خلائی مخلوق… حقیقت یا محض انسانی تجسس؟

Blogger Tauseef Ahmad Khan

قارئینِ کرام! اگر دیکھا جائے، تو اس صدی کے اہم ترین سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ کیا ہماری زمین کے علاوہ بھی کائنات میں کہیں زندگی موجود ہے؟ کیا خلا کی بے پایاں وسعتوں میں ایسے سیارے موجود ہوسکتے ہیں، جہاں ہماری ہی طرح کی مخلوق آباد ہوں؟ کیا دوسرے نظام ہائے شمسی میں ہماری طرح زندگی خاموشی سے پنپ رہی ہے، مگر ہماری نظروں سے اوجھل ہے؟ ایسے چند بنیادی سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے سائنس دانوں نے گذشتہ چند دہائیوں میں اربوں ڈالر خرچ کیے، جدید ترین خلائی دوربینیں بنائیں، خلائی مشن بھیجے اور دور دراز سیاروں کا مطالعہ کیا۔ اس کے باوجود تاحال کوئی ایسا حتمی ثبوت سامنے نہیں آسکا، جو یہ ثابت کر دے کہ زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے۔ ہم ابھی تک اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ کائنات میں زندگی کا وجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ البتہ ایسے مختلف سائنسی نظریات اور مشاہدات ضرور موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس خلائی مخلوق کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ 
اس تحریر میں پہلے جدید سائنسی نظریات کا مختصر اور مربوط جائزہ پیش کیا جائے گا، جب کہ اگلی تحریر میں قرآنِ مجید اور مختلف اسلامی مفکرین کی آرا کے ذریعے خلائی مخلوق کے وجود کے امکان کا جائزہ لیا جائے گا، تاکہ اس سوال کو ایک زیادہ جامع اور ہمہ گیر تناظر میں سمجھا جاسکے کہ کیا کائنات کے دوسرے گوشوں میں غیر ارضی مخلوقات کا وجود ممکن ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اصل میں خلائی مخلوق سے مراد کیا ہے اصل میں خلائی مخلوق سے مراد وہ مخلوقات ہیں جو ہماری طرح زندگی رکھتی ہوں، کسی درجے کی تہذیب یا شعور کی حامل ہوں اور زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر آباد ہوں۔ اس مفہوم میں اُڑن طشتریاں، ہالی ووڈ فلموں میں دکھائی جانے والی عجیب الخلقت مخلوقات یا افسانوی کہانیاں شامل نہیں۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اب تک نہ ہماری طرح کی کسی ذی شعور مخلوق کا سراغ ملا ہے اور نہ کسی ایک بیکٹیریا کے وجود کا قطعی ثبوت ہی سامنے آیا ہے۔ البتہ کچھ سائنسی شواہد ایسے ضرور ہیں، جو زندگی کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔ سائنس نے مریخ پر قدیم دریاؤں اور جھیلوں کے آثار، نامیاتی مرکبات یعنی قدرتی کیمیائی اجزا، زیرِ زمین برف اور بعض چٹانوں میں ایسے نمونے دریافت کیے ہیں، جو عام حیاتیات سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اب تک کسی بھی سیارے، چاند یا دوسرے اجسامِ فلکی پر زندہ اور نہ مردہ بیکٹیریا ہی کا کوئی مستند ثبوت ملا ہے۔ چناں چہ فی الحال کائنات میں زندگی ایک امکان تو ہے، مگر فی الحال ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
ذیل میں ہم چند ایسے سائنسی نظریات کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے، جو خلائی مخلوق کے امکان کو محض ایک خیال سے آگے بڑھا کر یقین کے قریب لے جاتے ہیں۔ انھی نظریات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ واقعی کائنات میں کہیں نہ کہیں خلائی مخلوق کا وجود ممکن ہے۔ یہ نظریات سائنس دانوں کو اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ دور دراز اجرامِ فلکی پر بھی زندگی پروان چڑھ سکتی ہے… اور اس حقیقت کو  مختلف زاویوں سے واضح کرتے ہیں، جو کہ نہایت دل چسپ اور غور و فکر کے قابل ہیں۔
سب سے پہلے جس نظریے کی ہم بات کریں گے، وہ ہے ’’ہیبیٹیبل زون‘‘ (Habitable zone) نظریہ، جو کہ اس وقت سائنس کا ایک معروف نظریہ ہے۔ اسے عام طور پر ’’گولڈی لاکس زون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تقریباً ہر ستارے کے گرد ایک ایسا زون ضرور موجود ہوتا ہے، جہاں درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے اور نہ بہت کم… یعنی موسم ہماری کرۂ ارض کی طرح معتدل رہتا ہے۔ اسی قدرتی توازن کی وجہ سے وہاں پانی مائع حالت میں موجود رہ سکتا ہے، اور چوں کہ پانی کو زندگی کی بنیادی جز سمجھا جاتا ہے، اس لیے ایسے زون یا جگہ میں زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
آج سائنس دوسرے نظامِ شمسی میں ہزاروں ایسے بیرونی سیارے دریافت کرچکی ہے، جو اپنے اپنے ستاروں کے ’’ہیبیٹیبل زون‘‘ میں واقع ہیں، جو حجم میں زمین سے ملتے جلتے ہیں اور جن کی سطح چٹانی ہے۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ’’ہیبیٹبل زون‘‘ صرف دیگر اجسامِ فلکی میں زندگی کا صرف امکان ظاہر کرتا ہے۔ کیوں کہ زندگی کے لیے مناسب ماحول، ضروری کیمیائی عناصر، طویل مدتی استحکام اور توانائی کا مناسب ذریعہ بھی لازمی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق چوں کہ کائنات میں اربوں کہکشائیں اور ہر کہکشاں میں کھربوں ستارے موجود ہیں، اس لیے ایسے قدرتی زونز کے وجود کا امکان بہت زیادہ ہے، اور اس وجہ سے زندگی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس سے ملتا جلتا دوسرا نظریہ ’’ڈریک اکویشن‘‘ (Drake Equation) سے اخذ کرتے ہیں، جو کہ ایک سائنسی تصور ہے۔ اسے 1961ء میں ماہرِ فلکیات ’’فرینک ڈریک‘‘ (Frank Drake) نے پیش کیا۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا نہیں کہ واقعی کتنی خلائی تہذیبیں موجود ہیں، بل کہ یہ اندازہ لگانا ہے کہ ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ (Milky Way) میں ایسی کتنی ترقی یافتہ تہذیبیں ہوسکتی ہیں، جو ہم سے رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ مساوات کوئی قطعی ثبوت فراہم نہیں کرتی، بل کہ سائنسی بنیادوں پر امکان (Probability) کا حساب لگانے کی ایک کاوش ہے۔ اس مساوات کو سمجھنے کے لیے اس کے سادہ فارمولے کو جاننا ضروری ہے (N = R × fp × ne × fl × fi × fc × L) یہاں "R” سے مراد ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے میں نئے ستاروں کی پیدایش کی سالانہ شرح ہے، یعنی ہر سال کتنے نئے ستارے پیدا ہوتے ہیں؟ "fp” اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان ستاروں میں سے کتنے کے گرد سیارے موجود ہیں؟ جدید سائنس اب یہ تسلیم کرتی ہے کہ اکثر ستاروں کے گرد سیارے پائے جاتے ہیں۔
"ne” کا مطلب یہ ہے کہ ان سیاروں میں سے کتنے ایسے ہیں، جو "Habitable Zone” میں واقع ہیں، یعنی جہاں پانی مائع حالت میں موجود رہ سکتا ہے اور زندگی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے اوپر پیراگراف میں اس بات کا ذکر کیا۔ اسی طرح "flـ” اس سوال سے متعلق ہے کہ ان مووزوں ترین سیاروں میں سے کتنے پر زندگی واقعی جنم لیتی ہے… لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا زندگی خود بہ خود پیدا ہوسکتی ہے، جیسے کہ ڈارون نظریہ ہمیں بتاتا ہے؟ "fi” سے مراد یہ ہے کہ اس زندگی میں سے کتنی ذہین شکل اختیار کرتی ہے یعنی خرد رکھتی ہے (یعنی انسان جیسا عقل و شعور رکھنے والی مخلوق)؟
