جب برف امیر کے لیے تفریح اور غریب کے لیے زندگی کا کڑا امتحان بن جائے، تو سمجھ لیں کہ مسئلہ موسم کا نہیں، بل کہ انتظامیہ کا ہے۔
گذشتہ شب سوات اور باقی شمالی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوا، تو پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ درختوں نے خاموشی کا لباس پہن لیا اور فضا میں وہی خوب صورتی اُتر آئی، جسے دیکھنے کے لیے بڑے شہروں سے سرمایہ دار، فیکٹریوں کے مالک، اور آسودہ خاندان لاکھوں روپے خرچ کر کے کئی دن پہلے ہی یہاں پہنچ چکے تھے۔ اُن کے لیے برف ایک خواب تھی، ایک تصویر، ایک تفریح، ایک انسٹاگرام پوسٹ، گرم کمروں کی بکنگ پہلے سے، ہیٹر جل رہے تھے، شنواری کے آرڈر لگے ہوئے تھے، بچے ہنس رہے تھے، قہقہے سکوت پر حاوی ہورہے تھے اور ہوٹلوں کے کمروں میں بیٹھے لوگ اس برف کو ’’قدرت کا تحفہ‘‘ کَہ رہے تھے۔
اُس موقع میں ہوٹل کا مالک بھی خوش تھا۔ کیوں کہ اُسے معلوم تھا کہ چند ہی دنوں میں فیکٹری کے مالک کے ہاتھ سے لاکھوں روپے کا بل نکلے گا، یہاں برف ایک طرح کا کاروبار تھی، لگژری اور خوشی تھی…… مگر اُسی برف میں، اُسی رات، اُسی علاقے میں، بازار سے ذرا ہٹ کر ایک گاؤں میں فرقان علی بیٹھا تھا، وہ فرقان علی…… جس کی ماں بیمار تھی، بستر پر پڑی کراہ رہی تھی، جس کے لیے دوا چاہیے تھی، ڈاکٹر چاہیے تھا، راستہ چاہیے تھا…… مگر اُس کے پاس صرف بے بسی تھی۔ بجلی بند تھی، اِس لیے اُس کا فون آف ہوچکا تھا، موبائل ٹاؤر نے بھی کام چھوڑ دیا تھا، وہ کسی کو فون کر کے مدد نہیں مانگ سکتا تھا، وہ کسی ایمبولینس کو آواز نہیں دے سکتا تھا، وہ صرف اپنی ماں کی طرف دیکھ سکتا تھا اور اُن کی تکلیف کو اُن کی آنکھوں ہی تیرتا دیکھ سکتا تھا۔
فرقان علی کے گاؤں سے نکلنے والا پیدل راستے پر برف پڑ چکی تھی۔ تین کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد جو واحد سڑک مین شاہ راہ سے ملاتی تھی، وہ بھی بند تھی۔ کوئی ’’سنو کٹر‘‘، کوئی ہنگامی ٹیم، کوئی سرکاری گاڑی، کوئی اہل کار موجود نہ تھا…… اس طرح نہ کوئی اعلان تھا، نہ منصوبہ…… جیسے یہ بدقسمت گاؤں باقی ماندہ ملک کا حصہ ہی نہ ہو۔
ستم بالائے ستم یہ کہ مذکورہ گاؤں کے گھروں میں مرد بھی زیادہ تعداد میں نہیں ہوتے۔ کہیں کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرتے ہوئے زندگی گھس رہے ہوتے ہیں، کہیں کسی شہر میں دیہاڑی لگا کر بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔ گھروں میں مائیں ہوتی ہیں، بچے ہوتے ہیں اور وہ چند نوجوان…… جن کے حصے میں صرف انتظار ہوتا ہے، کہیں نوکری ملنے کا……!
ہمارے گاوؤں میں ایسے مواقع پر اگر کوئی بیمار ہوجائے، تو اُس کا علاج نہیں ہوتا، صرف اُمید کا دامن تھام کر دعا کے سہارے مریض کی جسم و جاں کا رشتہ بہ حال کرنے کی غرض سے ہمت بندھائی جاتی ہے۔
قارئین! یہ وہ حقیقت ہے، جو مملکتِ خداداد کا میڈیا دکھانے سے عاجز ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو کبھی کسی سیاح کے کیمرے کی آنکھ سے قید نہیں ہوپاتا اور یہی وہ سچ ہے، جو کسی پنج تارہ یا سہ تارہ ہوٹل کے ’’بروشر‘‘ میں نہیں چھپتا۔
قارئین! ہم کہتے ہیں کہ برف بہت اچھی ہوتی ہے ، ہاں برف اچھی ہوتی ہے، جتنی مرضی ہو…… مگر صرف وہاں جہاں نظام زندہ ہو، جہاں سڑکیں وقت پر کھل جائیں، جہاں بجلی منقطع نہ ہو، جہاں ایمبولینس برف چیر کر پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اور جہاں ریاست ’’ماں‘‘ بن کر کھڑی ہو۔
یورپی ممالک میں برف باری ہوتی ہے، تو لوگ محفوظ رہتے ہیں…… اور یہاں ہوتی ہے، تو لوگ کٹ جاتے ہیں۔ یہاں برف باری خوب صورتی نہیں، بل کہ آزمایش سمجھی جاتی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر یہاں برف امیر کے لیے خوشی اور غریب کے لیے سزا بن جاتی ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر برف کی چادر اوڑھے پہاڑ دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں، مگر اُن پہاڑوں میں بسنے والی سسکتی ضعیف العمر ماؤں کی آواز نہیں سنتے، ہم شنواری کی پلیٹ کی تصویر دیکھ کر واہ واہ کرتے ہیں، مگر اُسی لمحے کسی گاؤں میں خالی چولھا جلنے سے پہلے ہی بجھ جاتا ہے۔ ہم گرم کمروں میں بیٹھ کر برف باری انجوائے کرتے ہیں، مگر کسی کچے گھر میں بیٹھا فرقان علی اپنی ماں کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ اگر آج ماں دم توڑ گئی،تو کفن دفن کا انتظام کیسے ہوگا؟
قارئین! میری یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر برف باری کے خلاف نہیں، یہ سطور ہر گز سیاحت کے خلاف نہیں، یہ الفاظ خوشی کے خلاف نہیں، بل کہ یہ اُس نظام کے خلاف ہیں، جو صرف پیسے والوں کے لیے جاگتا ہے اور غریب کے لیے اونگھتے اونگھتے سوجاتا ہے۔
یہ تحریر اس بوسیدہ نظام چلانے والوں کے خلاف ہے، جو پنج تارہ و سہ تارہ ہوٹلوں تک سڑکیں تو سڑک صاف کرنے میں مستعد ہے، مگر اُن کے پیچھے بسے تایک گاؤں تک نہیں پہنچتا۔ یہ تحریر اُس بے حسی کے خلاف ہے، جو ہر سال سفید چادر اوڑھ کر ہمارے ضمیر پر بیٹھ جاتی ہے۔
قارئین! برف پگھل جائے گی، سیاح واپس چلے جائیں گے، بِل ادا ہوجائیں گے، ہوٹل کے کمرے خالی ہوجائیں گے، تصویریں پرانی ہوجائیں گی، مگر فرقان علی کے دل میں وہ رات ہمیشہ زندہ رہے گی، جب اُس کی ماں بیمار تھی، راستے بند تھے، فون خاموش تھا اور ریاست ’’سوتیلی ماں‘‘ کی طرح خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










