ناشکری تا زوال: یوسف زئی قوم اور سوات کا المیہ

Blogger Tauseef Ahmad Khan, Swat

زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر اس سوال پر مَیں بہت غور کرتا رہتا تھا کہ آخر قدرت اُن لوگوں پر ہی کیوں زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے، جو ناشکرے ہوتے ہیں؟ ہمیشہ نعمتیں اُس کے حصے میں کیوں آتی ہیں، جو نہ اُن کی قدر جانتا ہے، نہ اہمیت کو محسوس ہی کرتا ہے؟ وہ لوگ جنھیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ قدرت نے اُنھیں کن نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور اُن کے اردگرد کس قدر وسیع دائرے میں نعمتیں بکھری پڑی ہیں؟ لیکن وقت کے ساتھ، جب مَیں نے افراد کی زندگی اور قوموں کے عروج و زوال کے حالات و واقعات کو گہرائی سے پرکھا، تو ایک حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی، وہ یہ کہ قدرت کبھی ناشکرے لوگوں پر مہربان نہیں ہوتی، اور نہ ناشکری کی بنیاد پر کسی کو کوئی نعمت عطا ہی کی جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم یا فرد کو کوئی نعمت نصیب ہوتی ہے، تو وہ اُن پاکیزہ اور خاص اوصاف کی بہ دولت ہی ہوتی ہے، جو اُس میں ہرلمحہ موجود ہوتے ہیں۔ غیرت، حمیت، عدل و انصاف، علم و دانش، نظم و ضبط…… قدرت ہمیشہ ایسے ہی افراد اور قوموں کو اُن کے اوصاف کی بنا پر چنتی ہے…… مگر جب کسی قوم یا فرد میں سستی، بے حسی اور ناشکری جڑ پکڑ لیتی ہے، تو قدرت سب سے پہلے اُس سے وہ نعمتیں واپس چھین لیتی ہے اور ایک دردناک داستان کے ساتھ اُس (قوم یا فرد) کو رفتہ رفتہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔
اگر کسی قوم کو اپنی تباہی اور بربادی کے آثار دیکھنے ہوں، تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنے اردگرد موجود اُن نعمتوں پر غور کرے، جو کبھی اُسے اُس وقت عطا کی گئی تھیں، جب قدرت اُس پر سب سے زیادہ مہربان تھی۔ قدرت ہمیشہ کسی قوم کو سمجھانے اور سنبھالنے کے لیے نصیحت کے طور پر خاص بندے بھیجتی ہے، تاکہ وہ سنبھل جائے، سدھر جائے اور ہوش کے ناخن لے…… لیکن جب مسلسل نصیحتوں کے باوجود اصلاح نہ ہو، تو پھر قدرت کا غضب نازل ہوتا ہے…… اور پھر آہستہ آہستہ وہ قوم تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتی ہے اور صرف عبرت کی ایک داستان بن کر رہ جاتی ہے۔ کیوں کہ جب قومیں نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں، جب ذاتی مفاد اجتماعی خیر اور بھلائی کے کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے اور جب شکرگزاری کی جگہ ناشکری جنم لے لیتی ہے، تو پھر قدرت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ نعمتیں رفتہ رفتہ چھن جاتی ہیں اور جو کچھ کبھی عطا کیا گیا ہوتا ہے، وہ محرومی میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح امن، بدامنی میں بدل جاتا ہے، عدل و انصاف کا کام طاقت کے تابع ہو جاتا ہے اور یوں وہ قوم جو کبھی اپنے بازو کی طاقت پر تاریخ رقم کرتی تھی، خود تاریخ کی مثال بن کر رہ جاتی ہے…… اور تاریخ زندہ قوموں کو صرف مثال بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔
آج اگر کسی قوم کو اپنی تباہی کے آثار تلاش کرنے ہوں، تو اُسے اپنے ذات سے باہر نہیں سوچنا چاہیے، بل کہ اُسے اپنے اندر جھانکنا چاہیے، اُسے اُن حاصل نعمتوں کو دیکھنا چاہیے، جو کبھی اُسے ودیعت کی گئی تھیں، اور ساتھ یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا وہ آج بھی اُن اوصاف کی امین ہے، جن کی بنیاد پر وہ نعمتیں ملی تھیں؟
قارئین! تاریخ ایک بے رحم مگر منصف اُستاد کی مانند ہے، جو نہ کچھ بھولتی ہے اور نہ کچھ معاف ہی کرتی ہے۔ اس نکتے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، ایک طرف یوسف زئی قوم پر نظر ڈالیں اور دوسری طرف جنت نظیر وادیِ سوات کی موجودہ حالت زار کو دیکھیں۔ یوسف زئی قوم، جو صدیوں سے اس خطے میں آباد ہے اور سوات میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئی، اس نے اپنی صفات (غیرت، حمیت، مہمان نوازی، عدل و انصاف، علم و دانش اور اجتماعی نظم) کی بنیاد پر ایک بلند مقام حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس قوم پر حکم رانی کرنے والے بھی انھی صفات کے حامل لوگ ہوا کرتے تھے۔
یوسف زئی قبائل کی سب سے نمایاں صفت غیرت اور حمیت تھی۔ یہ غیرت، محض جذباتی ردِعمل کی بنیاد پہ نہیں، بل کہ اُصولوں پہ ثابت قدمی، عزت اور معاشرتی اقدار کی پاس داری اور اجتماعی وقار کا شعور تھی۔ قبیلے کی عزت فرد کی ذات سے بالاتر سمجھی جاتی تھی اور ہر فرد خود کو اس عزت کا امین سمجھتا تھا۔ عدل و انصاف کا عمل یوسف زئی سماج کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ جرگہ نظام کے تحت فیصلے اجتماعی دانش سے کیے جاتے، جہاں سردار بھی قانون کے تابع ہوتا تھا اور کم زور بھی اپنی بات کہنے کا حق رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تنازعات نسلوں تک نہیں کھنچتے تھے، بل کہ بروقت حل ہو جایا کرتے تھے۔
اس طرح مہمان نوازی یوسف زئی روایت کا لازمی جز تھی۔ مسافر ہو یا دشمن، جب تک وہ مہمان ہوتا، اُس کی جان، عزت اور کھانے پینے کا میزبان ہی ذمے دار سمجھا جاتا تھا ۔ اجتماعی نظم و ضبط اور اطاعتِ قانون یوسف زئی قبائل کی طاقت تھی۔ ہر فرد جرگے کے فیصلے کو حرفِ آخر سمجھتا اور ذاتی خواہش کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا عزت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ یہی روایات تھیں جس نے یوسف زئی قوم کو طویل عرصے تک ایک عظیم قوم بنائے رکھا۔
علم و فہم اور مشاورت کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قیادت ہمیشہ تجربہ کار اور صاحبِ رائے افراد کے ہاتھ میں رہی۔ سادگی، قناعت اور خودداری بھی یوسف زئی قوم کے مزاج کا حصہ تھیں۔ حکم رانوں میں اولین صفت سادگی ہوتی تھی۔ طاقت اور اختیار کے باوجود نمود و نمایش سے گریز کیا جاتا تھا اور خود کو قانون سے بالا سمجھنے کو ذلت تصور کیا جاتا تھا۔
سوات کی تاریخ ایسے ادوار سے گزری جب نظم و ضبط، عدل و انصاف اور علم و دانش کو اولین فوقیت حاصل تھی اور وہ دور اس خطے کا سنہری باب سمجھا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ خطہ بدھ مت کی تہذیب کا اہم مرکز رہا، جہاں روحانیت کے ساتھ ساتھ علم، تہذیب، فنِ تعمیر اور مذہبی ہم آہنگی کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ بعد ازاں، جب سولھویں صدی میں یوسف زئی قبائل فاتح کی حیثیت سے اس سرزمین میں داخل ہوئے، تو یہ محض کسی قوم پہ عسکری غلبہ نہ تھا، بل کہ اس خطے میں ایک منظم، بااُصول اور ذمے دار اجتماعی شعور کی عکاسی بھی کرتا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق یوسف زئی قبائل نے سوات میں جرگہ سسٹم، اجتماعی فیصلہ سازی، زمین کی منصفانہ تقسیم (ویش نظام) اور قبائلی نظم و ضبط کو رائج کیا۔ یہی وہ اوصاف تھے، جن کی بنیاد پر اُنھوں نے نہ صرف اس خطے پر حکم رانی قائم کی، بل کلہ ایک طویل عرصے تک سماجی توازن کو برقرار رکھا۔ اسی نظم اور اجتماعی شعور کی بہ دولت سوات میں ایک ایسی ریاست کا قیام ہوا، جہاں طاقت قانون کے تابع رہی اور فرد قبیلے کے سامنے جواب دِہ رہا۔
1915ء میں ریاستِ سوات کے قیام کے بعد، بالخصوص والیِ سوات کے عہد میں، یہاں کا ریاستی نظامِ حکومت اپنی بہترین ، جدید اور منظم شکل میں نمایاں ہوا۔ والیِ سوات کے دور میں عدل و انصاف، نظم و ضبط، فوری انصاف اور تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہی وہ دور تھا جب سوات کو امن، قانون اور انتظامی استحکام کے حوالے سے پورے خطے میں ایک مثالی ریاست سمجھا جاتا تھا۔ سوات کی تاریخ گواہ ہے کہ جب یہاں کے حکم ران اور باشندے اعلا اوصاف کے مالک تھے، تو یہی خطہ امن اور جدید تہذیب وتمدن اور وقار کی علامت بنا، لیکن جب یہ اوصاف معدوم ہوئے، تو زوال نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بدقسمتی سے جنت نظیر سوات، جو کبھی حسن، امن اور فطری توازن کی علامت تھا، آج ایک گہری بے چینی اور خاموش تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ وہ وادی جہاں کبھی امن کا گہوارہ سمجھی جاتی، آج سماعت خراش شور، بدامنی، نفرت، انتشار اور اجتماعی بے حسی کا شکار ہے۔
وہ خطہ جسے قدرت نے بے مثال حسن، وسیع آبی وسائل اور سرسبز و شاداب پہاڑوں سے نوازا تھا، آج انسانی غفلت اور اجتماعی بیحسی کی نذر ہوچکا ہے۔ کبھی سوات میں ریاستی نظم و ضبط اور امن اتنا مضبوط تھا کہ خوف کا تصور بھی اجنبی لگتا تھا اور قدرتی مظاہرات اتنی پاکیزہ تھے کہ یہاں کی نہریں آئینہ معلوم ہوتی تھیں۔ آج نہ وہ امن باقی رہا،نہ وہ سکون اور نہ وہ احترام جو انسان اور قدرت کے درمیان کبھی قائم تھا۔
انسان اور قدرت کے درمیان قائم توازن بھی اب قصۂ پارینہ ہوچکا ہے۔ قدرت کے مناظر، جو کبھی انسان کے دل میں انکسار اور شکر گزاری کا احساس جگاتے تھے، آج بے پروائی اور سنگ دلی کی نذر ہوکر پامال ہو رہے ہیں۔ جگہ جگہ پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں اور بے ہنگم تعمیرات جاری ہیں، جنگلات جڑ سے اکھاڑے جا رہے ہیں اور وہ صاف نہریں جو کبھی وادیٔ سوات کو زندگی بخشتی تھیں، آج شہر کی گندگی، سیوریج اور اجتماعی بے حسی و بے پروائی کا بوجھ اٹھا کر بہہ رہی ہیں۔ ندی نالے، جو کبھی آبِ حیات کہلاتے تھے، اب پورے شہر کا فضلہ اور آلودگی اس میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ محض ماحولیاتی تباہی نہیں، بل کہ ایک اجتماعی اخلاقی زوال کی بھی علامت ہے۔
یہ بربادی کسی بیرونی دشمن کی یلغار کا نتیجہ نہیں، بل کہ ہماری اپنی ہی لکھی ہوئی داستان ہے۔ جب قانون کم زور ہوا، جب نظام بکھر گیا اور شکرگزاری کی جگہ ناشکری نے لے لی، تو وہ نعمتیں بھی جو قدرت نے ہمیں بخشی تھیں، واپس لی جانے لگیں۔ جنت نظیر وادیِ سوات آج خاموش نہیں، بلکہ ہم سے سوال کر رہی ہے کہ کیا یہی وہ وراثت ہے، جو ہمیں اپنے اسلاف سے ملی تھی؟ کیا یہی وہ پاک سرزمین ہے، جسے ہمیں محبت، امن اور غیرت کے ساتھ سنبھال کر رکھنا واجب تھا؟
تاریخ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ قومیں صرف تلوار کی کاٹ سے نہیں ٹوٹتیں، بل کہ اُن کا زوال اُس وقت شروع ہوتا ہے، جب امن، بے سکونی میں بدل جائے ، غیرت و حمیت کی جگہ سُستی اور کاہلی جنم لے اور انسان، قدرت کو امانت اور قدرت کا احسان ماننے کی بہ جائے، اسے محض ذاتی مفاد کی شے سمجھنے لگے۔
اگر آج بھی اپنے حالات بدلنے کا کوئی راستہ بچا ہے، تو وہ ہمارے اندر ہے۔ قانون کی بہ حالی، ایک مثالی نظم و ضبط کا قیام اور قدرت کے ساتھ وہی احترام کا رشتہ جس کی بنیاد پر سوات کبھی جنت کا ٹکڑا کہلاتا تھا، یہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ کیوں کہ قدرت خاموش ضرور ہے، مگر بے حس نہیں…… اور تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنی نعمتوں کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ آخرِکار ان نعمتوں سے محروم کردی جاتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے