پاکستان میں جمہور اور جمہوریت کے نام پر جو کھلواڑ کھیلا گیا اور اب بھی جاری ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موجودہ ہائبرڈ جمہوری نظام سے پیدا ہونے والے بعض لوگ یہ دعوا کرتے ہیں، یا دل کو بہلانے کے لیے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے۔‘‘ کہنے کی حد تک یہ بات تو درست ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت میں موجودہ ہائبرڈ جمہوری نظام، آمریت سے کس دلیل کے ساتھ بہتر ہے؟
اگر آمریت میں آمر کے مخالف سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی گئی یا لگائی جاتی ہے اور سیاسی عمائدین کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو ہائبرڈ جمہوری نظام میں بھی تو یہی کچھ ہو رہا ہے۔ آمرانہ دور میں عدلیہ آزاد تھی اور نہ پارلیمنٹ… اور آج بھی عدلیہ آزاد ہے اور نہ پارلیمنٹ۔ آزاد میڈیا، جو کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، آمریت کے دور میں آزاد تھا اور نہ آج ہے۔
پاکستان میں ہائبرڈ جمہوری نظام کا آغاز 1962ء میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ’’بنیادی جمہوری نظام‘‘ (بی ڈی نظام) سے ہوا، جس کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی، اور اس کے بعد یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا۔ جمہوریت کی خاطر جنرل ضیاء الحق نے بہ ظاہر الیکشن کے انعقاد کا اعلان تو کر دیا، لیکن انھیں یہ خطرہ لاحق رہا کہ آزادانہ الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار مل سکتا ہے، چناں چہ الیکشن ملتوی کر دیے گئے، اور اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا۔
ہائبرڈ جمہوری نظام کے لیے تجرباتی بنیادوں پر ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ (ایم کیو ایم) کی بنیاد رکھی گئی، جب کہ دوسری طرف ایک غیر معروف شخص میاں محمد نواز شریف کو میدان میں اتارا گیا۔ جنرل صاحب کا خیال تھا کہ بھٹو کو راستے سے ہٹانے کے بعد کوئی بہتر صورت نکل آئے گی، لیکن اس کے باوجود بات نہ بن سکی۔
قبولیت کو قابو میں رکھنے کے لیے آمریت کو جمہوریت کا لبادہ پہناتے ہوئے 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر قومی انتخابات کا اعلان کیا گیا، جو ہائبرڈ جمہوری نظام کی دوسری کوشش اور ’’حادثاتی سیاست دانوں‘‘ کی نرسری کا آغاز تھا۔ الیکشن میں کام یاب ہونے والوں کی ایک سیاسی جماعت، قائد اعظم مسلم لیگ، بنا کر اقتدار اُن کے حوالے کر دیا گیا۔ نو مولود پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ’’آرٹیکل ففٹی ایٹ ٹو بی‘‘ کو آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔
جمہوریت میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایوانِ صدر کو طاقت کا سرچشمہ بناکر صدر کو منتخب وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ کو گھر بھیجنے کا اختیار دیا گیا۔ ’’آرٹیکل ففٹی ایٹ ٹو بی‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا، اور کچھ دنوں بعد طیارے کے حادثے میں جنرل ضیاء الحق اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو ایوانِ اقتدار تک پہنچ گئیں، مگر لانے والوں نے انھیں اقتدار میں رہنے نہیں دیا۔ ہائبرڈ جمہوری نظام کے لبادے میں نواز شریف کو ایوانِ اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔ بعد میں نواز شریف یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ ناقابلِ شکست ہیں۔ جب انھوں نے یہ نعرہ لگایا کہ ’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا!‘‘ تو لانے والوں نے انھیں بھی اقتدار سے محروم کر دیا۔
لانے والے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے رہے۔ ’’آرٹیکل ففٹی ایٹ ٹو بی‘‘ کے خاتمے کے بعد نواز شریف اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ اب وہ محفوظ ہیں، لیکن لانے والوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو ایک بار پھر نواز شریف کو ملک بدر کر دیا۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مقتدرہ نے آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کی حمایت شروع کی۔ مقتدرہ والے چاہتے تھے کہ عمران خان کو اقتدار میں لایا جائے۔ ایک طرف عمران خان اپنی مقبولیت خود بنانے میں کام یاب ہو رہے تھے، جب کہ دوسری طرف انھیں مقتدرہ کی حمایت بھی حاصل رہی۔ 2013ء میں پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد 2018ء تک ایک مقبول سیاسی جماعت بن چکی تھی، اور انتخابات کے نتیجے میں عمران خان وزیرِ اعظم بن گئے۔
اقتدار اور مقبولیت کے زعم میں عمران خان نے بھی ڈکٹیشن لینا چھوڑ دی، جس کے نتیجے میں اپریل 2022ء میں انھیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ عمران خان جو اقتدار میں ہوتے ہوئے غیر مقبول ہوتے جا رہے تھے، تحریکِ عدم اعتماد اور اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر مقبول ہوتے گئے۔
مقتدرہ نے تحریکِ انصاف اور عمران خان کو ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ پارٹی سے انتخابی نشان تک چھینا گیا۔ تحریکِ انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں اور مختلف انتخابی نشانات پر انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا، لیکن اس کے باوجود عوام نے تحریکِ انصاف کو ووٹ دیا۔ مقتدرہ نے مقبولیت پر قبولیت کو ترجیح دیتے ہوئے لانے والوں کو ایوانِ اقتدار تک پہنچایا۔
القصہ، سات دہائیوں سے پاکستان میں لانے اور لائے جانے والوں کا یہ تماشا جاری ہے، جو ملک و قوم کی تباہی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ مقتدرہ ہائبرڈ نظام کو جمہوریت کا لبادہ پہنا کر قابلِ قبول بنانا چاہتی ہے، مگر عوامی قبولیت تو دور کی بات، اس نظام کی برکت سے اقتدار تک پہنچنے والوں نے بھی اسے قبول کرنے کے بہ جائے بار بار چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایوانِ اقتدار سے جیل تک جا پہنچے۔
بہتر یہی ہے کہ مقتدرہ اور اشرافیہ ہوش کے ناخن لیں اور اس ملک کی بہتری کے لیے ایک بار حقیقی جمہوریت کا تجربہ کرکے بھی دیکھ لیں، ورنہ سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










