اہل سوات اور کھوکھلی تبدیلی

Blogger Hasan Chatan

قارئین! مَیں سعودی عرب میں گذشتہ دس سال سے محنت مزدوری کرتا چلا آ رہا ہوں۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ ہم دنیا سے کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ سعودی شہری نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، بل کہ بنیادی سہولیات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں پر مجھے کہیں کسی روڈ یا گلی پر تعمیر کرنے والے کے نام کا بورڈ نہیں ملا۔ صاف ستھرا ماحول، بغیر کسی کونسلر، ایم پی اے ، ایم این اے کی سفارش پر، تمام سہولیات سعودی شہریوں اور یہاں بسنے والے غیر ملکیوں کو گھر کی دہلیز پر مل رہی ہیں۔
آج مَیں سعودی عرب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اُس کا سوات میں تصور تک کیوں نہیں کر سکتا؟اس کا بہتر جواب سب کو معلوم ہے۔ تاہم ایک بات ہے کہ ادغام سے پہلے سوات کے حالات اچھے تھے۔ 50ء کی دہائی میں سکولوں، بنیادی صحت کے مراکز اور سڑکوں کی تعمیر جیسی باتیں عام روٹین تھیں۔ پھر ’’جمہوریت‘‘ آئی اور سوات مسائل کی دلدل میں دھنستا گیا، یہاں تک کہ آج اہلِ سوات نتھنوں تک مسائل میں دھنس چکے ہیں۔
آج علاج معالجہ کی صورتِ حال سب کو معلوم ہے۔ پینے کے صاف پانی تک کے لیے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ اگر مَیں یہ کہوں کہ سوات احتجاج کے لحاظ سے پورے صوبے میں ٹاپ پر ہے، تو یہ بے نہ ہوگا۔
بدقسمتی سے آج سے 13 سال قبل خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی ایک لہر اُٹھی۔ دوسروں کی طرح مَیں بھی مذکورہ لہر کی نذر ہوا، مگر جلد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سب خالی خولی نعرے اور محض دعوے ہیں۔ آج مسلسل 13 سال حکومت میں رہ کر حکم رانوں نے کیا کیا، بہ الفاظِ دیگر عوام نے کون سی تبدیلی دیکھی؟ ہاں، ہم نے ایک تبدیلی ضرور دیکھی کہ کل کے مڈل کلاسیے، آج سوات کے امیر ترین لوگ ہیں۔ حیف، آج تبدیلی کے دعوے دار بڑے بڑے بنگلوں اور حجروں کے مالک بن چکے ہیں۔ سادہ لوح عوام کو قرآنی آیات سنا کر باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں اور آپ کی زندگی میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ مسلسل 13 سال تک کسی قسم کی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔
غیر مند تو ایک طرف، باقاعدہ ہنر مند نوجوان اور اعلا تعلیم یافتہ جوان مایوس ہو کر ملک جوق در جوق چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ آج تک کسی بھی نمایندے کو ہم نے مذکورہ افرادی قوت کو اپنا ملک چھوڑ کر جانے پر افسوس کا اظہار کرتے نہیں دیکھا۔
تبدیلی والی سرکار کی 13 سالہ شان دار کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے صرف مینگورہ شہر کی مثال لے لیں۔ وہ خوابوں کا شہر کچھ اس طرح تباہ و برباد ہوچکا ہے، جیسے امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرا کر انھیں تباہ کیا تھا…… اس کے باوجو بڑے دھڑلے سے ’’خادمِ سوات‘‘ ترقی کے دعوے کر رہا ہے۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا……!
کیا ہم نے کبھی اپنے ’’خادمِ سوات‘‘ سے یہ سوال کیا ہے کہ سیلاب سے بچنے کے لیے 13 سال میں کون سے عملی اقدامات کیے ہیں؟ ’’بیوٹی فیکشن پراجیکٹ‘‘ کے نام پر ایک ارب روپے کہاں لگایا گیا؟ پورا ایک ارب روپیا زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ اور ’’بیوٹی فی کیشن‘‘ کے نام پر جو لیپا پوتی ہوئی، وہ بہ مشکل ایک کروڑ روپے ہی کی کی گئی ہوگی۔ عوام کو کبھی ’’ایم ٹی آئی ایکٹ‘‘، کبھی ٹیکس، کبھی ضلع کی تقسیم جیسی ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگایا جاتا ہے اور تبدیلی کے دعوے دار اقتدار کے نشے میں مست، گرم کمروں میں معصوم اذہان اور سادہ لوح عوام کی سادگی کا مذاق اڑاتے ہوئے تالیاں پیٹتے ہیں۔
قارئین! بہ خدا مجھے تو ذاتی طور پر کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی، تاہم اگر کوئی مجھ سے متفق نہیں، تو وہ ہمیں مدلل جواب دے کر مطمئن کرے۔ ہمیں وہ تبدیلی دکھائیجس میں محض 90 دن میں کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعوا، ہر تحصیل کی سطح پر کھیل کے میدان کا دعوا، میرٹ کی بالادستی کا دعوا اور اس قبیل کے دیگر دعوے شامل تھے…… پشتو کے مثل ’’دا گز او دا میدان!‘‘ کے مصداق۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے