مانسہرہ کے ایدھی، وقاص خان

Blogger Sami Khan Torwali

خود انحصاری ،خدمت اور ریاستی ناکامیوں کے بیچ ایک روشن مثال، وقاص خان کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ اُن گنے چنے لوگوں میں سے ہیں، جنھیں قریب سے جانا جائے، تو انسان واقعی حیران رہ جاتا ہے کہ محدود وسائل، بغیر کسی حکومتی عہدے اور بغیر کسی بڑے ڈونر کے بھی اگر نیت صاف، وِژن واضح اور منصوبہ بندی مضبوط ہو، تو معاشرے میں کتنا بڑا اور دیرپا کام کیا جا سکتا ہے۔
مانسہرہ میں قائم ’’ایثار ہیلتھ سنٹر‘‘ محض ایک فری کلینک نہیں، بل کہ ایک مکمل فکری ماڈل ہے، جہاں علاج کو خیرات نہیں، بل کہ انسانی حق سمجھا جاتا ہے۔ یہاں بلا تفریق ہر فرد کا مکمل چیک اَپ کیا جاتا ہے۔ معمولی بیماریوں کی ادویہ بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں، کسی سفارش کی ضرورت ہے نہ کسی شناخت کی۔ غریب بھی اُسی عزت کے ساتھ علاج کرواتا ہے، جس کے ساتھ کوئی صاحبِ حیثیت شخص۔
مذکورہ ہیلتھ سنٹر کے ساتھ وقاص خان نے ایک ’’ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘‘ بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں غریب اور نادار بچیاں بغیر کسی فیس کے مختلف ہنر سیکھتی ہیں، تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بہ جائے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ یہ وہ فکر ہے، جو ہمارے معاشرے میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے…… جہاں اکثر فلاحی کام وقتی امداد اور خیرات تک محدود رہتے ہیں۔
جون کے مہینے میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا، تو وقاص خان کی ایک بات نے فکر کے کئی در وا کر دیے کہ مَیں نے جان بوجھ کر باہر شاپس بنوائی ہیں، تاکہ ان دکانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ’’ایثار ہیلتھ سنٹر‘‘ اور ’’ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے اخراجات پورے کرے، یعنی یہ ادارے کسی فرد، چندے یا عطیات کے محتاج نہ رہیں، بل کہ ایک ایسا خود کفیل نظام بن جائیں، جو میرے بعد بھی چلتا رہے۔
وقاص خان کہتے ہیں کہ خدمت یہ نہیں کہ لوگ ہمیشہ آپ کے محتاج رہیں، بل کہ اصل خدمت یہ ہے کہ ایسا نظام بنا دیا جائے، جو قیامت تک بغیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے عوام کی خدمت کرتا رہے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جو وقاص خان کو عام فلاحی کارکنوں سے ممتاز کرتا ہے اور یہی وہ ماڈل ہے، جس پر اگر ہماری ریاست سنجیدگی سے غور کرے، تو ملک کے آدھے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اداروں کی خود مختاری کا مطلب ہمیشہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا لیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں فیسیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ علاج مہنگا کر دیا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ادارہ خود کفیل ہوگیا ہے۔
حالیہ برسوں میں ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ نے سرکاری اسپتالوں کی حالتِ زار کو مزید آشکار کر دیا ہے، جہاں خود مختاری کے نام پر غریب مریض علاج سے محروم ہو رہا ہے اور صحت جیسا بنیادی حق ایک کمرشل سروس بنتا جا رہا ہے۔ اگر وقاص خان جیسے لوگ حکومتی عہدوں پر ہوتے، تو شاید اَب تک ہمارے کئی ادارے حقیقی معنوں میں خود کفیل ہوچکے ہوتے۔ ایسے ادارے جو اپنی جائیدادوں، اپنے اثاثوں اور اپنی منصوبہ بندی سے آمدنی پیدا کرتے اور عوام کو ریلیف دیتے، نہ کہ اُن سے مزید وصولی کرتے۔
وقاص خان کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بل کہ نیت، وِژن اور ترجیحات کی خرابی ہے۔ ایک عام شہری اگر یہ سوچ سکتا ہے کہ صحت اور ہنر کے ادارے خود انحصار ہونے چاہییں، تو پھر اربوں روپے کے بجٹ رکھنے والی ریاست کیوں نہیں سوچ سکتی؟
مانسہرہ سے اُٹھنے والی یہ خاموش مگر توانا آواز دراصل پورے ملک کے لیے ایک سوال ہے کہ کیا ہم واقعی فلاحی ریاست بننا چاہتے ہیں یا پھر خود مختاری کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالنے کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا……؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے