کوٹہ گئی (Doll House)

Blogger Zahir Shah Nigar, England

’’کوٹہ گئی‘‘ کی اِفادیت پر بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ آخر ہے کیا؟
ہمارے پشتون معاشرے میں بچیاں اپنے بچپن میں گھر کے کسی کونے میں دو تین فٹ کا ایک چھوٹا سا گھر بنالیتی ہیں۔ اس کی دیواریں زمین پر کھینچی گئی لکیروں یا چھوٹے چھوٹے کنکروں سے بنائی جاتی ہیں۔ اسے ہم پشتون علاقوں میں ’’کوٹہ گئی‘‘ یعنی چھوٹا سا گھر کہتے ہیں، جب کہ انگریزی میں اسے "Doll House” کہا جاتا ہے۔
برسبیلِ تذکرہ، میرے ایک نہایت محترم دوست کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ مَیں نے تعزیت اور دعا کے لیے فون کیا۔ پھر میری بیوی نے بھی دعا کے لیے میرے دوست کی بڑی بہو کو فون کیا۔ چوں کہ فون اسپیکر پر تھا، اس لیے میں بھی بات سن رہا تھا۔ رسمی گفت گو کے بعد اُس بہو نے نہایت عاجزانہ انداز میں کہا:’’آنٹی، دعا کوئی چی دا کور را ٹینگ کڑمہ!‘‘ یعنی آنٹی دعا کریں کہ مَیں اس بڑے گھرانے کو سنبھال سکوں۔
اس ایک جملے نے مجھے عجیب سوچ میں مبتلا کر دیا۔ آج کے دور میں 22، 23 سالہ لڑکی سے اتنی سنجیدگی اور بصیرت کی بات کی توقع کم ہی کی جاتی ہے۔ یہ محض الفاظ نہ تھے، بل کہ اپنے خاندان کے لیے خلوص، ذمے داری اور قربانی کا عزم تھا۔ ان الفاظ میں ایک عمر رسیدہ اور تجربہ کار خاتون کی پختہ سوچ جھلک رہی تھی۔
جب مَیں نے اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا، تو معلوم ہوا کہ اُس نے صرف چند جماعتیں اسکول میں پڑھی ہیں اور کسی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم بھی حاصل نہیں کی۔ قرآن کی تلاوت اُس نے اپنے ماں باپ سے سیکھی تھی۔ یہ بات میرے ذہن میں مسلسل گردش کرتی رہی۔ بعد میں گاؤں کی ایک سنجیدہ اور عمر رسیدہ خاتون سے گفت گو کا موقع ملا۔ مَیں نے یہ سارا واقعہ اُنھیں سنایا اور پوچھا کہ آخر اس لڑکی نے یہ تربیت کہاں سے حاصل کی؟ وہ کچھ لمحے خاموش رہیں، پھر بڑے اعتماد سے بولیں: ’’مجھے اُس کی تعلیم کا علم نہیں، لیکن مَیں اپنے تجربے کی بنیاد پر کَہ سکتی ہوں کہ اُس نے یہ تربیت ’کوٹہ گئی‘ سے حاصل کی ہے۔ یہ الفاظ وہی عورتیں بولتی ہیں، جو اسکول یا مدرسے نہیں گئیں، مگر بچپن میں کوٹہ گئی میں وقت گزارا ہو۔‘‘
خاتون نے یہ بھی بتایا کہ کوٹہ گئی ایک غیر رسمی درس گاہ ہے، مگر اس کی تربیت بڑی بڑی یونی ورسٹیوں سے کم نہیں۔ 40، 50 سال پہلے تقریباً تمام بچیاں اس ادارے سے گزرتی تھیں۔ گھر کے ایک کونے میں لکیریں کھینچ کر ایک چھوٹا سا گھر بنایا جاتا، کنکریوں سے دیواریں بنائی جاتیں، اندر تاخچے اور کمرے ترتیب دیے جاتے ، ٹوٹے پھوٹے برتن رکھے جاتے اور یوں گھر سنبھالنے کا عملی ہنر سیکھا جاتا۔ وہیں سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ ہوتی، مہمان نوازی کی مشق ہوتی اور گڑیاؤں کی شادیاں رچائی جاتیں۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ گڈاشادی میں موجود نہیں ہوتا تھا، بل کہ اس کی موجودگی تصوراتی ہوتی تھی، تاکہ بچیوں میں حیا اور شرم کا جذبہ برقرار رہے۔
اُس خاتون نے گفت گو سمیٹتے ہوئے کہا کہ تین چار سال کوٹہ گئی میں گزارنے کے بعد بچیوں کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو جاتا تھا کہ اس گھر کی ساری ذمے داری انھی کے کاندھوں پر ہے ۔ یوں اُن میں آہستہ آہستہ احساسِ ذمے داری، مہمان نوازی، حیا، احترام اور سماجی و مذہبی رسومات کی سمجھ پیدا ہوتی تھی۔ یہی اُن کی غیر رسمی درس گاہ تھی۔
قارئین! اس کی اہمیت کا اندازہ مجھے انگلینڈ میں بھی ہوا۔ جب میں "Lidl” اور "IKEA” کے لیے پمفلٹ تقسیم کرتا تھا، تو جن گھروں میں بچیاں ہوتیں، وہاں اکثر "Doll House” موجود ہوتا۔ شکل مختلف ہوتی، مگر مقصد وہی ہوتا جو ہمارے کوٹہ گئی کا ہے۔
ایک دن اپنے ہم سایے ’’ڈیو‘‘ (Dave) کے گھر گیا، تو اُس کی نواسی کے "Doll House” پر نظر پڑی۔ اُس نے بتایا کہ اس کے ذریعے بچوں میں تخلیقی صلاحیت، جذباتی و سماجی نشو و نما، زبان و بیاں کی مہارت، روزمرہ زندگی کی سمجھ اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
ان تمام مشاہدات کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر قوم میں ’’کوٹہ گئی‘‘ کا کوئی نہ کوئی تصور ضرور موجود ہے۔ یہ بچیوں کی شخصیت سازی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہمارے پشتون معاشرے میں حجرہ، جرگہ، گودر، چینہ، حشر اور کوٹہ گئی جیسے غیر رسمی ادارے ہیں۔ ان میں کوٹہ گئی کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہ بچیوں کو مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بچیوں کی تربیت اور روشن مستقبل کے لیے کوٹہ گئی کی حوصلہ افزائی کریں، تاکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، نرس، سائنس دان یا کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی سماجی اقدار کو بھی سمجھیں اور اپنائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے