کارل مارکس کا یہ قول کہ ’’اب تک کی تمام تاریخ طبقاتی جد و جہد کی تاریخ ہے‘‘ اگر کسی ایک ملک پر پوری شدت کے ساتھ صادق آتا ہے، تو وہ پاکستان ہے۔ یہاں طبقاتی تقسیم محض معاشی نہیں، بل کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ جغرافیائی صورت اختیار کرچکی ہے۔ مارکس کی فکر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ پاکستان کے بحران محض بدانتظامی یا بدقسمتی کا نتیجہ نہیں، بل کہ ایک ایسے طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں، جو قیامِِ پاکستان کے فوراً بعد مستحکم ہو گیا تھا۔
مارکس کے بنیادی سوال سے آغاز کریں: کون محنت کرتا ہے، اور کون اس محنت کے ثمرات پر قابض ہے؟ پاکستان میں یہ سوال اور بھی تلخ ہوجاتا ہے۔ یہاں مزدور، کسان، کلرک، نرس، استاد اور فیکٹری ورکر محنت کرتے ہیں، مگر پیداوار پر قبضہ جاگیردار، صنعت کار، رئیل اسٹیٹ مافیا، کارپوریٹ اشرافیہ اور ریاستی طاقت سے جڑے طبقات کے پاس ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو قانون سازی، ٹیکس نظام، میڈیا بیانیے اور قومی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
مارکس جس ’’اضافی قدر‘‘ (Surplus Value) کی بات کرتا ہے، وہ پاکستان میں روزانہ پیدا ہوتی ہے: کھیتوں میں، فیکٹریوں میں، ورکشاپوں میں، اسپتالوں اور اسکولوں میں۔ مگر اس کا بڑا حصہ چند خاندانوں، گروہوں اور اداروں کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے۔ مزدور کی اجرت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے، بل کہ اتنی ہوتی ہے کہ وہ کل پھر کام پر آسکے۔ یہی ساختی استحصال ہے، جسے ہم اکثر غربت کی تقدیر کَہ کر قبول کرلیتے ہیں۔
پاکستانی سماج میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کا گٹھ جوڑ، مارکس کے نظریے کی زندہ مثال ہے۔ ایک طرف جاگیردار ہیں، جو زمین کے مالک ہیں، مگر خود پیداوار میں شریک نہیں۔ دوسری طرف سرمایہ دار ہیں، جو صنعت اور تجارت پر قابض ہیں۔ ریاست اکثر ان دونوں کے مفادات کی محافظ بن جاتی ہے۔ نتیجتاً کسان بے زمین، مزدور غیر محفوظ، اور متوسط طبقہ مسلسل دباو کا شکار رہتا ہے۔
مارکس کے نزدیک ریاست کبھی مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ پاکستان میں یہ حقیقت اور زیادہ نمایاں ہے۔ ٹیکس کا بوجھ بالواسطہ طور پر غریب اور متوسط طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ بڑے زمین دار، بڑے تاجر اور طاقت ور کارپوریشن مختلف رعایتیں حاصل کرلیتے ہیں۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات منڈی کے حوالے کر دی جاتی ہیں، یوں غریب کے لیے بیماری اور جہالت مستقل سزا بن جاتی ہے۔
طبقاتی جد و جہد کا پہلا مرحلہ، جیسا کہ مارکس کہتا ہے، شعور ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ استحصال ہو رہا ہے، بل کہ یہ ہے کہ استحصال کو نظریاتی پردوں میں چھپا دیا گیا ہے۔ کبھی اسے ’’مذہبی تقدیر‘‘ کہا جاتا ہے، کبھی ’’قومی سلامتی‘‘ اور کبھی ’’ترقی کا ناگزیر مرحلہ۔‘‘ یوں مزدور اور غریب اپنی محرومی کو نظام کا مسئلہ سمجھنے کے بہ جائے اپنی ذاتی ناکامی مان لیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے، جہاں میڈیا، نصابِ تعلیم اور سماجی بیانیہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مارکس کے مطابق حکم ران طبقہ صرف معیشت پر نہیں، بل کہ خیالات کی پیداوار پر بھی قابض ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر سوال اٹھانے کے بہ جائے اخلاقی خطبات، صبر کی تلقین اور شخصی کردار پر زور دیا جاتا ہے۔
آج کے پاکستان میں نئی سرمایہ داری، کنٹریکٹ ملازمتیں، ڈیلی ویجز، نج کاری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم، مارکس کے تصورِ بیگانگی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انسان اپنی محنت سے، اپنے وقت سے اور بالآخر اپنی زندگی سے کٹتا جا رہا ہے۔ وہ مسلسل کام کرتا ہے، مگر مستقبل غیر محفوظ رہتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے، جسے مارکس محض معاشی نہیں، بل کہ انسانی بحران سمجھتا ہے۔
طبقاتی جد و جہد کا مطلب انتشار یا نفرت نہیں، بل کہ ایک غیر منصفانہ نظام کے خلاف اجتماعی سوال ہے۔ پاکستان میں یہ جد و جہد کسان تحریک، مزدور یونین، طلبہ سیاست، خواتین کی معاشی شمولیت اور علاقائی محرومیوں کے خلاف اُٹھنے والی آوازوں میں مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے، اگرچہ اکثر انھیں دبایا گیا یا بدنام کیا گیا۔
آخر میں، مارکس ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ تاریخ خود بہ خود بہتر نہیں ہوتی۔ تبدیلی اُس وقت آتی ہے جب محروم طبقات اپنے حالات کو قدرت کا حکم نہیں، بل کہ انسانی فیصلوں کا نتیجہ سمجھیں۔ پاکستان کا اصل سوال یہی ہے: کیا ہم غربت، عدم مساوات اور استحصال کو معمول مانتے رہیں گے، یا ایک منصفانہ سماج کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اخلاقی فریضہ سمجھیں گے؟
طبقاتی جد و جہد دراصل پاکستان کو بچانے کی جد و جہد ہے، ایک ایسے پاکستان کے لیے جہاں انسان کی قدر اس کی محنت سے ہو، اس کے طبقے سے نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










