نوجوانوں میں شیشہ نوشی کا بڑھتا رجحان

Blogger Doctor Noman Khan, Pulmonologist

ایک وقت تھا جب ہم گٹکا، پان، سگریٹ اور چھالیہ وغیرہ کو نشہ اور چیز سمجھتے تھے، لیکن اَب ایک ایسی چیز متعارف کرائی جاچکی ہے، جسے نوجوان نسل برا سمجھنے کے بہ جائے فیشن سمجھتی ہے، اور اس سے ناواقف ہے کہ اس میں کیا شامل ہے اور اس کے صحت پر کیا ممکنہ نقصانات ہیں۔ یقینا ہم یہاں شیشے کی بات کر رہے ہیں، جسے دورِ جدید کا نشہ بھی کہا جاتا ہے۔
شیشہ بار میں پھیلی مختلف خوش بوئیں، بار کا ماحول اور رنگین اور جدید طرز کے حقوں سے لطف اندوز ہوتے نوجوان، بہ ظاہر تو یہ سارا منظر بہت پُرکشش لگتا ہے، لیکن طبی ریسرچ کے مطابق حقہ نوشی سگریٹ پینے سے کہیں زیاہ مہلک ہے۔
نوجوانوں میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ شیشہ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں۔ انھیں شیشہ باروں میں بیٹھ کر ذائقے دار تمباکو پینا گلیمر سے بھرپور نظر آتا ہے، بل کہ آج کل تو نوجوان لڑکے لڑکیاں شیشہ نوشی کو سگریٹ نوشی کا متبادل سمجھتے ہوئے، اسے بے ضرر بھی گردانتے ہیں۔
شیشہ کیفے یا شیشہ بار ’’مش رومز‘‘ کی طرح پھلتی پھولتی جا رہی ہیں اور نوجوانوں کی وقت گزاری کا بہترین ذریعہ بن چکی ہیں، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہ صرف راہِ فرار اختیار کرنا ہے، بل کہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ بھی ہے۔
شیشہ نوشی انسانی صحت کے لیے کم و بیش اُتنی ہی نقصان دہ ہے، جتنا تمباکو نوشی ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک حقہ پیتے ہیں، تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ دس سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مختلف پھلوں کے ذائقوں اور دل موہ لینے والی خوش بوؤں سے بھر پور شیشے کا مزا وقتی، لیکن اس سے ہونے والے نقصانات بڑے اور طویل المیعاد ہوتے ہیں۔
آئیے، شیشہ نوشی کے چند نقصانات پر بات کرتے ہیں:
شیشہ نوشی میں بڑی مقدار میں زہریلے مادے، ’’کاربن مونو آکسائیڈ‘‘ اور دیگر کارسنو جنز موجود ہیں، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ انسانی دماغ پر نقصان دہ اثر ڈالتی ہے، جس سے وہ بے ہوش ہوسکتا ہے۔
جو لوگ شیشہ پیتے ہیں، اُن میں کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔ سگریٹ کے ساتھ، اگر کاربن مونو آکسائیڈ، ٹار اور بھاری دھاتوں کی اعلا سطح خطرناک اور جسم میں ہو، تو کینسر کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سگریٹ پینے والوں کو، بل کہ شیشہ پینے والوں کو بھی کینسر ہوتا ہے، جس میں منھ، ہونٹوں، زبان، گلے اور پھیپڑوں کا کینسر شامل ہے۔ اس میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔
شیشہ نوشی کا مسلسل استعمال بھوک کے قدرتی احساسات کو کم کرتا ہے، اس لیے متاثرہ شخص کو وزن میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ منفی اثرات میں نیند کی خرابی، انتہائی سرگرمی، جارحانہ پن اور چڑچڑاپن بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
اگر آپ شیشے کے انجکشن لگاتے ہیں اور آپ سوئیاں بانٹتے ہیں، تو آپ کو ایچ آئی وی (ایڈز) اور ہیپاٹائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیوں کہ دونوں انفیکشن آلودہ خون کے ساتھ رابطے سے پھیلتے ہیں۔
شیشہ پینے کی لت سے آپ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ کیوں کے شیشہ نوشی کرنے والا شخص اچھے برے کی تمیز سے عاری ہوجاتا ہے۔
شیشہ نوشی کی عادت کی وجہ سے مردانہ کم زوری جیسے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔
آیئے، ہم اس گندی عادت اور نشے کے خلاف جہاد کریں اور اپبے بچوں اور نوجوان نسل کو اس کی تباہ کاریوں سے آگاہ کریں اور بچائیں۔
’’شیشہ نوشی سے انکار، زندگی سے پیار!‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے