نصابِ تعلیم: اعتدال سے نظریہ سازی تک

Blogger Doctor Gohar Ali

پاکستان میں نصابِ تعلیم کبھی محض درسی مواد کا مجموعہ نہیں رہا، بل کہ ریاستی ترجیحات، سیاسی اُتار چڑھاو اور قومی بیانیے کی تشکیل کا ایک طاقت ور ذریعہ رہا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد کے برسوں میں اگرچہ نصاب میں مذہب اور قومی شناخت کا ذکر موجود تھا، تاہم مجموعی رجحان نسبتاً اعتدال پسند اور جدید قومی ریاست کے تصور سے ہم آہنگ تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ رجحان کب، کن ہاتھوں اور کن مقاصد کے تحت بدل کر مذہب مرکوز، نظریاتی اور عسکری قوم پرستی میں ڈھل گیا؟
اس تبدیلی کا سراغ ہمیں قیامِ پاکستان کے ابتدائی دستاویزات میں ملتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر واضح طور پر ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتی ہے، جہاں مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہو اور ریاست شہریوں کے درمیان امتیاز نہ کرے۔ اسی طرح 1947ء کی پہلی تعلیمی کانفرنس کی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کو جدید ترقی، سائنسی شعور اور قومی تعمیر کا ذریعہ سمجھا جا رہا تھا، نہ کہ کسی سخت نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کا آلہ۔
تاہم یہ صورتِ حال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ پہلا واضح موڑ 1959ء میں ایوب خان کے دور میں قائم ہونے والے ’’کمیشن برائے قومی تعلیم‘‘ کی رپورٹ سے سامنے آتا ہے۔ اس رپورٹ میں اگرچہ جدیدیت اور ترقی کی بات کی گئی، مگر ساتھ ہی ’’پاکستانی نظریہ‘‘ اور ’’اسلامی اقدار‘‘ کو تعلیم کے مرکزی مقاصد میں شامل کیا گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا، جہاں ریاست نے نصاب کو قومی نظریہ سازی کے ایک منظم آلے کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔
اصل اور گہری تبدیلی 1970ء کی دہائی میں رونما ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972ء کی تعلیمی پالیسی اور 1973ء کے آئین نے اسلام کو ریاستی شناخت کے ایک بنیادی ستون کے طور پر مستحکم کر دیا۔ آئین کی دفعات 31 اور 227 نے ریاست کو پابند کیا کہ وہ اسلامی طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔ اس آئینی پس منظر میں نصاب اور درسی کتب کا مذہبی رنگ گہرا ہونا ایک فطری نتیجہ تھا، اگرچہ اس مرحلے پر عسکریت اور جہاد کا بیانیہ ابھی پوری شدت سے سامنے نہیں آیا تھا۔
یہ شدت جنرل ضیاء الحق کے دور میں نمایاں ہوئی۔ 1979ء کی قومی تعلیمی پالیسی اور اسلامائزیشن کے سرکاری بیانات نے نصاب کو واضح طور پر مذہب مرکوز اور نظریاتی بنا دیا۔ افغان جہاد کے تناظر میں جہاد، شہادت، قربانی اور دشمن کی شیطانی تصویر کشی کو درسی مواد کا حصہ بنایا گیا۔ معروف محققین پرویز ہودبھائی اور اے ایچ نیر کے مطابق یہی وہ دور تھا، جب تاریخ، اُردو اور مطالعۂ پاکستان کی کتابوں میں جنگ، عسکری ہیروز اور مذہبی قوم پرستی کو مرکزی مقام ملا۔ اُن کے بہ قول یہ تبدیلی محض تعلیمی نہیں، بل کہ سیاسی تھی، جس کا مقصد فوجی حکومت کو اخلاقی و مذہبی جواز فراہم کرنا تھا۔
لسانیات اور تعلیم پر کام کرنے والے پروفیسر طارق رحمان اس عمل کو ’’نظریاتی ہم جنسیت‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق اُردو نصاب کے ذریعے ایک مخصوص مذہبی و قومی شناخت کو فروغ دیا گیا، جس میں اختلاف، تنوع اور تنقیدی سوچ کے لیے کم گنجایش رکھی گئی۔ کے کے عزیز نے تو اسے ’’تاریخ کا قتل‘‘ قرار دیا، جہاں حقائق کو نظریے کے تابع کر دیا گیا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس عمل میں بھارت کا ردِعمل یک طرفہ تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ 1990ء کی دہائی کے بعد بھارت میں بھی نصاب اور تاریخ نویسی پر سیاست کا اثر بڑھا۔ خاص طور پر ’’ہندوتوا‘‘ نظریے کے زیرِ اثر بعض درسی کتب میں مسلم حکم رانوں کی منفی تصویر کشی اور ہندو قوم پرستی کو اُبھارا گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ممالک میں نصابی قوم پرستی کی نوعیت اگرچہ مختلف ہے، مگر نتیجہ ایک جیسا ہے:ہم اور وہ کا بیانیہ۔
اس نصابی کشیدگی کے نتائج جنوبی ایشیا میں گہرے ہیں۔ ایک ایسی نسل پروان چڑھی ہے، جو ہمسایہ ملک کو فطری دشمن سمجھتی ہے، جنگ کو قومی فخر اور مذہبی فریضہ سمجھنے کی طرف مائل ہے، اور تاریخ کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کے بہ جائے مقدس داستان کے طور پر قبول کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف تعلیمی سطح پر نہیں، بل کہ سماجی اور سیاسی پولرائزیشن کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔
آج جب کہ دنیا تعلیم کو امن، مکالمے اور عالمی شہریت کے فروغ کا ذریعہ بنا رہی ہے، جنوبی ایشیا کے لیے یہ ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مذہب یا قومیت نصاب میں ہو یا نہ ہو، بل کہ سوال یہ ہے کہ کیا نصاب، سوچنے والے شہری پیدا کر رہا ہے یا صرف نظریاتی پیروکار؟
تاریخ بتاتی ہے کہ جب تعلیم کو ریاستی خوف اور طاقت کے بیانیے کے تابع کر دیا جائے، تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے