نئے سال کے پہلے ہی ہفتے امریکہ نے ایک آزاد ملک، وینزویلا، پر حملہ کرکے اپنی ترجیحات ایک بار پھر واضح کر دی ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس اقدام کا پیغام یہی ہے کہ امریکہ آج بھی طاقت پر یقین رکھتا ہے، اور جہاں، جب اور جس کے خلاف چاہے، طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرتا۔ یعنی یہ جو بات مسلسل کہی جا رہی تھی کہ امریکہ کا زوال شروع ہوچکا ہے اور چین اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت بن چکا ہے، وہ بات فی الحال کچھ وقت لیتی دکھائی دیتی ہے۔
ابھی کل پرسوں ایک معروف چینی اُمور کے ماہر کو سن رہا تھا، جس کا کہنا تھا کہ چین عالمی معاملات میں بہ طورِ حقیقی عالمی طاقت کس طرح اور کب موثر کردار ادا کر پائے گا۔ اس کا آغاز ممکنہ طور پر 2030ء کے بعد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم آیندہ پانچ برس تک امریکہ ہی واحد بدمعاش عالمی طاقت کے طور پر موجود رہے گا۔
ویسے بھی بدمعاشی مفت میں حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ شاید جب باقی دنیا اس زاویے سے سوچنے سے غافل تھی، امریکہ نے خود کو منوانے کے لیے دن رات کام کیا تھا۔ ورنہ کبھی روس بھی عالمی طاقت تھا، مگر پھر رفتہ رفتہ اس حیثیت سے محروم ہوگیا۔ اب طویل عرصے بعد وہ ایک مرتبہ پھر خود کو ’’عظیم روس‘‘ بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا نظر آتا ہے، جس کا آغاز پہلے کریمیا کے الحاق اور اب یوکرین کو ہڑپنے کی کوششوں سے ہوچکا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ طاقت کے بغیر آج کی دنیا میں سکون سے رہنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ امریکہ نے دن دہاڑے ایک آزاد ملک کے منتخب صدر کو اُن کی اہلیہ سمیت یرغمال بنایا اور پوری دنیا حیران و پریشان رہ گئی۔ اس منظر نامے میں اقوامِ متحدہ کہاں ہے، وہ سلامتی کونسل کہاں گئی؟ اس طرح عالمی عدالتِ انصاف، دیگر عالمی ادارے اور دنیا بھر کے ممالک انگشتِ بہ دنداں رہ گئے۔
چند عالمی اداروں نے رسمی مذمت کی، چین نے بھی ایک محتاط مذمتی بیان دیا اور ایران نے اظہارِ افسوس اور مذمت کی۔ حالاں کہ خود ایران کے دن بھی اچھے نہیں گزر رہے۔ باقی ممالک کہاں ہیں…… کیا سب ستو پی کر سوگئے ہیں؟ پورا یورپ، تمام عرب ممالک اور دیگر ریاستیں سب کی خاموشی حیران کن ضرور ہے، مگر ناقابلِ فہم نہیں۔ کیوں کہ دنیا طاقت کو مانتی ہے اور سمجھتی بھی ہے۔
چند دن قبل کی خبر یاد ہوگی کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی خالی رہایش گاہ پر میزائل داغنے کا دعوا کیا تھا۔ یہ خبر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن گئی تھی۔ امریکی صدر نے اسے برا عمل قرار دیا تھا۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک نے بھی شدید مذمت کی تھی، حالاں کہ یوکرین نے کھل کر اس کارروائی کی تردید کی تھی اور ملوث ہونے سے انکار کیا تھا…… لیکن چوں کہ روس ایک طاقت ور ملک ہے، اس لیے باقی دنیا نے اظہارِ ہم دردی کے لیے حاضری لگانا ضروری سمجھا۔
یہاں امریکی طرزِ عمل میں شدید دوغلا پن واضح نظر آتا ہے۔ جس امریکہ کو روسی صدر کی خالی رہایش گاہ پر میزائل داغنا برا عمل محسوس ہوا، اُسی امریکہ نے ایک آزاد پڑوسی ملک میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں اس کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کیا اور اس اقدام کا جشن بھی منایا۔ گویا دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ اُصول، قانون اور ضابطہ وہی ہے، جسے امریکہ خود قانون، اُصول اور ضابطہ تسلیم کرے۔
وینزویلا پر امریکی شرم ناک حملے نے یہ حقیقت بھی عیاں کر دی کہ تیل کے وسیع ذخائر اس وقت تک بے معنی ہیں، جب تک انھیں مقامی عوام کی فلاح و بہبود اور سائنسی و تکنیکی ترقی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر وینزویلا کے پاس ہیں، مگر وہاں معاشی حالت ابتر، سیاسی آزادی ناپید، سماجی بندوبست ناکام، مہنگائی بے قابو اور بے روزگاری عام ہے۔ نتیجتاً فوج ناکارہ، ادارے کم زور…… اور یہی کم زوریاں امریکی حکومت کے لیے جواز بنیں کہ وہ دن دہاڑے فوج اُتار کر صدر کو یرغمال بنالے۔ تیل کے ذخائر اور ان سے حاصل ہونے والا منافع ملک و قوم کے کسی کام نہ آ سکا۔
تیل کے ذخائر کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر سعودی عرب آتا ہے، جہاں شاہی خاندان کی عیش و عشرت اور عوام کے لیے چکاچوند کا انتظام تو موجود ہے، مگر دفاع جیسے اہم شعبے میں آج بھی سعودی عرب، امریکہ اور پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ اب یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے والا ملک کس حد تک محفوظ، خوش حال یا ترقی یافتہ کہلاسکتا ہے۔
تیل کی بات چل نکلی ہے، تو تیسرے نمبر پر ایران کا ذکر ضروری ہے، جس کے پاس بھی وسیع ذخائر موجود ہیں، مگر ایران کی موجودہ حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آج ایک امریکی ڈالر کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے اور ایرانی عوام مہنگائی کے ہاتھوں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ یہاں تک یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر عسکری، معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام حاصل نہ کیا جائے، تو محض تیل یا سونے کے ذخائر قوموں کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔
اسی تناظر میں بلوچستان کے ریکوڈک (سونے کی کان) اور چمالنگ (کوئلے کی کان) جیسے منصوبوں پر خوش ہونے والوں کو ایک لمحے کے لیے یہ سوچنا چاہیے کہ ان منصوبوں سے بلوچستان کی زمینی حقیقت میں کتنا فرق پڑا…… اور عوامی مایوسی میں کمی کے بہ جائے اضافہ کیوں ہو رہا ہے ؟
بات امریکہ سے ہوتے ہوئے بلوچستان تک آ پہنچی۔ مَیں دراصل عرض کر رہا تھا کہ امریکہ کا یہ اقدام افسوس ناک ضرور ہے، مگر حیران کن اس لیے نہیں کہ تاریخ ہمیشہ فاتحین کو سراہتی آئی ہے۔ فتح درست تھی یا غلط……! اس پر صرف چند مورخین بحث کرتے ہیں، عام لوگ ان موشگافیوں میں نہیں پڑتے۔ لہٰذا اگر کسی اور ملک کو وینزویلا جیسے انجام سے بچنا ہے، تو اسے اپنی معاشی، اقتصادی، سماجی، سیاسی اور عسکری بنیادوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ محض دعاؤں کا سہارا باقی رہ جاتا ہے…… اور دعاؤں کی قبولیت کب اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ انسانی اختیار سے باہر کا معاملہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










