موسمِ سرما اپنے عروج پر ہے۔ لوگ ایک طرف یخ ہوائیں اور رومانوی موسم کے ساتھ ساتھ مرغن غذائیں مچھلی اور گرما گرم پکوڑوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں، تو دوسری طرف سانس اور دمہ کے مریضوں پر یہ موسم کافی گراں گزرتا ہے۔ اس بلاگ میں، ہم دریافت کریں گے کہ سرد موسم کس طرح سانس کی صحت کو متاثر کرتا ہے اور آپ سردی کے مہینوں میں محفوظ اور آرام دہ رہنے کے لیے کیا اقدامات کرسکتے ہیں؟
قارئین! جب ہم ٹھنڈی، خشک ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو ہمارے ’’ایئر ویز‘‘ میں جلن اور سوجن ہوتی ہے۔ اس سے پھیپڑوں کے اندر اور باہر ہوا کا بہاو مشکل ہوجاتا ہے۔ دمہ میں مبتلا مریض کے لیے، یہ گھرگھراہٹ، کھانسی اور سانس کی قلت جیسی علامات کو متحرک کرتا ہے۔ یہاں تک کہ دمہ کے بغیر لوگ بھی اس تکلیف کا سامنا کرسکتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ پہلے ہی سے سانس کی بیماری جیسے دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (COPD) یا برونکائٹس میں مبتلا ہوں۔
ٹھنڈی ہوا آپ کے ایئر ویز کے ارد گرد کے پٹھوں کو تنگ کرنے کا سبب بنتی ہے، جس سے دمہ کا دورہ پڑسکتا ہے، یا سانس لینے میں دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، سردیوں کی خشک ہوا سانس کی نالی میں بلغم کی جھلیوں کو خشک کرسکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ انفیکشن کا زیادہ شکار ہوجاتے ہیں۔ جب یہ جھلی خشک ہوتی ہے، تو وہ دھول، جراثیم اور دیگر ذرات کو پھنسانے میں کم موثر ہوتی ہے اور پھیپڑوں کی خارش کا باعث بن سکتی ہے۔
٭ انڈور الرجین:۔ لوگ زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں، جس سے دھول کے ذرات (Dust Mites)، پالتو جانوروں کی خشکی اور مولڈ سے سامنا بڑھ جاتا ہے۔
سردیوں کا موسم جہاں اپنے ساتھ خوشی اور تازگی لاتا ہے، وہاں یہ دمہ اور سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے منفرد چیلنج بھی پیش کرتا ہے۔ ٹھنڈی، خشک ہوا سے لے کر ’’انڈور ہیٹنگ‘‘ اور فلو کے موسم تک، کئی عوامل ہیں جو سانس لینے کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ تاہم، فعال اقدامات جیسے: ’’ہیومیڈیفائر‘‘ کے استعمال، باہر جاتے وقت اپنے چہرے کو ڈھانپنے اور ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے جیسے عوامل سے آپ اپنی حالت کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں اور سرد مہینوں میں علامات کو کم کرسکتے ہیں۔
سردی کے اس موسم میں اپنا خیال رکھیں۔ کیوں کے صحت مند پھیپڑے صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










