:
1) ہائی رسک (High Risk) یعنی انتہائی زیادہ خطرہ:۔ ٹائپ 1 شوگر (انسولین پر)، ٹائپ 2 شوگر جن کا HbA1c >10% ہو، یا جنھیں حال ہی میں شدید ہائپو گلیسیمیا یا کیٹوایسڈوسس ہوا ہو۔
حاملہ شوگر والی خواتین کو شدید گردے/ دل/ اور بینائی کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ ایک معالج کی حیثیت سے ممَں اپنے ایسے مریضوں کو روزہ رکھنے سے سختی سے منع کرتا ہوں۔ کیوں کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنا زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ شرعی رعایت موجود ہے۔
2) ماڈریٹ رسک (Moderate Risk) درمیانہ یا متغیر خطرہ:۔ ٹائپ 2 شوگر والے، جو دوائیں لیتے ہیں، جن سے شوگر کم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے (جیسے سلفونیل یوریا: گلیبنکلامائیڈ، گلیمائپرائیڈ یا انسولین کی کم خوراکیں)۔ شوگر کے ساتھ جن مریضوں کو ہلکی گردوں کی بیماری ہو۔ بزرگ مریض (65 سال سے زائد) ان سب کے لیے مشورہ ہے کہ صرف ڈاکٹر کی سخت نگرانی اور ادویہ میں تبدیلی کے بعد ہی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ بار بار بلڈ شوگر چیک کرنا ضروری ہے۔
3) لو رسک (Low Risk)، کم یا کم سے کم خطرہ:۔ ٹائپ 2 شوگر والے جو صرف خوراک اور ورزش کی مدد سے اپنا مرض کنٹرول کرتے ہیں۔ اس طرح وہ مریض جو صرف میٹفارمین یا DPP-4 inhibitors (جیسے سٹاگلپٹن) جیسی دوائیں لیتے ہیں، جو شوگر کم نہیں کرتیں۔ جن کا HbA1c <7.5% ہو اور شوگر اچھی طرح کنٹرول ہو۔ ایسے سب مریضوں کے لیے مشورہ ہے کہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعد روزہ رکھنا عام طور پر محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ پھر بھی باقاعدہ مانیٹرنگ اور طرزِ زندگی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
روزے کے ممکنہ خطرات:۔ شوگر کے مریضوں کو درجِ ذیل تین بڑے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں:
1) ہائپوگلیسیمیا (خون میں شکر کی کمی):۔ دن کے دوران میں بہت کم بلڈ شوگر (عام طور پر 70 mg/dL سے نیچے) کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چکر آسکتے ہیں، پسینا چھوٹ سکتا ہے، گھبراہٹ سے بات بے ہوشی تک جاسکتی ہے۔
2) ہائپرگلیسیمیا (خون میں شکر کی زیادتی):۔ طویل وقت تک کھانے پینے سے دوری اور ادویہ میں تبدیلی سے شوگر 300 mg/dL سے تجاوز کرسکتا ہے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
3) ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی):۔ پانی نہ پینے سے پیشاب کے ذریعے گلوکوز کے اخراج کے ساتھ جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن بگڑ سکتا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں۔
اب آتے ہیں اِس نکتے کی طرف کہ کن صورتوں میں روزہ رکھنا زیادہ خطرناک ہے؟
ماہرینِ صحت کے مطابق درجِ ذیل مریضوں کو روزہ رکھنے سے پہلے زیادہ احتیاط برتنی چاہیے، یا ڈاکٹر کی ہدایت پر روزہ نہیں رکھنا چاہیے:
1) ٹائپ 1 شوگر کے مریض (خاص طور پر جنھیں روزانہ انسولین کی متعدد خوراکیں درکار ہوں)۔
2) ٹائپ 2 شوگر کے وہ مریض جن کا شوگر کنٹرول خراب ہے، یا جنھیں بار بار شوگر کم ہونے کے واقعات (Hypoglycemia) پیش آتے ہیں۔
3) حاملہ خواتین، جنھیں شوگر ہے۔
4) وہ مریض جنھیں گردے، آنکھوں یا اعصاب کے شوگر سے متعلقہ پیچیدگیاں لاحق ہوچکی ہوں۔
5) جن مریضوں نے حال ہی میں (مثلاً پچھلے 3 ماہ میں) شدید ہائپوگلیسیمیا کا سامنا کیا ہو، جس کی وجہ سے ہسپتال داخلے کی ضرورت پڑی ہو۔
