مینگروال تہذیب میں بہت سے جملوں کے معنی ہوسکتا ہے کچھ اور ہوں مگر ان کا استعمال اور مطلب مینگروال خوب سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔
قارئین! بات آبائی مینگروال تہذیب اور شہریوں کی ہو رہی ہے۔ بیش تر لوگوں کو پتا ہوگا کہ ڈاکٹر حیدر علی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، یہ ایک افسوس ناک خبر ہے۔ مینگورہ کے لیے اُن کی خدمات کے علاوہ اُن کا نام ضرب المثل کی حیثیت رکھتا تھا۔ دو لوگوں کی بحث ہوتی، بات تو تو میں میں سے جوتی لات تک پہنچتی اور ایک کہتا کہ اس کو حیدر علی کے پاس لے جائیں، تو دوسرا یہ سنتے ہی مرنے مارنے پر تل جاتا۔
اسی طرح ایک جگہ کوئی کسی کو سمجھا رہا ہے، وہ نہیں سمجھ پا رہا، تو سمجھانے ولا کہتا، ’’یہ حیدر علی کا کیس ہے۔‘‘
سکول میں استاد سب سے شریر یا کسی غبی کے ساتھ الجھتا، تو آخر میں اپنا نام لے کر کہتا کہ گھر والوں نے مجھ کو حیدر علی سمجھ کر اس پاگل کو بھجوایا ہے۔
قارئین! ڈاکٹر حیدر علی صاحب کی عمومی شخصیت تصور میں ایک لمبے چوڑے، طاقت ور، گھنی مونچھوں والے بے رحم سے شخص کی تھی، جو اوپر بیان شدہ واقعات یا اہلِ سوات کی عام گفت گو سے اخذ ہوتی… مگر ڈاکٹر صاحب کو جب مَیں نے پہلی دفعہ دیکھا، تو عجیب احمقانہ سوال ذہن میں آیا کہ پوچھوں، ’’سر! آپ اصلی والے حیدر علی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر حصاحب مہذب انداز میں گفت گو کرنے والے، سلجھے ہوئے اور بے ضرر قسم کے انسان تھے، جب کہ اُن کی شہرت ہماری گلی تک کچھ اور طرح سے پہنچی تھی۔ عام لوگ یہ کہتے سنے جاتے کہ ڈاکٹر صاحب دماغ کو کرنٹ لگاتے ہیں، ذہنی مریضوں کو زنجیروں سے کس کر باندھتے ہیں اور جسمانی سزا دیتے ہیں۔ پھر جب اُن سے ملاقات ہوئی، تو اُن کی شخصیت میں سفاکیت ہرگز نہیں تھی، وہ انتہائی رحم دل، بل کہ کم زور دل انسان تھے۔
ڈاکٹر حیدر علی صاحب (مرحوم) ملاکنڈ ڈویژن کے پہلے اور واحد ماہرِ نفسیات تھے۔ اُنھوں نے نہ صرف یہاں ذہنی امراض کا علاج کیا، بل کہ ایک پورا یونٹ قائم کیا، اور انتہائی خلوص اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ چلایا۔ عام طور پر اُن کو ’’پاگلوں کا ڈاکٹر‘‘ کہتے تھے، مگر اُنھوں نے اس شعبے میں اچھے لوگوں کی راہ نمائی کی، اُن کو آمادہ کیا اور اسی شعبے میں آنے پر تیار کیا۔
ڈاکٹر بہادر علی (مرحوم) ایک بڑا نام ہے۔ پہلے وہ جنرل پریکٹس کرتے تھے، پھر ’’سکن‘‘ (جلد) میں اُن کی دل چسپی تھی، مگر ڈاکٹر حیدر علی صاحب سے تعلق اور قربت نے اُن کو ماہرِ نفسیات کے طور پر اپنا کیریئر بڑھانے پر آمادہ کیا۔ وہ ایک نام ور ماہر نفسیات بنے۔ سیدو ٹیچنگ ہسپتال میں تدریس کرتے رہے۔ ڈاکٹر بہادر علی (مرحوم) نے ڈاکٹر حیدر علی (مرحوم) کے ساتھ مل کر ’’مینٹل ٹراما‘‘ کے شکار معاشرے کو اپنی بساط سے بڑھ کر سنبھالنے کی کوشش کی۔
آج اعلا پائے کے ماہرِ نفسیات سوات میں موجود ہیں، مگر اُس وقت جب کوئی اِس شعبے کو منتخب نہیں کرتا تھا اور میڈیکل ٹرمنالوجی میں صرف ’’ڈراپ آؤٹ‘‘ ہی اس شعبے میں آتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے قابلیت اور وسائل ہونے کے باوجود اس شعبے کا انتخاب کیا۔ اس سے آگے پشاور جانے کی جگہ سوات ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ یہ جہاد ہمیشہ یاد رہے گا، یقیناً یہ ایک جہاد تھا۔
قارئین! ڈاکٹر حیدر علی (مرحوم) پشاور جا کر صوبائی شہرت اور مقبولیت حاصل کرسکتے تھے، بڑا ہسپتال اور پیسا کما سکتے تھے، مگر وہ مینگورہ، سیدو شریف (سوات) ہی میں رہے اور مذکورہ خدمات انجام دیتے رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف ایک بڑا انسان کوچ کرگیا ہے، بل کہ اہلِ مینگورہ، سیدو شریف اور سوات ایک مہربان مسیحا سے محروم ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر حیدر علی بہت زیادہ خراجِ تحسین اور خراجِ عقیدت کے مستحق ہیں۔
رحمان فارس کے اس شعر کے ساتھ اجازت کا خواست گار ہوں کہ
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










