’’خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ باشعور ہیں۔‘‘
یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاچکا ہے کہ اب یہ نعرہ کم اور طنز زیادہ لگتا ہے۔ باشعور ہونا کوئی معمولی دعوا نہیں، یہ ایک بھاری ذمے داری ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعور کا اظہار سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں میں کم اور جلسوں، نعروں اور قوالیوں میں زیادہ نظر آتا ہے۔
ملک کے دوسرے صوبوں میں عوام حکم رانوں سے کام مانگتے ہیں۔ وہ سڑک پوچھتے ہیں، پانی کا حساب لیتے ہیں، روزگار اور مہنگائی پر سوال اٹھاتے ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دینے یا واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہیں… مگر ہمارے ہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں کام، ترقی اور سہولتیں تینوں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں اصل مسئلہ ایک ہی ہے: ’’قیدی نمبر 804۔‘‘
یہاں کے وزیرِ اعلا سے لے کر وزرا، اراکینِ اسمبلی اور کارکنان تک، سب ایک ہی بیانیے کے اسیر نظر آتے ہیں۔ جلسے ہوں یا جلوس، حکومتی اجلاس ہوں یا عوامی اجتماع، ہر جگہ ایک ہی ترانہ، ایک ہی شور اور ایک ہی جذباتی فضا۔ عوام تالیاں بجاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں: ’’ہم باشعور لوگ ہیں۔‘‘
یہ باشعوری عجیب سی ہے۔ اسے نوٹی سڑک نظر آتی ہے، نہ خالی اسپتال، نہ بند فیکٹریاں، نہ بےروزگار نوجوان، نہ مہنگائی کی آگ، نہ تعلیم کا زوال… اگر کچھ نظر آتا ہے تو صرف جلسہ، اسٹیج، مائیک اور ایک قیدی کا نمبر۔
گذشتہ 13 برسوں سے یہ تماشا مختلف عنوانات کے ساتھ جاری ہے۔ کبھی تبدیلی کا نعرہ، کبھی حقیقی آزادی، کبھی سازش، کبھی مزاحمت۔ کردار بدلتے رہے، جملے نئے آتے رہے، مگر عوامی زندگی وہیں کی وہیں کھڑی رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر ناکامی کے بعد بھی ہم خود کو مزید باشعور قرار دیتے چلے جاتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوالیوں، نعروں اور تالیاں بجانے سے آج تک کوئی قیدی جیل سے باہر نہیں آیا۔ عدالتیں قانون دیکھتی ہیں، ریاست آئین دیکھتی ہے اور تاریخ نتائج لکھتی ہے، مگر ہمارے ہاں یقین ہے کہ شاید ایک اور جلسہ، ایک اور ترانہ، ایک اور جذباتی تقریر سب کچھ بدل دے گی۔
اصل مسئلہ قیدی کا ہونا یا نہ ہونا نہیں، بل کہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین ہی غلط کرلیا ہے۔ ہم نے شخصیات کو نظریات پر، نعروں کو کارکردگی پر، اور جذبات کو عقل پر ترجیح دے دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر بار خود کو دھوکا کھا جانے کے بعد بھی فاتح سمجھتے ہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ قیدی 804 نکلے گا یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ
اس دوران میں صوبہ کہاں کھڑا ہوگا؟
ہمارے بچے کس معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟
ہمارے نوجوان کس سمت جا رہے ہیں؟
ہمارے اسپتال، عدالتیں اور ادارے کس حال میں ہیں؟
مگر یہ سوالات جلسوں میں تالیاں نہیں بٹورتے، اس لیے غیر اہم ٹھہرتے ہیں۔
باشعور قومیں لیڈروں سے محبت ضرور کرتی ہیں، مگر اندھی عقیدت نہیں رکھتیں۔ وہ سوال کرتی ہیں، احتساب مانگتی ہیں اور کارکردگی پر فیصلہ دیتی ہیں… مگر ہم شاید اس درجے کی باشعوری کے لیے ابھی تیار نہیں۔ ہمیں تماشا اچھا لگتا ہے، شور اچھا لگتا ہے اور جذباتی سرشاری میں خود کو باشعور کہلانا اچھا لگتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ شعور کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ جب لیڈر سوالوں کے کٹہرے میں ہو، جب وعدے پورے نہ ہوں، جب حالات بگڑ جائیں… تب باشعور قوم نعرہ نہیں، حساب مانگتی ہے۔ مگر ہم نے حساب مانگنے کے بہ جائے ترانے یاد کرلیے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ تماشا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کیوں کہ تماشا لگانے والے بھی خوش ہیں اور تماشا دکھانے والے بھی۔ نقصان اگر کسی کا ہے، تو وہ عوام کا ہے، مگر عوام کو اس نقصان کا بھی احساس نہیں۔ کیوں کہ انھیں یقین دلایا جاچکا ہے کہ وہ باشعور ہیں۔
شعور کا اعلان کرنے سے کوئی باشعور نہیں ہوجاتا۔ شعور عمل میں نظر آتا ہے، سوال میں جھلکتا ہے اور فیصلوں میں بولتا ہے۔ جب ہم نعروں کے بہ جائے نتائج مانگنا سیکھ لیں گے، اُس دن شاید واقعی کَہ سکیں گے کہ ہم باشعور لوگ ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