"fc” اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان ذہین تہذیبوں میں سے کتنی، ٹیکنالوجی ایجاد کرتی ہیں اور رابطے کے قابل سگنل (جیسے ریڈیو سگنل) بھیج سکتی ہیں؟
آخر میں "L” اس عرصے کی نشان دہی کرتا ہے، جس دوران میں ایسی تہذیبیں قائم رہتی ہیں، وہ آیا خود کو تباہ کر لیتی ہیں، یا طویل مدت تک باقی رہتی ہیں۔ اگر اس مساوات کے ہر جز کی قدر تھوڑی سی بھی مثبت ہو، یعنی امکان صفر سے تھوڑا بھی اوپر ہو، تو نتیجہ "N” ہرگز صفر نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہوسکتے، اور سائنسی طور پر خلائی مخلوق کے امکان کو مکمل طور پر رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہے: اگر واقعی اتنی تہذیبیں موجود ہیں، تو ہمیں ان کا کوئی نام و نشان کیوں نظر نہیں آتا؟
اس سوال کا جواب ہمیں ’’فرمی پیراڈاکس‘‘ (Fermi Paradox) میں تلاش کرنا ہے۔ اس کے مطابق ممکن ہے کہ کائناتی فاصلے بے حد وسیع ہوں، یا وقت کا فرق اتنا زیادہ ہو کہ تہذیبیں ایک دوسرے سے کبھی مل ہی نہ سکیں۔ مثال کے طور پر کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے، جب کہ انسانی تہذیب کی ریڈیو سگنل کے ساتھ تاریخ محض تقریباً 100 سال پر محیط ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی تہذیب ہم سے لاکھوں یا کروڑوں سال پہلے وجود میں آکر ختم ہوچکی ہو، یا کوئی تہذیب ابھی پیدا ہی نہ ہوئی ہو۔
مثال کے طور پر اگر ایک تہذیب 10 لاکھ سال پہلے موجود تھی اور ہم آج موجود ہیں، تو ہمارے درمیان کبھی رابطہ ممکن نہیں، بالکل ایسے ہی جیسے ایک ہی سڑک پر دو مسافر ہوں، مگر لاکھوں سال کے وقفے سے گزریں۔
’’فرمی پیراڈاکس‘‘ یہ امکان بھی ظاہر کرتا ہے کہ شاید وہ تہذیبیں ہم سے بالکل مختلف انداز میں موجود ہوں۔ یعنی "Non-Human” یا "Non-Biological "Existence، جو جدید سائنس کا ایک نہایت دل چسپ تصور ہے۔ مثلاً: یہ بھی ممکن ہے کہ بعض تہذیبیں اس حد تک ترقی کرچکی ہوں کہ ان کا حیاتیاتی جسم ختم ہوگیا ہو اور صرف مصنوعی ذہانت (AI Civilizations) باقی رہ گئی ہو، جس کے پاس جذبات ہوں، اور نہ ہماری طرح رابطے کی خواہش، اور نہ ایسے سگنل، جنھیں ہم پہچان سکیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُن کی زندگی کی بنیاد ہماری زندگی سے بالکل مختلف کیمیائی عناصر پر ہو، جیسے ہماری زندگی کاربن، پانی اور آکسیجن پر مبنی ہے، جب کہ وہ سلیکون، امونیا یا کسی اور مادے سے بنے ہوں۔ اس صورت میں جسے ہم ’’زندگی‘‘ کہتے ہیں، وہ ہماری تعریف میں فِٹ ہی نہ آتی ہو۔
پہلے سائنس یہ سمجھتی تھی کہ زندگی صرف زمین جیسے معتدل حالات ہی میں ممکن ہے، جہاں مناسب درجۂ حرارت، پانی، آکسیجن اور متوازن ماحول موجود ہو… لیکن وقت کے ساتھ ایک اہم نظریہ سامنے آیا، جسے "Extremophiles Theory” کہا جاتا ہے، اور اس نے زندگی کی تعریف ہی بدل کر رکھ دی۔ "Extremophiles” ایسے جان دار (زیادہ تر بیکٹیریا اور آرکیا) ہوتے ہیں، جو انتہائی سخت حالات میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں، جہاں کبھی یہ تصور کیا جاتا تھا کہ زندگی ناممکن ہے… یعنی وہ ماحول جہاں شدید گرمی ہو  یا جان لیوا سردی ہو، بے حد نمکین پانی ہو، خطرناک تاب کاری ہو، آکسیجن موجود نہ ہو، یا تیزابیت یعنی "PH” کا مقدار انتہائی زیادہ ہو، وہاں بھی زندگی پنپ سکتی ہے۔ یوں "Extremophiles” نے اس پرانے تصور کو توڑ دیا کہ زندگی صرف زمین جیسے حالات کی محتاج ہے۔
ان جان داروں کی چند اہم اقسام میں "Thermophiles” جان دار جو کہ 80 سے 120 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں زندہ رہتے ہیں، اور آتش فشانی علاقوں اور گرم چشموں میں پائے جاتے ہیں۔ "Psychrophiles” جو منفی درجۂ حرارت میں بھی زندگی برقرار رکھتے ہیں، جیسے انٹارکٹکا کی برفانی تہیں۔ "Halophiles” یہ انتہائی نمکین ماحول میں زندہ رہتے ہیں۔ "Acidophiles” شدید تیزابیت میں نشو و نما پاتے ہیں، جہاں "pH” لیول 1 سے 2 تک ہوتا ہے۔ "Radiophiles” جان دار خطرناک حد تک زیادہ سے زیادہ تاب کاری برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں "Deinococcus radiodurans” ایک مشہور مثال ہیں۔ "Anaerobes” وہ جان دار ہیں، جو آکسیجن کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ "Extremophiles” نے سائنس دانوں کو اس بات سے روشناس کروایا اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ زندگی نہایت لچک دار ہے اور وہ ایسے حالات میں بھی پنپ سکتی ہے، جن کا ہم پہلے کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی نظریہ خلا میں زندگی کے امکان کو بھی ایک نئی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس نظریے سے جڑا ہوا ایک دوسرا نظریہ جیسے ’’پان اسپرمیہ‘‘ (Panspermia Theory) کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق نامیاتی مالیکیولز خلا کے ذریعے ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک منتقل ہوسکتے ہیں۔ یعنی اس بات کا امکان موجود ہے کہ زندگی کا آغاز زمین پر نہیں ہوا، بل کہ کسی اور مقام پر وجود میں آئی اور بعد ازاں کسی قدرتی خلائی عمل کے ذریعے زمین تک پہنچی۔ اس نظریے کی بنیاد یہ خیال ہے کہ خلا میں موجود شہابی پتھر یا دمدار ستارے (Comets) اور خلائی گرد آلود (Cosmic Dust) اپنے ساتھ نامیاتی مادّہ یا سادہ جراثیم لے کر ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک منتقل ہوسکتے ہیں۔
ان نظریات کے علاوہ بھی متعدد سائنسی تصورات ایسے ہیں، جو کسی نہ کسی پہلو سے خلائی مخلوق کے وجود کے امکان کی نشان دہی کرتے ہیں، جیسے ملٹی ورس تھیوری وغیرہ۔ قارئین! آیندہ تحریروں میں، مَیں ان موضوعات پر مزید خامہ فرسائی کروں گا۔ فی الحال اس تحریر کا اختتام میں قرآنِ مجید کی ایک نہایت فکرانگیز اور خوب صورت آیت پر کرنا چاہتا ہوں، جس نے اس موضوع پر مطالعے کے دوران میں میری خصوصی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ سورۃ النحل کی آیت نمبر 8 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور گھوڑے، خچر اور گدھے (پیدا کیے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمھاری زینت بھی ہوں، اور وہ (اللہ) ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے، جنھیں تم نہیں جانتے۔‘‘ 
یہ آیت نہایت واضح انداز میں اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ کائنات میں موجود مخلوقات کی اقسام اور ان کی صورتیں اور وجود انسانی علم و شعور کی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ انسان جس علم پر ناز کرتا ہے، وہ درحقیقت حقیقتِ کُل کا محض ایک معمولی سا حصہ ہے، جب کہ اللہ کی تخلیق اور اس کا دائرۂ قدرت لامحدود ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے