زمانے کی رفتار ہمیشہ سے برق رفتار رہی ہے، لیکن عصرِ حاضر میں تبدیلی کے اس پہیے نے وہ ہمہ گیر صورت اختیار کر لی ہے، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
مگر آج کے حالات دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے کہ صرف تغیر ہی نہیں، بل کہ ایک مکمل انقلاب نے دستک دے دی ہے۔
ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں، جہاں پرانی روایات، فرسودہ نظام اور روایتی طرزِ زندگی سب کچھ قصۂ پارینہ بننے کو ہے۔ اس تبدیلی کے طوفان کا نام ‘مصنوعی ذہانت‘‘(Artificial Intelligence) ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب دنیا نے واقعی بدل جانے کی قسم کھائی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا یہ زمانہ محض ایک تکنیکی ترقی نہیں، بل کہ ایک نئے انسانی عہد کا آغاز ہے۔ کل تک جن کاموں کے لیے انسانی عقل اور جسمانی مشقت ناگزیر سمجھی جاتی تھی، آج وہ کام چند لمحوں میں الگورتھم کی زد پر ہیں۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں ہمیں اپنا مستقبل صاف دکھائی دے رہا ہے، مگر اس مستقبل کی تصویر جتنی تاب ناک ہے، اتنی ہی فکر انگیز بھی ہے۔ وہ تمام پیشے اور ملازمتیں، جنھیں ہم برسوں سے اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھے، اَب خطرے میں ہیں۔ روایتی ملازمتوں کا سورج اب غروب ہونے کو ہے اور اس اندھیرے میں وہی چراغ روشن رہے گا، جو جدت کی لو سے منور ہوگا۔
اس انقلاب کے اثرات جہاں دفتروں اور تعلیمی اداروں پر پڑ رہے ہیں، وہاں ہماری معیشت کے دو بڑے ستون، زراعت اور صنعت، بھی ایک بڑی جراحی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ زراعت، جسے ہم روایتی طور پر ہل اور بیل کا شعبہ سمجھتے تھے، اب ’’سمارٹ ایگریکلچر‘‘ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اب مصنوعی ذہانت فصلوں کی بیماریوں کی پیشگی اطلاع دیتی ہے، مٹی کی نمی کا درست تعین کرتی ہے اور ڈرون کے ذریعے کھاد اور اسپرے کے استعمال کو اس قدر درست بناتی ہے کہ ضیاع کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ وہ کسان جو اس ٹیکنالوجی کو نہیں اپنائے گا، وہ عالمی منڈی کے مقابلے سے باہر ہو جائے گا۔
اسی طرح صنعتی شعبے میں ’’انڈسٹری 4.0‘‘کا ظہور ہوچکا ہے۔ کارخانوں میں اب صرف مشینیں نہیں، بل کہ ’’ذہین مشینیں‘‘ کام کر رہی ہیں۔ خودکار روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز نہ صرف پیداوار کی رفتار کو کئی گنا بڑھا چکے ہیں، بل کہ انسانی غلطی کے امکان کو بھی کم کر دیا ہے۔
لیکن اس ترقی کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ وہ مزدور یا ہنر مند جو صرف مینوئل کام جانتے تھے، اُن کے لیے روزگار کے مواقع تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ اب صنعت کو ’’ہاتھوں‘‘ کی نہیں، بل کہ ’’ذہین ہاتھوں‘‘ کی ضرورت ہے، جو ان مشینوں کو کنٹرول کرسکیں۔
اس صورتِ حال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والے کل کا فاتح کون ہوگا؟ مستقبلِ قریب کا تاج اُسی کے سر سجے گا، جو وقت کی نبض پر ہاتھ رکھے گا اور خود کو مسلسل ’’اَپ ڈیٹ‘‘ رکھے گا۔ اَب ڈگریوں کی وہ اہمیت نہیں رہی، جو ہوا کرتی تھی۔ اب مقابلہ ’’سکل‘‘ یعنی ہنر کا ہے۔ وہ شخص جو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور نئی مہارتیں سیکھنے کی تڑپ رکھتا ہے، وہی اس طوفان میں اپنی کشتی پار لگا سکے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیکھنے کا عمل اَب کسی تعلیمی ادارے کی سند تک محدود نہیں رہا، بل کہ یہ تادمِ آخر جاری رہنے والا ایک سفر بن چکا ہے۔
ہمارے لیے سب سے بڑی فکر کا محور ہمارے طلبہ ہونے چاہییں، جو اس قوم کا اصل سرمایہ اور مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے اَب بھی انھیں وہی دہائیوں پرانا فرسودہ نصاب پڑھایا، تو ہم اُن کے ساتھ سراسر ناانصافی کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نصابِ تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو نئے علوم، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ اور تخلیقی سوچ (Creative Thinking) جیسے مضامین سے روشناس کرانا ہوگا۔ ہمارا تعلیمی نظام صرف ’’نوکر پیشہ‘‘افراد پیدا کرنے کے بہ جائے ’’مسئلہ حل کرنے والے ذہن‘‘ تیار کرے۔ اگر نصاب کو دورِ جدید کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا گیا، تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے، جو ڈگریاں ہاتھ میں لیے اس جدید دنیا میں اجنبی بن کر رہ جائے گی۔
بہ حیثیتِ قوم ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جدید چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف انفرادی کوششیں کافی نہیں۔ ہمیں ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا، جہاں ٹیکنالوجی اور جدت کو قومی ترجیحات میں اولیت حاصل ہو۔ یہ وقت خوابِ غفلت میں پڑے رہنے کا نہیں، بل کہ کمر بستہ ہو کر اس نئے عہد کا استقبال کرنے کا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، طریقے بدل رہے ہیں اور زندگی گزارنے کے قرینے بدل رہے ہیں۔ اگر ہم نے خود کو نہ بدلا، تو تاریخ کے کسی گرد آلود گوشے میں ہمارا نام و نشاں تک نہ ملے گا۔
ہمیں آج ہی خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس بدلتی ہوئی دنیا کے تماشائی نہیں، بل کہ اس کے اہم کردار بنیں گے۔ اپنی مہارتوں کو نکھارنا، جدید علوم سے آراستہ ہونا اور اپنی نسلِ نو کو مستقبل کے ہتھیاروں سے لیس کرنا اب محض انتخاب نہیں، بل کہ بقا کی شرط ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