اب آتے ہیں محفوظ طریقے سے روزہ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کی طرف، تو اگر آپ کا ڈاکٹر آپ کی صحت کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے روزہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے، تو درجِ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:
1) طبی مشاورت اور منصوبہ بندی:۔
رمضان سے کم از کم 1 تا 2 ماہ پہلے اپنے ڈاکٹر یا شوگر کے ما ہر ڈاکٹر سے ملاقات کریں۔
اپنی دواؤں یا انسولین کی خوراک اور اوقات میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ضروری تبدیلی کروائیں۔
سحری اور افطار کے اوقات کے مطابق ادویہ کا شیڈول بنانا ضروری ہے۔
اس طرح اپنا HbA1c، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول چیک کروائیں، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آپ کا شوگر طویل عرصے سے کتنا کنٹرول میں ہے؟
باقاعدہ بلڈ شوگر مانیٹرنگ کریں۔ دن میں کئی بار (خصوصاً دوپہر اور سہ پہر کے وقت) بلڈ شوگر چیک کریں۔
ایک اہم بات نوٹ فرمائیں کہ بلڈ شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر بلڈ شوگر 70 mg/dL سے کم یا 300 mg/dL سے زیادہ ہوجائے، تو فوری طور پر روزہ کھول دیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
اب آتے ہیں متوازن غذا اور پانی کے استعمال کی طرف:
سحری ضرور کریں اور اسے ہلکا نہ لیں۔ سحری چھوڑنے سے دن بھر شوگر لیول گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سحری میں پیچیدہ (Complex Carbs) کاربوہائیڈریٹس (جیسے دلیہ، چکی کا آٹا، جو) اور پروٹین (دہی، انڈا) کو ترجیح دیں، جو دیر تک توانائی دیتے ہیں۔ اس طرح افطار میں کھجور اور پانی سے آغاز کریں۔ تلی ہوئی، زیادہ میٹھی اور چکنائی والی اشیا سے پرہیز کریں۔ افطار سے لے کر سحری تک خوب پانی پیتے رہیں (تقریباً 8 تا 10 گلاس)۔ چائے، کافی اور سوڈا ڈرنکس سے گریز کریں۔ کیوں کہ یہ پیشاب آور مشروبات ہیں اور پانی کی کمی کرسکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی اور ورزش کے بارے میں یاد رکھیں کہ روزے کی حالت میں، خاص طور پر عصر سے مغرب کے درمیان، سخت جسمانی مشقت یا ورزش سے مکمل پرہیز کریں۔ ہلکی پھلکی چہل قدمی کے لیے افطار کے کچھ دیر بعد یا رات کا وقت بہتر ہے۔
قارئین! آخر میں، ان باتوں کو مدنظر رکھیں:
اپنے معالج سے مشورہ کرتے رہیں۔ رمضان سے پہلے اپنے معالج سے ایک بار ضرور ملیں۔ اپنا شوگر چیک کرتے رہیں۔ دن میں کئی بار چیک کرسکتے ہیں، جیسا کہ پہلے کہا کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خطرے کی علامات کو پہچانیں، جن میں شدید بھوک، پسینا، چکر، دھڑکن تیز ہونا، یا الجھن محسوس ہوسکتی ہے۔ان علامات میں سے کوئی ایک بھی ہو، تو فوراً روزہ کھولیں اور کچھ میٹھا کھائیں یا پئیں۔
یاد رکھیں کہ اسلام میں بیمار افراد کے لیے روزہ نہ رکھنے کی واضح رعایت موجود ہے۔ صحت کو خطرے میں ڈال کر روزہ رکھنا ضروری نہیں۔ اپنے معالج کے ساتھ مل کر ایک محفوظ منصوبہ بندی بنائیں، تاکہ آپ روحانی فوائد حاصل کرسکیں اور ساتھ ہی اپنی صحت کا بھی خیال رکھ سکیں۔
آخری اور اہم بات یہ ہے کہ اوپر دی گئ راہ نمائی صرف ایک عمومی راہ نمائی ہے۔ روزہ رکھنے کا آخری فیصلہ آپ کے ذاتی معالج کی رائے پر منحصر ہے، جو آپ کی مکمل صحت کی صورتِ ھال جانتا ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے